توانائی کے ذخائر پر بڑی طاقتوں کی نظر

0

لیبیا میں 2015میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد کرنل قذافی کی حکومت بکھر گئی اور وہاں طویل خانہ جنگی اور برادرکشی کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں قومی مصالحت کی عبوری سرکار بن گئی۔ مگر تمام بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں قیام امن ممکن نہیں ہوسکا ہے اور اب وہاں اقتدار کے دو ایسے مراکز بن گئے ہیں جو اقوام متحدہ کی مفاہمتی سرکار کی کوششوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن گئے ہیں۔ لیبیا کی قومی آرمی ایل این اے کے لیڈر جنرل خلیفہ حفتر اور جی این اے کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی تیز ہوگئی ہے۔ جی این ایل قومی پارلیمنٹ ہے اور وہ اپنے آپ کو جمہوری نظام کی دائمی نمائندہ سمجھتی ہیں۔ بیرونی طاقتیں اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کرچکی ہے مگر اس صورت حال سے نکلنے کا فی الحال امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک میں طاقت کے دونوں محوروں نے اپنے اپنے سینٹرل بینک کھول لیے ہیں۔ یہی نہیں دونوں فریقوں نے تیل کے خزانوں پر کنٹرول جمالیا ہے۔ جی این اے لیڈر فیاض سرتاج اور ایل این اے جنرل خلیفہ حفتر کی فوجیں پٹرول کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے برسربیکار ہیں۔ لیبیا میں پٹرولیم مصنوعات کی سب سے بڑی کمیٹی نیشنل آئیل کارپوریشن( لیبیا این او سی) کے علاوہ علاقائی تیل کے ذخائر ہیں۔ این او سی نے دسمبر2018میں سب سے بڑے تیل کے دفتر کے EI Shararaکو سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے بند کردیا تھا بعد میں ایل این اے نے اعلان کردیا کہ اس مسئلہ کو حل کرلیا گیا اور تیل کی پیدا وار شروع کی جاسکی ہے۔ مگر کارپوریشن کے چیئرمین نے کام شروع کرنے سے منع کردیا کیونکہ ان کو لگتا ہے کہ دہشت گردی کی وجہ سے تیل کی تنصیبات کو مکمل طور پر سکیورٹی نہیں دی جاسکتی ہے۔
لیبیا میں حالات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں ۔ آئی ایس آئی ایس نے اس ذرخیز علاقے پر کنٹرول کرنا شروع کردیا۔ عراق اور ملک شام میں طاقت حاصل کرنے کے بعد لیبیا میں بھی اپنے قدم جمالیے ہیں۔
لیبیا 42سال تک کرنل قذافی کے اقتدار میں رہا 1969میں برسراقتدار آنے والے کرنل قذافی کسی بھی عرب ملک کے سب سے زیادہ طویل عرصہ تک اقتدار میں رہنے والے لیڈر تھے۔ فروری 2011میں ’ عرب بہاریہ‘ کی آندھی میں کئی عرب اور مسلم ملکوں کو برباد کردیاگیا اور اہل مغرب نے اس موقع کو خطے میں عدم استحکام اور سیاسی بے چینی پیدا کرنے کا موقع سمجھ کر اپنے حریفوں کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی ۔ کئی جگہوں پر تو کامیاب ہوگئے مگر کئی مسلم ملکوں میں عدم استحکام پیدانہیں کیا جاسکا۔ اس میں پہلے زمرے میں تیونس لیبیا اور دوسرے زمرے میں بحرین اور مصر کو رکھا جاسکتا ہے، بہر کیف لیبیا کرنل قذافی کے زوال کے گیارہ سال بعد بھی خانہ جنگی اور برادر کشی کا شکار ہے۔
یوکرین میں روس حملہ کے بعد دنیا میں توانائی خاص طور پر پٹرولیم اور گیس کی شدید قلت ہوگئی تو لیبیا میں سب بڑی تیل کمپنی میں تیل نکالنے پر پابندی لگا دی گئی۔ اس سے فائدہ حاصل کرنے کا موقع لیبیا حاصل نہیں کرسکا۔ پچھلے دنوں مارچ کے وسط میں لیبیا کے چھ ٹر مینلوں کو بند کردیا تھا اور اب حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ کئی کمپنیوں میں ملازمین کو دینے کے لیے تنخواہیں نہیں ہیں اور اس وجہ سے روز مرہ کا م کاج بھی متاثر ہورہا ہے۔ لیبیا تیل پیدا کرنے والا افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔ جنرل خلیفہ حفتر کی فوج نے سدرہ لالوف زیسٹا ٹائن بریگا او ہریگا میں تیل کے ذخائر بند کردیے ہیں۔ اس سے قبل دونوں متحارب گروپوں کی جنگ کی وجہ سے جنوبی لیبیا میں دو اور علاقوں الشیط اور الدخل میں تیل نکالنے کا کام بند کردیا گیا تھا۔ جنرل حفتر کی طرف سے عائدپابندیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت کو زبردست خسارہ ہورہا ہے ۔ یہ خسارہ 5بلین امریکی ڈالر سے بھی زیادہ کا بتا یا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا تیل ذخائر خانہ جنگی کے شکار مشرقی علاقوں میں ہیں۔ یہاں سے نکلنے والا پٹرولیم ایکسپورٹ کی 60فیصد ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS