روزگار کے مواقع بڑھائے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب بے معنی

0

عبیداللّٰہ ناصر

2014 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدور نریندر مودی نے عوام سے کئی وعدے کیے تھے جو بی جے پی کے انتخابی منشور کا حصہ تھے، اس کے ساتھ ہی کچھ در پردہ وعدے بھی تھے جسے سمجھنے والے سمجھ رہے تھے، سمجھانے والے جن کو سمجھانا چاہتے تھے، انہیں سمجھا بھی رہے تھے لیکن جن کی چرچا کبھی نہیں ہوئی،یہ درپردہ وعدہ تھا ملک میں گجرات ماڈل نافذ کرنا۔ یہ وہ ماڈل تھا جس کا خواب تقریباً ایک سو سال پہلے ڈاکٹر منجے، ان کے چیلے ڈاکٹر ہیڈ گوار وغیرہ نے دیکھا تھا اور جس کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے 1925میں آر ایس ایس قائم کی گئی اور جس کے وفادار پرچارکوں نے تقریباً100سال محنت کی۔ شکست در شکست کا سامنا کیا، کبھی سماج میں نفرت کی نگاہ سے بھی دیکھے گئے، معاشی مشکلات بھی جھیلیں لیکن کبھی اپنے پائے استقامت کو لرزنے نہیں دیا، آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جس طرح سے قدم قدم پر آر ایس ایس کے نظریہ کو کامیابی مل رہی ہے، یہ اس کے لاکھوں پرچارکوں کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔ لیکن کیا اس کامیابی کو رول ماڈل بنایا جا سکتا ہے؟ گاندھی جی نے کہا تھا کہ نیک مقصد کے حصول کے لیے نیک راستہ بھی اختیار کرنا ضروری ہے جبکہ صہیونی پروٹوکول کے مطابق کامیابی ہر طریق کار کو درست قرار دے دیتی ہے۔آر ایس ایس نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے دوسرا یعنی گاندھیائی نہیں صہیونی راستہ اختیار کیا، یہی نہیں آج تک اسی پر عمل بھی کر رہی ہے۔ ہندوستان کی داخلی سلامتی کے معاملات میں صہیونی /اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد کی بطور مشیر کار شمولیت اسی دیرینہ تعلق کا نتیجہ ہے۔
لیکن یہ پیراگراف تو در اصل زیب داستاں کے طور پر لکھا گیا ہے، ہمارا اصل موضوع آج مودی جی کے وہ وعدے ہیں جو انہوں نے ملک کی معیشت اور نوجوانوں کو روزگار دینے سے متعلق کیے تھے اور ان وعدوں کے بر خلاف ان دونوں محاذوں پر ملک کی اصل حقیقت کیا ہے۔2014 میں ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت تھا، جس تیز رفتاری سے ہندستانی معیشت رو بہ عروج تھی اس کو دیکھتے ہوئے عالمی معاشی ادارے امید ظاہر کر ر ہے تھے کہ2025تک ہندوستان نہ صرف تیسری سب سے بڑی معاشی طاقت بن جائے گا بلکہ وہ ترقی پذیر ملکوں کے زمرہ سے نکل کر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے گا۔2004 سے 2014 کے درمیان محض دس برسوں میں ہی تقریباً 22 کروڑ لوگوں کو خط افلاس سے نکال کر متوسط طبقہ میں لایا گیا۔ معیشت میں زبردست اچھال تھا، بے روزگاری اپنی نچلی سطح پر تھی، گریجویشن کرلینے کے بعد نوجوانوں کے سامنے روزگار کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، آئی ٹی، تعمیرات، ٹیلی کام جیسے متعدد زمروں میں روزگار کی بھرمار تھی۔منریگا پروگراموں نے دیہی معیشت کی ہی نہیں دیہی ہندوستان کی تصویر بدل دی تھی۔ اسی زمانہ میں غذائی تحفظ قانون اور حق تعلیم جیسے انقلابی پروگرام بھی شروع کیے گئے تھے۔
اس کے بر خلاف آج کی تلخ حقیقت کیا ہے؟ حالانکہ اس تلخ حقیقت کو جھوٹی خبروں کی کارپیٹ بمباری کے ذریعہ کامیابی کے ساتھ چھپایا جا رہا ہے مگر انفار میشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں چھپایا نہیں جا سکتا۔جو خبر ہندوستانی میڈیا نہیں دیتا یا جسے توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے وہ غیر ملکی میڈیا ہی نہیں سوشل میڈیا کے ذریعہ عوام تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ دیگر بات ہے کہ عوام کو جارحانہ قوم پرستی اور ہندو احیا پسندی کے ایسے مکڑ جال میں الجھا دیا گیا یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستانی عوام کے ایک بڑے طبقہ کو اسٹاک ہام سنڈروم نامی بیماری میں مبتلا کر دیا گیا جس کا مریض اپنا استحصال کرنے والے کو ہی اپنا مسیحا مان بیٹھتا ہے۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ نوٹ بندی کے ناعاقبت اندیشانہ فیصلے سے ہندوستانی معیشت کا جو زوال شروع ہوا تھا وہ جی ایس ٹی اور کورونا وبا سے لائی تباہی کے بعد ہندوستانی معیشت کی کمر توڑ چکا ہے۔ ہندوستان کو عالمی بینک ترقی پذیر ملکوں کے زمرہ سے بھی نکال چکا ہے، اس پر غیر ملکی قرض اس کی جی ڈی پی کا تقریباً90 فیصد تک پہنچ چکا ہے، گرانی مسلسل اپنے ریکارڈ خود ہی توڑتی چلی جارہی ہے، کارو بار قریب قریب ٹھپ پڑے ہوئے ہیں، مستقبل محفوظ کرنے والی سرکاری نوکری کا سلسلہ ملازمت کے متلاشی نوجوانوں کے لیے ہی نہیں بند کر دیا گیا ہے، بلکہ صلاحیتوں کا جائزہ لے کر پچاس سال کی عمر کو پہنچ چکے سرکاری ملازمین کو جبریہ ریٹائر کرنے کی پالیسی نافذ کر کے ان خوش قسمتوں کو بدقسمت بنایا جا رہا ہے، جوسرکاری ملازمت پا چکے تھے۔ پچاس سال کی عمر ہو جانے کے بعد عام طور سے لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، بیٹی کے ہاتھ پیلے کرنے، اپنی ایک چھت ہونے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے، اولادوں کی بہتر اور کریئر بنانے والی تعلیم دلانے کی تگ و دو اسی عمر سے شروع ہوتی ہے، ایسے موڑ پر لا کر کسی کو بیروزگار کر دینے کی بات کوئی فلاحی ریاست کا سربراہ کیسے کر سکتا ہے لیکن پھر وہی کہاوت مودی ہے تو ممکن ہے۔
سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی(سی ایم آئی ای) کی تازہ رپورٹ کے مطابق جون2022کے آخری ہفتہ میں ہندوستان میں بیروزگاری کی شرح 8فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایک طرف حکومت ان اعداد و شمار کو غلط بتا رہی ہے، دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ بیروزگاری کی شرح حقیقت میں اس سے بھی زیادہ ہے۔ سب سے سنگین صورت حال یہ ہے کہ45کروڑ نوجوان ملازمت پانے کی امید ہی کھو چکے ہیں، ان نوجوانوں کی ذہنی کیفیت کو ایک درد مند دل ہی سمجھ سکتا ہے، نفرت کی آگ میں جل رہے لوگ نہیں۔ مایوسی کی وجہ سے لاکھوں نوجوان ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہے اور بہت سے خود کشی جیسے انتہائی قدم بھی اٹھا رہے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ آگرہ میں پیش آیا جہاں ایک بیروزگار نوجوان نے اپنی دو معصوم پیاری بیٹیوں اور بیوی کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کرلی۔حالانکہ اپنی عادت اور مہارت کے مطابق حکومت اور اس کا غلام میڈیا اسے بیروزگاری کی وجہ سے خود کشی نہیں بتا رہے ہیں لیکن اہل خاندان اور اہل محلہ اصل وجہ بیروزگاری اور تنگدستی ہی بتا رہے ہیں۔حکومت جس تیزی سے نجکاری کر رہی ہے، اسی تیزی سے بیروزگاری بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ سرمایہ دار مشین اور ٹیکنالوجی پر ایک بار میں کروڑوں رویہ خرچ کر کے اجرت،تنخواہ اور مزدوری کے ساتھ ملازمین کو دی جانے والی دیگر سہولیات سے چھٹکارا پا لینا زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔ سرمایہ دار یہ کر رہا ہے تو کر ہی رہا ہے مگر ایک فلاحی سرکار یہ کیسے کرسکتی ہے، مگر کر رہی ہے، پنشن پہلے ہی بند کر دی تھی، اب ملازمت بھی ختم کر رہی ہے۔ ملازمین ایک محدود مدت کے لیے ٹھیکہ پر رکھے جا رہے ہیں، یہاں تک کہ فوج میں اگنی ویر نامی اسکیم نافذ کر دی گئی جو ابھی تک کم سے کم فوج کے معاملہ نے ناقابل تصور سمجھی جاتی تھی۔
معیشت کی حالت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈالر کے مقابلہ روپیہ اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے زر مبادلہ کا بڑا حصہ یا تو بیرونی قرض کے سود میں دینا پڑ رہا ہے یا پھر خام تیل کی خریداری میں چلا جاتا ہے۔یہ جو اکثر پٹرول پمپ آپ کو خالی دکھائی دے رہے ہیں، یہ اسی تباہ کاری کو بیان کررہے ہیں۔یہی نہیں تازہ ترین اطلاع کے مطابق ہندوستان پر جو 621 بلین ڈالر کا قرض ہے، اس کا43فیصد یعنی تقریباً 267 بلین ڈالر اگلے نو مہینوں میں ادا کرنا ہے، یہ رقم ہمارے زر مبادلہ کے ذخیرے کے نصف سے کچھ ہی کم ہے۔ اب یا تو حکومت مذکورہ واجبات ادا کرنے کے لیے مزید قرض لے گی یا اپنے زر مبادلہ کے ذخیرہ سے چھیڑ چھاڑ کرے گی، دونوں صورتوں میں چھری اور خربوزہ والی بات ہوگی۔ ہندوستان پر غیر ملکی قرض 2014 میں جتنا تھا، تقریباً وہ فی الوقت تقریباً تین گنا ہو چکا ہے۔ عام الفاظ میں کہیں تو سابقہ حکومتوں نے جتنا قرض60برسوں میں نہیں لیا، اتنا مودی سرکار نے محض آٹھ برسوں میں لے لیا۔یہی نہیں ریزرو بینک کا محفوظ فنڈ بھی سرکار لے چکی ہے، معیشت کے ستون کا کام کرنے والی سرکاری کمپنیوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کیا جا رہا ہے، ان سب کو ملا کر دیکھئے تو معیشت کی جو تصویر ابھر رہی ہے وہ خوفزدہ کرنے والی ہے ۔
آپ کو یاد ہوگا 2019 میں وزیراعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا تھا کہ2025تک ہندوستانی معیشت بڑھ کر5ٹریلین ڈالر کی ہو جائے گی لیکن معاشی محاذ پر جو قدم اٹھائے گئے وہ تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں، کورونا نے نا قابل تصور تباہی پھیلا دی۔ معیشت ان تباہ کاریوں سے ابھرنہیں پا رہی تھی کہ روس یوکرین جنگ نے رہی سہی کثر پوری کر دی اور اب 5ٹریلین ڈالر کی معیشت کا خواب کب اور کیسے پورا ہوگا، اس پر پہلے سے ہی لگا سوالیہ نشان اور گہرا ہو گیا ہے۔ تازہ حالت یہ ہے کہ عالمی بینک نے رواں مالی سال میں ہندوستان کی شرح نمو کا اندازہ گھٹا کر 7.5 فیصدکر دیا ہے جبکہ ہندوستانی ریزرو بینک 7.2 فیصدی کا تخمینہ لگا رہا ہے۔گرانی کا عالم یہ ہے کہ افراط زر اپریل میں 7.79 فیصد تھا جو آٹھ مہینوں میں سب سے زیادہ ہے۔ مئی کے مہینہ میں کچھ نرمی ضرور دکھائی دی تھی لیکن یہ ریزرو بینک کے اندازہ سے کم تھی جس کی وجہ سے ریزرو بینک دو بار میں ریپوریٹ90بیسس پوائنٹ تک بڑھا چکا ہے۔حالانکہ اپریل میں جی ایس ٹی وصولی ایک لاکھ68 ہزار کروڑ روپے تھی جو اب تک کی سب سے زیادہ رقم ہے لیکن یہ عوام کی قوت خرید میں اضافہ کی وجہ سے نہیں بلکہ گرانی اور نئے نئے زمروں کو اس کے دائرہ میں لانے کی وجہ سے ہوا ہے۔
ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ وزیراعظم نے 2025 تک5ٹریلین کی معیشت کا جو خواب دکھایا تھا، اس کے حصول کے لیے 14 فیصد کی شرح نمو حاصل کرنا ہوگی۔ واضح رہے کہ 2004 سے2008کے دوران ہندوستان کی شرح نمو 19فیصد تھی، جی ڈی پی دو گنا ہو گئی اور ایک لاکھ کروڑ ڈالر کے قرب پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد سے یہ شرح کبھی حاصل نہیں ہوئی مگر وزیر اعظم کا ہدف ناقابل حصول نہیں ہے، شرط یہ ہے کہ فضول خرچی روکی جائے، سماجی حالات درست کیے جائیں جس کی وجہ سے امن عامہ برقرار رکھنا سب سے زیادہ خرچیلی مد ہوتی جا رہی ہے، سماج کا تانا بانا درہم برہم ہو رہا ہے، وہ الگ ہے۔ 2020-21 میں شرح نمو کورونا کی وجہ سے 5,6 فیصد گھٹی تھی مگر2022میں کچھ بہتری درج ہوئی ہے، ابھی ہندوستانی معیشت 3.3لاکھ کروڑ ڈالر کی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ڈالر ٹرم میں10فیصد شرح نمو حاصل ہو جائے تو2025نہیں لیکن2027-28 تک یہ خواب پورا ہو سکتا ہے لیکن روزگار کے محاذ پر تشویش برقرار رہے گی یعنی جاب لیس گروتھ تو پھر فائدہ کیا ایسے شرح نمو اور ایسی ترقی سے؟
(مضمون نگار سینئر صحافی و سیاسی تجزیہ نگار ہیں)
[email protected]