قومی سطح پر سیاسی قیادت کی خواہش رکھنے والوں کا حشر

0

گذشستہ کچھ عرصہ سے خصوصاَ مغربی، بنگال اسمبلی کے انتخابات کے بعد قومی سطح پر حزب اختلاف کے کچھ علاقای رہنماوں کو قومی سطح پر قیادت کرے کی خواہش یوں کہیے کہ جنون پیدا ہوا ہے بطاہر یہ خواہش کوی بری بات تو نہیں لیکین ملکی سطح پر ان کی قابل قبول حیسیت ضرور دیکھی جانی چاہیے.  اچھا اس خواہش کے ساتھ ایک اور دلچسپ خواہش یہ کہ اس میں کانگریس نہ ہو اب تک تو یہ کہا جاتا تھا کانگریس علاقای پارٹیوں کو تعاون نہیں کرتی ہے اب اس کے بر عکس علاقای پارٹیوں کا یہ موقوف وہ تو کچھ پارٹیوں نے بہت واضح طور پر جتادیا کہ کانگریس سے ہٹ کر یہ ناممکن ہے.

اسمیں ممتا بینرجی اور چندر شیکھر راو پیش پیش تھے ذرایع ابلاغ نے اسکو بہت اچھالا بھی اور تیلنگانہ کے کچھ ا اخبارات نے تو. چندر شیکھر راو کی بہت پشت پناہی کی.

ممتآ بینرجی نے شاید بنگال کو ہندستان سمجھ لیا تھا کہ وہ اب ملکی سطح پر قیادت کرنے کی اہل  ہے حالانکہ بنگال کی ان کی جیت میں کی عوامل کارفرما رہے ہیں جس پر الگ سے بحث کی جا سکتی ہے. بات یہ ہے کہ اور علاقای پارٹیوں کی طرح ان کا مقصد کانگریس کو قومی سطح کے منظر سے الگ کرنا تھا اور اسکا فیدہ کس کو ہوتا یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور یہی کام انحںوں نے گوا میں جاکر کیا ان لوگوں نے اپنی اپنی ریاست سے کانگریس کو ختم کرنے کا  کام تو لیکین اب ان کے بھی ختم ہونے کا وقت تیلنگانہ میں تو پہ، قریب ہے اور مغربی بنگال میں بھی بی جے پی بہت بری طرح ہاری ہے ایسا کوی کہتا ہے تو غلط کہتا ہے.

ایک اور خاص بات یہ کہ یہ علاقای پارٹیاں انہی ریاستوں میں پہنچ جاتی ہے جہاں بی جے پی کا راست مقابلہ کانگریس سے ہے اور وہاں کیا ہوتا ہے وہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں اب کوی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ جمہوریت الیکشن لڑنے کا حق تو سب کا ہے صحیح ہے لیکین جس ریاست آپ جارہے ہیں وہاں آپ کو اپنی طاقت بھی تو دیکھنا ہوگی.

بہر حال ممتا جی جو خود کبھی این ڈی اے کا حصہ رہ چکی اور انکی مشکوک مستقل مزاجی کی وجہہ سے ان کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی

عبدالصمد

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS