الیکشن کمیشن راہل کیخلاف شکایت پر 8 ہفتوں میں فیصلہ کرے: ہائی کورٹ

0

نئی دہلی (ایس این بی): ہائی کورٹ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور تاجر گوتم اڈانی کے لیے جیب کترا اور پنوتی جیسے الفاظ کا استعمال درست نہیں ہے۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔ ایسے الفاظ کے استعمال پر پابندی کے لیے صرف مرکزی سرکارہی پالیسیاں اور قانون بنا سکتی ہے۔ یہ اس کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ عدا لت نے یہ تبصرہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی طرف سے دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کیا ہے جس میں ان الفاظ کے مبینہ استعمال پر مذکورہ لیڈروں اور تاجروں کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایات دینے سے بھی انکار کردیا۔ قائم مقام چیف جسٹس منموہن اور جسٹس منی پشکرنا کی بنچ نے کہا کہ بتایا گیا ہے کہ ایسے الفاظ کے استعما ل کے بارے میں الیکشن کمیشن کو بھی شکایت کی گئی ہے اور وہ اس پر غور کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں الیکشن کمیشن کو شکایت کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس پر 8 ہفتوں کے اندر فیصلہ کرتے ہوئے مناسب کارر وائی کرنی چاہیے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اس سے متعلق عرضی کا نمٹا رہ کردیا۔

عدالت نے یہ ہدایت ایک پی آئی ایل کی سماعت کے دوران دی جس میں راہل گاندھی کے خلاف کار روائی کے ساتھ ساتھ سیاسی لیڈروں کی جانب سے اس طرح کے الفاظ کے استعمال پر پابندی کے لیے رہنما خطوط تیار کرنے کی بھی درخواست کی گئی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے انہیں 23 نومبر کو نوٹس جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر انہوں نے 26 نومبر سے پہلے جواب نہیں دیا تو وہ ان کے خلاف کارروائی کرے گا، لیکن راہل گاندھی نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: لوک سبھا کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

اس پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو شکایت کی جلد سماعت کرنے اور مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ ماہ، 23 نومبر کو، الیکشن کمیشن نے گاندھی کو پی ایم مودی پر طنز اور جیب تراشی کے حوا لے سے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ انہیں 26 نومبر سے پہلے جواب دینے کو بھی کہا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS