پہل کے ثمرات

0

مقابلہ میں پہل کی اہمیت مسلم ہے ۔دو بدو لڑائی ہو یا دور سے ہی تیر و تفنگ کا استعمال، پہل کرنے والا فریق سرخ رو ٹھہرتاہے اور سرفرازی اس کا مقدر بنتی ہے ۔ پہل کی یہ افادیت صرف میدان جنگ میں ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہرشعبہ میں کامیابی کے پیچھے پہل اور پیش قدمی کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ سیاست اور انتخابی سیاست کے میدان میں بھی پہل کا یہ قدم کامیابی کی کلیدسمجھاجاتا ہے۔ 18جولائی کو ہونے والے صدر جمہوریہ ہند کے انتخاب کیلئے دروپدی مرموکی نامزدگی داخل کرکے حکمراں این ڈی اے نے پہل کا فائدہ حاصل کرلیا ہے۔ جمعہ کے روز این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صدارتی انتخاب کیلئے راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل اور ریٹرننگ افسر کے چیمبر میں اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا۔ ان کے موئیدوزیر اعظم نریندر مودی بنے ۔ان کی نامزدگی کے دوران ان کے ہمراہ وزیر داخلہ امت شاہ، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ، سینئر وزرا نتن گڈکری، پرہلاد جوشی، اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسوا راج بومئی، آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما، ہماچل پردیش کے وزیراعلیٰ جئے رام ٹھاکر، اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور گوا کے وزیراعلیٰ پرمود ساونت کے علاوہ بی جے پی کی حکومت والی دیگر ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، مودی حکومت کے کئی وزرا، اراکین پارلیمنٹ اور بی جے پی سے وابستہ سابق فوجیوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔
کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس سے انکار کیاجائے کہ صدارتی انتخاب کیلئے این ڈی اے کے اب تک کے اقدامات اس کی امیدوار دروپدی مرمو کی کامیابی کو یقین کی منزل کے قریب لے آئے ہیں۔امیدوار طے کرنے سے لے کر اب تک این ڈی اے کے اقدامات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ انتخابی میدان میں اس کی برتری کو چیلنج کرنا مشکل ہے۔ ا میدوار کے طور پر دروپدی مرمو کا انتخاب ہی اپنے آپ میں ’تاریخی‘ اہمیت کا حامل ہے ۔
یہ بات ناقابل تردید ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے بی جے پی کے سیاسی مفاد کی مساوات ہے اوراسے یقین ہے کہ دروپدی مرمو کے نام پر متعدد علاقائی سیاسی جماعتیں اس انتخاب میں حمایت کریں گی۔بی جے پی نے حساب کتاب پہلے ہی کرلیا تھا اور سیاسی مساوات کو سمجھنے کے بعد ہی سماجی جبر کی چکیوں میں پسنے والے قبائلیوں کی نمائندہ خاتون کو اپنا صدارتی امیدوار بنا کر ایک ساتھ کئی کامیابیوںکی راہ ہموار کرلی ہے۔اگلے سال گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں انتخابات ہونے ہیں۔ان چار ریاستوں میں کل 128 سیٹیں درج فہرست ذاتوں یعنی قبائلیوں کیلئے محفوظ ہیں۔گزشتہ انتخابات میں ان ریاستوں سے بی جے پی کو صرف 35 سیٹیں ملی تھیں۔ملک کی تقریباً 9 فیصد آبادی قبائلیوں سے تعلق رکھتی ہے جنہیں اپنے میں سے کسی کو ملک کا آئینی سربراہ دیکھنے کیلئے آزادی کے بعد سے اب تک انتظار کرنا پڑاتھا۔ لہٰذا، اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی ایک قبائلی خاتون دروپدی مرموکو صدارت کیلئے امیدوار نامزد کرکے بی جے پی نے قبائلیوں کی ہمدردی کارخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔اڑیسہ کی بیجو جنتادل نے پہلے ہی حمایت کا اعلان کررکھا ہے، ادھر جھارکھنڈ میں کانگریس کی حمایت سے سرکار چلارہی جھارکھنڈ مکتی مورچہ بھی قبائلی خاتون کا نام سامنے آتے ہی این ڈی اے کی طرف سرپٹ دوڑ گئی۔ آندھرا پردیش کی حکمراں وائی ایس آر کانگریس پارٹی مرمو کی حمایت میں بی جے پی اور این ڈی اے کے ساتھ کھڑی ہے۔ دوسرے قدم کے طور پربی جے پی نے اپنے اورا تحادی جماعتوں کے قبائلی اور پس ماندہ برادری کے ارکان پارلیمنٹ سے تائیدی دستخط کرواکر بھی بلند آہنگ سیاسی پیغام دیا ہے۔ارکان پارلیمنٹ اور ریاستوں کے ارکان قانون ساز اسمبلی کے ووٹوں کی تعداد کے حساب سے بھی این ڈی اے کے پاس 5 لاکھ 26 ہزار 966 ووٹ ہیں اور یوپی اے کے پاس صرف دو لاکھ 64 ہزار 158 ووٹ ہیں۔اور کسی بھی امیدوار کی جیت کیلئے 5 لاکھ 39 ہزار 458 ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے، اس طرح این ڈی اے کو اپنے امیدوار کی جیت کیلئے صرف 12 ہزار 492 ووٹ ویلیو کی ضرورت باقی ہے۔ بی جے ڈی اور وائی ایس آر کانگریس کی حمایت سے اکثریت کایہ ہندسہ بھی آسانی سے عبور کیاجاسکتا ہے۔
یہ تمام مساوات مل کر این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو کو راشٹرپتی بھون پہنچانے کیلئے کافی ہیں ۔اب اگر حزب اختلاف ایڑی چوٹی کا زور لگالے اور اس میں شامل تمام پارٹیاں پوری طرح سے متحد ہوکر بھی اپنے امیدوار کوووٹ دیں تب بھی اس کے امیدوار کی جیت محال ہے۔حزب اختلاف نے بڑی لیت و لعل کے بعد سابق بی جے پی لیڈر ومرکزی وزیرا ور موجودہ ترنمول کا نگریس لیڈر یشونت سنہا کو اپنا امیدوار بنایا ہے جن کی نامزدگی اب تک داخل نہیں کی جاسکی ہے اور نہ ہی ان کے نام پر پوری حزب اختلاف متحد ہوسکی ہے ۔صدارتی انتخاب بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کا ایک سنہرا موقع تھا جو ہاتھ سے نکلتا نظرآرہاہے اور پہل کے ثمرات این ڈی اے و بی جے پی سمیٹ رہی ہیں۔
[email protected]