سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے مرکز ریاستوں کو امداد فراہم کرے

    0
    democraticaccent.com

    نئی دہلی: (یو این آئی) پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے وزارت داخلہ سے سائبرکرائم کی روک تھام کے لئے تمام ریاستوں میں سائبر ٹریننگ لیبارٹریوں کے قیام اورموجودہ تربیتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مناسب فنڈ مختص کرنے کی سفارش کی ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما کی صدارت میں پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے حال میں ہی سونپی گئی رپورٹ میں ملک میں سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئےکہا نیشنل ریکارڈ بیورو کےاعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں سائبر کرائم کے معاملے 27,248 تھے جو سال 2020 میں بڑھ کر 50,035 ہو گئے۔ کمیٹی کا موقف ہے کہ یہ جرائم بنیادی طور پرمالی لین دین سے متعلق ہیں۔ مجرم نہ صرف معصوم اور کمزور خاص طور پر بزرگ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کی بچت ہڑپ لیتے ہیں ۔ وہ معروف شخصیات کو بھی دھوکہ دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے پولیس اہلکاروں کو تربیت دینے کے لئےریاستی تربیتی اکیڈمیوں کے ساتھ تال میل قائم کرنے اور سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے انہیں وقتاً فوقتاً نئے تکنیکی آلات سے اپ گریڈ کرنے کے لیےسفارش کی ہے۔ کمیٹی نے تربیتی اکیڈمیوں میں سائبر ماہرین کو بھرتی کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔
    کمیٹی سمجھتی ہے کہ ریاستیں جرائم کے تفتیشی نظام میں افرادی قوت اور وسائل کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں ۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ وزارت داخلہ کو سول سوسائٹی کے آئی ٹی ماہرین کے سیلف ہیلپ گروپس قائم کرنے پر غور کرنا چاہیے جو سائبر چوروں کا پتہ لگانے اور انہیں عدالتی عمل کے تحت لانے کے طریقے تیار کرنے میں اپنا تعاون پیش کرسکتے ہیں ۔
    ریاستی پولیس کو سائبر جرائم کی فوری رپورٹنگ کے لیے سائبر کرائم ہیلپ ڈیسک قائم کرنا چاہیے ، جس سے وہ تیزی سے اس کی تحقیقات کر سکیں ۔ بروقت مداخلت سے ایسے جرائم کی روک تھام کے ساتھ ساتھ متاثرین کو راحت بھی مل سکتی ہے۔
    وزارت داخلہ نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ سائبرجانچ کی تربیت کو مضبوط بنانے کے لیے نیشنل سینٹر فار ڈیجیٹل کرائم ریسورس اینڈ ٹریننگ سائبر انویسٹی گیشن کے لئے تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس نے گزشتہ پانچ برسوں میں 8800 سے زیادہ افسران کو تربیت دی ہے۔