اسکولوں کو کھولنے کافیصلہ

0

اب جبکہ کورونا کی دوسری لہر کے بعد حالات کافی حدتک نارمل ہوچکے ہیں۔ جتنی بندشیں تھیں ، تقریباً اٹھائی جاچکی ہیں۔ معاشی سرگرمیاں کورونا سے پہلے جیسی چل رہی ہیں۔ راجدھانی دہلی میں میٹرو اوربسوں کی تمام سیٹوں پر بیٹھنے کی اجازت مل چکی ہے۔ بازار، ہوٹل ، ریستوراں، جم، اسٹیڈیم، مالز اورسنیما ہال کھل چکے ہیں۔ ملک میں نہیں کھلے تھے تو تعلیمی ادارے، کوچنگ سینٹرز اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس۔ بیشتر ریاستوں میں انہیں بھی رواں ماہ اگست میں کھول دیا گیا۔ دہلی سمیت کچھ ریاستوں نے ستمبر سے کھولنے کا حکم صادر کیا ہے ، تاہم ابھی بھی متعدد ریاستیں ایسی ہیں جو تعلیمی اداروں کو کھولنے کافیصلہ نہیں کرسکی تھیں اوروہاں غیر یقینی کیفیت طاری تھی، لیکن اب لگتا ہے کہ پورے ملک میں تعلیمی سرگرمیاں پہلے جیسی چلنے لگیں گی۔ کیونکہ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو مکتوب بھیج کر نہ صرف اسکولوں کو کھولنے اورفزیکل کلاسیز چلانے کو کہا ہے بلکہ یہ بتایا ہے کہ جس کورونا کے خطرے کے نام پر اسکولوں کو بند کیا گیا تھا ، بچوں کو اس کا خطرہ کم ہے۔ اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کوچنگ سینٹروں یہاں تک کہ مدارس میں بھی فزیکل کلاسیز شروع ہوجائیں گی جن سے تعلیمی اداروں میں رونق لوٹے گی اور ملک میں تعلیم کا ماحول بنے گا،جس کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ آن لائن تعلیم مجبوری میں فزیکل کلاسیز کا متبادل تو بن سکتی ہے لیکن اس کی جگہ نہیں لے سکتی اورنہ اس کے تقاضوں اور ضروریات کی تکمیل کرسکتی ہے۔ ڈیڑھ سال کے تجربات ، پارلیمانی کمیٹی کی تجزیاتی رپورٹ، ماہرین تعلیم کے اخذکردہ نتائج اورمختلف سرکاری وغیر سرکاری سروے رپورٹیں یہی بتاتی ہیں ۔
مرکزی حکومت نے اپنے مکتوب میں ریاستوں سے کہا ہے کہ بچوں کو کورونا سے زیادہ ڈینگی کا خطرہ رہتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ سڑک حادثات میں بڑی تعداد میں لوگ مرتے ہیں، لیکن کبھی سڑک حادثات اورڈینگی کے خطرے کی وجہ سے اسکول بند نہیں کئے جاتے۔مکتوب کااہم نکتہ یہ ہے کہ سب سے پہلے پرائمری اسکولوں کو کھولنا چاہئے پھراس سے اوپر کے اسکولوں، لیکن ابھی تک اس کے برعکس ہورہا تھا، کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے بعد سیکنڈری اورسینئر سیکنڈری اسکولوں کو تو کھولا گیا لیکن پرائمری اسکولوںکو کھولنے پر غور نہیں کیا گیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب پرائمری اسکول کھل جائیں گے تو اس سے اوپر والے اسکول کیسے بند رہ سکتے ہیں۔مرکز کا کہنا ہے کہ ایک تو بچوں کو کورونا کا خطرہ بہت کم ہے ، دوسرے بڑوں کے مقابلہ میں بچوں کو ٹیکہ کاری کا فائدہ کم ہے ۔تیسری بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی بچوں کو ویکسین نہیں لگ رہی ہے لیکن اسکول کھولے جارہے ہیں۔مکتوب کی یہ بات ضرور والدین کو کھٹکتی ہے کہ اسکول کھولے جائیں لیکن حاضری ضروری نہیں ، آن لائن کلاسیز بھی چلتی رہیں گی، بچوں کو اسکول بھیجنا والدین کی مرضی پرمنحصر ہوگا اوراسکولوں کے تمام اسٹاف کی ٹیکہ کاری ضروری نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ دوسرے مقامات پر داخلہ کے لئے ٹسٹ یا ویکسین کی دونوں ڈوزلینے کی رپورٹ کیوں طلب کی جاتی ہے؟
بچوں کی جس ویکسین کاانتظارلوگ اورسرکاریں گزشتہ ڈیڑھ سال سے کررہی ہیں تاکہ ان کی فزیکل کلاسیز شروع ہوں۔ مرکز نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسکول کھولنے کیلئے بچوں کے ویکسی نیشن کا انتظار نہیں کرسکتے۔بہر حال جو تعلیم اور اساتذہ کا معاشی نقصان ہورہا ہے ، اسکول ، مدارس اورکوچنگ کلاسیز کھل جانے سے ان میں کمی آئے گی۔ورنہ کورونا کے دور میں بہت سارے اسکول، مدارس اور کوچنگ سینٹرز مالی مشکلات کا شکار ہوکر بند ہوگئے اوران سے وابستہ لوگ بے روزگار ہوگئے تھے۔بچوں میں پڑھائی کا رجحان الگ کم ہورہا تھا، وہ منہمک ہوکر آن لائن کلاسیز نہیں کرپارہے تھے۔وہ غریب بچے ،جن کے پاس موبائل اور نیٹ کی سہولت نہیں ہے ، وہ تعلیم سے دورہوگئے تھے۔اب وہ پھر سے تعلیم سے جڑجائیں گے۔اسکول جانے سے بچوں میں چستی اورپھرتی آجائے گی۔ ورنہ اسکولوں کے بند ہونے سے نئی نسل کے ناخواندہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا تھا جو بے روزگاری میں اضافہ اورمعیار زندگی میں گراوٹ کا سبب بھی بنتی ۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here