مسلمانوں پر مظالم کی بات ایوان میں اٹھی

0

عبیداللّٰہ ناصر

پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس اور صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک اڈانی گیٹ کے نام رہی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں الزام اور جوابی الزام زور شور سے لگائے گئے، یہ الگ بات ہے کہ حکومت نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے جانچ کے مطالبہ کو ہی یکسر مسترد نہیں کیا بلکہ ان سوالوں کے جواب بھی نہیں دیے جو لوک سبھا میں راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں ملیکارجن کھڑگے، مہوا مؤترا، منوج جھا، سنجے سنگھ اور اپوزیشن کے دیگر ممبران نے کیے تھے۔لیکن ملک کے مسلمانوں کے نقطہ نظر سے ایک بہتر بات یہ بھی ہوئی کہ اس اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم خاص کر بی جے پی کی حکمرانی والی یاستوں میں جس طرح مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کیا جا رہا ہے وہ زور شور سے اٹھایا گیا۔ لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری، کنور دانش علی، امتیاز جلیل، مولانا اجمل وغیرہ اور راجیہ سبھا میں کانگریس کے عمران پرتاپ گڑھی، منوج جھا اور دیگر ممبران نے ان معاملات کو زور شور سے اٹھایا اور مودی کے نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی مسلمانوں کے حوالہ سے بخیہ ادھیڑ کر رکھ دی۔حکومت سے پوچھا گیا کہ ایک جانب وہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ کی بات کرتی ہے دوسری جانب وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں38فیصد کی تخفیف کر کے اسے2013کے برابر لے آتی ہے۔ مولانا آزاد تعلیمی اسکالرشپ ختم کردی جاتی ہے، غریب مسلم بچوں کو مفت ابتدائی تعلیم فراہم کرنے والے مدرسوں کو نہ صرف بدنام کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی عمارتوں میں تکنیکی خامیاں نکال کر ان کی اصلاح کا موقع دیے بنا ان پر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے۔ پرانی مساجد کو غیر قانونی بتا کر انہیں مسمار کیا جا رہا ہے۔ ہر تاریخی مسجد کے نیچے کسی مندر کا شوشہ چھوڑ بابری مسجد کی طرح انہیں مندر میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کیا جارہا ہے۔عام سنگھی کارکن ہی نہیں آئین ہند کا حلف لے کر مجالس قانون ساز اور وزارتی عہدوں پر بیٹھے لوگ بھی مسلمانوں کو نشانے پر رکھتے ہیں اور بات بات پر انہیں پاکستان چلے جانے کی دھمکی دیتے ہیں۔شاید ملک میں مودی راج شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اتنے ممبران پارلیمنٹ نے مسلم مسائل کی بات پارلیمنٹ میں اتنے زور شور سے اٹھائی ہو۔حالاں کہ اس کی امید کم ہی ہے کہ حکومت کے کانوں پر ان ممبران کی باتوں کا کچھ اثر ہوگا اور وہ اپنے ایجنڈہ سے ہٹ کر فرقہ واریت کے اس طوفان کو روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش کرے گی۔جب نفرت آمیز تقریروں اور بیانوں کے خلاف سپریم کورٹ کے سخت احکام کو وہ درخور اعتنا نہیں سمجھتی اور اس کی ناک کے نیچے قومی راجدھانی میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کی کال دی جاتی ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے تو پارلیمنٹ کی تقریروں کا اس پر کیا اثر ہوگا۔لیکن بات اٹھائی گئی اور حکومت کو آئینہ دکھایا گیا، یہ بھی بڑی بات ہے ورنہ آج ملک میں جوماحول ہے اور جو سماج بنا دیا گیا ہے، اس میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم پر آواز اٹھانا بھی سیاسی خود کشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اترپردیش میں یوگی سرکار ہر ممکن طریقہ سے مسلمانوں کو پریشان کرتی ہے، بات بات پر ان کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیا جاتا ہے، معمولی جرم پر بھی این ایس اے اور یو اے پی اے لگادیا جاتا ہے۔
لیکن اس وقت سب سے زیادہ مصیبت میں آسام کے مسلمان ہیں۔ نئے نئے سنگھی بنے آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما، سنگھ کی نظروں میں سب سے قریبی ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے مسلم دشمنی میں یوگی کو بھی پچھاڑنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی مدرسے ان کے نشانہ پر ہوتے ہیں، کبھی مساجد، کبھی مسلمانوں کی بڑھتی آباد ی کا شوشہ چھوڑتے ہیں تو کبھی کچھ کبھی کچھ۔ آج کل انہوں نے کم عمری میں شادی کے پرانے معا ملات کو لے کر ایسی شادیاں کرنے والوں کو پاکسو قانون کے تحت جیل بھیجنے کی مہم شروع کی ہے اور اب تک تقریباً پانچ ہزار مسلمانوں کو جیل بھیج چکے ہیں۔یہ درست ہے کہ ملک میں بچوں کی شادی کے خلاف قانون موجود ہے اور ویسے بھی بچوں کی کم عمری میں شادی ان پر ظلم ہے لیکن پاکسو قانون بالکل دوسرے مقصد کے لیے بنایا گیا تھا اور حکومت کے اشارہ پر اس کا یہ بیجا استعمال محض مسلم دشمنی کے تحت کیا جا رہا ہے۔بچیوں کی کم عمری میں شادی مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں میں رائج رہی ہے اور راجستھان وغیرہ میں اب بھی یہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، مسلمانوں میں تو پھر بھی15-16سال کی عمر میں لڑکیوں کی شادی کر دی جاتی تھی، ہندوؤں میں تو بچی کو گود میں لے کر اس کے پھیرے لگوانے تک کے واقعات ہوتے تھے لیکن سماج میں جیسے جیسے بیداری آتی گئی اور تعلیم کا فروغ ہوا، ویسے ویسے یہ سماجی برائی ختم ہونے لگی، اس لیے کسی پرانی شادی کو اس دائرہ میں لانا محض بربریت ہی کہی جائے گی لیکن اقتدار کے نشہ میں بدمست حکمران نہ قانون کی فکر کرتے ہیں نہ آئین کی تو رواداری اور شرافت کی ان سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔آج حالت یہ ہے کہ بی جے پی کا ہر وزیراعلیٰ رات بھر یہ سوچتا ہے کہ صبح اٹھ کر اسے ایسا کون سا مسلم دشمن قدم اٹھانا ہے جس سے مسلمان پریشان ہوں اور ان کا ووٹ بینک بڑھے۔یہاں تک کہ الٹرا سیکولرسٹ کے طور پر جانے جانے والے آنجہانی ایس آر بومئی کے صاحبزادے بسوا بومئی جو اپنے والد کی روح کو شرمندہ کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور آج کرناٹک کے وزیراعلیٰ ہیں، وہ بھی اس معاملہ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اٹل برانڈ سیاست کے لیے جانے جانے والے شیوراج چوہان اور ان سے بھی دو ہاتھ آگے ان کے وزیر داخلہ نروتم مشرا سب فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔
جب حکمرانوں کا یہ رویہ ہو تو افسروں سے کسی اچھے کی کیا امید کی جا سکتی ہے، وہ تو حکم کے غلام ہوتے ہیں حالانکہ وہ بھی آئین ہند کی حلف سے بندھے ہوتے ہیں لیکن آئین کی پاسداری کا حلف لینا اب ایک رسم سے زیادہ کچھ نہیں ہے لہٰذا حکمرانوں کے اشارہ پر اور ان کی مرضی سمجھتے ہوئے پولیس اور افسر شاہی بھی مسلم دشمنی سے لبا لب بھری ہوئی ہے۔ اس معاملہ میں عدالتوں کا رویہ بھی معیاری نہیں کہا جاسکتا لیکن امید کا آخری مرکز تو وہی ہیں، اس لیے عدالتوں میں داد رسی تو کرنی ہی پڑتی ہے۔ صد یق کپن کو بنا کسی جرم کے تقریباً تین سال جیل میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا، اب کیرالہ کے اس صحافی کے لیے لکھنؤ میں ضامن کی تلاش ایک مسئلہ بن گئی۔ خدا بھلا کرے انسانیت کا، بزرگ مگر سب سے بہادر علمبردار لکھنؤ یونیورسٹی کی سابق وائس چانسلر پروفیسر روپ ریکھا ورما، وہ سب سے پہلے کپن کی ضمانت کے لیے سامنے آئیں۔ اس کے بعد صحافی کمار سو ویر اور علیم اللہ خان نے ضمانت کے کاغذات پیش کیے اور کپن کو ناکردہ جرم میں ضمانت پر رہائی ملی۔ ادھر دہلی کی عدالت نے شرجیل امام، صفورہ زرگر سمیت دس ملزمان کو نہ صرف بری کیا بلکہ دہلی پولیس کے لیے واضح طور پر کہا کہ وہ اصل مجرموں کو گرفتار نہیں کر سکی اور ان لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا۔ صاف ظاہر ہے کہ دہلی پولیس جو کبھی ملک کی بہترین پولیس فورس شمار کی جاتی تھی، وہ بھی حکومت کی خوشنودی اور ان کے اشارہ پرمظلوموں کو پھنسا کر اپنی نیک نامی پر بٹہ لگا چکی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عدالت کی اتنی سخت سرزنش کے بعد متعلقہ پولیس والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جاتی مگر یہ سوچنا بھی مذاق ہے۔
راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘، آر ایس ایس کے خلاف ان کا واضح موقف اور سخت رویہ،پارلیمنٹ میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی بات کا یوں بیباکی سے اٹھایا جانا، سپریم کورٹ کا نفرتی بیانوں پر سخت رویہ، دہلی کی عدالت کا دہلی پولیس پر سخت موقف، ان سب کو اگر ملا جلا کر دیکھا جائے تو اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھائی دیتی ہے حالانکہ گزشتہ دس برسوں میں سماج میں جو زہر گھول دیا گیا ہے، اس کے اثرات کو زائل کرنے میں بہت وقت، سخت محنت اور جہدمسلسل ضروری ہے لیکن اندھیری سرنگ میں روشنی کی لکیر بہت امید افزا دکھائی دیتی ہے۔
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS