آج زیادہ ہے عدم تشدد کی اہمیت!

0

2 اکتوبر کا دن ایک اہم دن ہے۔ اسی دن 1869 کو موہن داس کرم چند گاندھی پیدا ہوئے تھے جنہیں بعد میں ’مہاتما‘ کہا گیا اور آج وہ مہاتما گاندھی نام سے ہی عالمی شہرت رکھتے ہیں۔ موہن داس کرم چند گاندھی سے مہاتما گاندھی کے سفر کو سمجھنا ضروری ہے،کیونکہ اس سفر کو سمجھے بغیر ان کے عدم تشدد کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آئے گا اور عدم تشدد کے فلسفے کو سمجھے بغیر 2 اکتوبر کی اہمیت کو سمجھنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے، البتہ اسے سمجھنے کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں رہ جائے گا کہ روسی رائٹر اور ’وار اینڈ پیس‘جیسے شاہکار ناول کے مصنف لیو ٹولسٹائے، مہاتما گاندھی سے متاثر کیوں تھے۔ نسل پرستی کے خلاف جنگ لڑنے والی مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، روزا پارکس اور نیلسن منڈیلا جیسی شخصیتوں نے مہاتما گاندھی سے تحریک کیوں لی۔ سچ تو یہ ہے کہ مہاتما گاندھی نے دنیا بھر کے انسانوںکو یہ احساس دلانے کی کامیاب کوشش کی کہ انسانیت کی بقا اوراس دنیا کو سبھی لوگوں کے لیے جائے امن بنائے رکھنے کے لیے عدم تشدد کی اہمیت ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ وہ خود تشدد کا شکار ہوئے۔ یہ بات الگ ہے کہ 30 جنوری، 1948 کو ناتھورام گوڈسے کو مہاتما گاندھی کا قتل کرنے میں کامیابی ضرور مل گئی مگر ان کے عدم تشدد کے فلسفے کا قتل وہ نہیں کر سکا۔ اس فلسفے کی اہمیت وطن عزیز کے لوگ آج زیادہ شدت سے محسوس کرتے ہیں تو دنیا بھر کے امن پسند لوگ بھی اس فلسفے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جب جب لنچنگ کا واقعہ ہوا یا لنچنگ کے ملزمین کا استقبال ہار پہناکر کیا گیا، مذہب، ذات یا کسی اور نام پرکسی بے قصور انسان کا قتل ہوا تو بڑی شدت سے عدم تشدد کے فلسفے کی اہمیت محسوس کی گئی۔ 2006 میں بننے والی فلم ’لگے رہو منا بھائی‘ نے یہ احساس کرایا کہ ’گاندھی گیری‘ سے لوگوں کی دلچسپی ختم نہیں ہوئی ہے، بس اس سے نئی نسل کو واقف کرانے کی ضرورت ہے۔
اور ہمارے ملک کی ہی نئی نسل کیوں، دنیا بھر کی نئی نسل کو مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے، کیونکہ آج اس فلسفے کی اہمیت پوری دنیا کے لوگوں کے لیے بڑھی ہے، اس لیے کہ یوکرین جنگ جاری ہے اور روسی لیڈروں کے بار بار ایٹم بم کا استعمال کرنے کے تذکرے سے یہ اندیشہ بڑھ جاتا ہے کہ کہیں یہ جنگ تیسری عالمی جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے۔ ادھر چین نے تائیوان پر مسلسل دباؤ بنائے رکھا ہے، کبھی بھی ایک اور جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔ مسئلۂ فلسطین ابھی سلجھا نہیں ہے، شام کی خانہ جنگی جاری ہے۔ افغانستان میں مستقل اور مکمل قیام امن ایک چنوتی ہے۔ میانماراور شمالی کوریا میں غیر جمہوری حکومتوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ یمن، صومالیہ، لیبیا، عراق اور دیگر کئی ممالک امن کے لیے ترس رہے ہیں۔ سری لنکا کے بحران نے چین کے ’قرض-جال‘ کی سنگینی اور اس سے انسانوں کے لیے پیدا ہونے والے مسئلوں اور ان مسئلوں کے پرتشدد ہو جانے کے اندیشوں کا احساس دلایا ہے۔ سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کے خلاف چینی حکومت کا جبر بھی عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔ امریکہ میں رہ رہ کر نسل پرستی سے متاثرہ واقعات کا ہونا یہ احساس دلاتا ہے کہ امریکہ کو ابھی اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور روزا پارکس کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں ہی مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے سے متاثر تھے اور ان دونوں نے ہی ان کے فلسفے کی اہمیت کو اپنے قول و عمل سے ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔ 28 اگست،1963کو مارٹن لوتھرکنگ جونیئر نے کہا تھا، ’میرا ایک خواب ہے‘ تو وہ نسل پرستی سے امریکہ کو نجات دلانے اور سیاہ فام لوگوں کے لیے نسل پرستی سے پاک امریکی سماج کی تشکیل کے خواب کی تعبیر عدم تشدد کی راہ پر چل کر ہی حاصل کرنا چاہتے تھے، سمجھا گیا تھا کہ اوباما کا امریکہ کا صدر بن جانا ان کے خواب کی ہی تعبیر ہے مگر اوباما کی مدت صدارت میں ہی سیاہ فام پولیس والوں نے 17 جولائی، 2014 کو ایرک گارنرکی سانسیں گلے میں گھونٹ کریہ بتا دیا تھا کہ عدم تشدد کے فلسفے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر طرح کے تعصب، ناانصافی اور تشدد سے مسلسل نبرد آزما رہا جائے، منہ دیکھ کر یا نام کا خیال کرتے ہوئے انصاف کا ایک سے زیادہ معیار نہ قائم کیا جائے۔ گاندھیائی فلسفے سے متاثر نیلسن منڈیلا بھی اس انصاف کے خلاف تھے جو انصاف کے نام پر ایک مذاق ہو۔ یہ بات الگ ہے کہ یہ مذاق آج دنیا کی کئی عدالتوں میں ہوتا ہے، ایک جیسے دو معاملوں میں سے ایک معاملے میں ضمانت دینے میں تعجیل، دوسرے معاملے میں تاخیر کی یہی وجہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں میڈیا کو صحیح انصاف کا نظام قائم کرنے میں معاون بننا چاہیے، کیونکہ انصاف دیے بغیر عدم تشدد کے فلسفے کی وہ اہمیت نہیں رہے گی جس کا یہ فلسفہ متقاضی ہے۔
[email protected]