جی20 اجلاس میں جنگ روکنے اور امن پر توجہ مرکوز کی گئی

0

بالی:(یو این آئی) انڈونیشیا کے دارالحکومت بالی میں منعقدہ جی 20 چوٹی کانفرنس انتہائی جارحانہ اور سرد جنگ کے سائے میں رہی۔روس یوکرین تنازعہ اور امریکہ چین کشیدگی دونوں کا جی 20 ممالک کے سالانہ اجلاس میں غلبہ رہا۔ صدر ولادیمیر پوتن نے اس سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کی کیونکہ یوکرین کے خلاف روس کی جارحیت ایجنڈے میں رکھ گئی تھی۔تنازعات کی وجہ سے پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی معیشت پر اس کے دور رس اثرات، بشمول سپلائی چین میں خلل اور توانائی و خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، سربراہی اجلاس کے اہم خدشات تھے، جو دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں پر حاوی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔ مسٹر زیلنسکی نے روس سے اپنی فوجیں واپس بلانے اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن ان امن کی تجاویز کو خارج کیا جو یوکرین کی “خودمختاری، علاقائیت اور آزادی” کے لیے خطرناک ہے۔
چوٹی کانفرنس ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اختتام پذیر ہوئی جس میں کہا گیا کہ “آج کا وقت جنگ کے لیے نہیں ہونا چاہیے” اور جوہری ہتھیاروں کا استعمال یا استعمال کرنے کی دھمکی “ناقابل قبول” ہے – یوکرین بحران بڑھنے پر جوہری آپشن کا سہارا لینے والی پتن کی دھمکی کے تںاظر میں۔ اس بیان کے ذریعے ماسکو کو ایک اہم پیغام بھی دیاگیا۔
لیکن چوٹی کانفرنس کے موقع پر امریکی صدر جو بائیڈن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات بین الاقوامی استحکام کے لیے انتہائی اہم تھی، جودوعالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی علامت بھی تھی۔ بائیڈن کے صدر بننے کے بعد دونوں رہنماؤں کے ابتدائی بیانات نے تعلقات میں بہتری کا اشارہ دیا، جو حالیہ برسوں میں تاریخی طورپر نچلی سطح پر پہنچ گیاتھا، جس سے دنیا میں ایک نئی سرد جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے تھے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر بائیڈن کو بتایا کہ چین -امریکہ کے تعلقات کی موجودہ حالت دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں ہے اور اسے “صحت مند اور مستحکم راستے” پر چلنے کی ضرورت ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ دونوں ممالک کے لیے ضروری اور عالمی مسائل پر مل کر کام کرنا بہت “اہم” ہے۔
بائیڈن نے بعد میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ تنازعات کے خواہاں نہیں ہیں اور نئی سرد جنگ سے بچنے کے لیے امریکہ -چین کے درمیان مقابلے کو روکنا چاہیے۔
صدر شی نے بائیڈن کی اس یقین دہانی کا خیرمقدم کیا کہ واشنگٹن تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا اور واضح کیا کہ تائیوان چین کے لیے تائیوان “پہلی لکشمن ریکھا” ہے جسے چین-امریکہ تعلقات میں عبور نہیں کیا جانا چاہیے”۔ میٹنگ سے پہلے، چین کی وزارت خارجہ نے ایک سخت پیغام دیتے ہوئے کہاتھا کہ امریکہ ایک چین کے اصول میں ہیراپھیری، توڑ پھوڑ اور کھوکھلاپن کرنا بند کرے اور بین الاقوامی تعلقات کے حقیقی اصولوں پر سختی سے عمل پیراہو۔