انکروچمنٹ کیخلاف بلڈوزر چلانے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچا

0

سی پی آئی (ایم) ہاکرز یونین نے مہم کی آڑ میں عمارتیں گرائے جانے پرعدالت کا رخ کیا
نئی دہلی (ایس این بی) : کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(ایم) کی دہلی یونٹ اور ہاکرس یونین نے جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کی طرف سے انکروچمنٹ کے خلاف مہم کی آڑ میں عمارتوں کو گرائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے اور اسے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسے انصاف کے اصول، قوانین اور آئین کی خلاف ورزی بتایا ہے۔ درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ غیر مجاز قابضین یا تجاوزات نہیں ہیں، جیسا کہ جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن اور دیگر نے الزام لگایا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے نوٹس میں آیا ہے کہ فریق نمبر ایک (ایس ڈی ایم سی) کے اسسٹنٹ کمشنر دفتر نے انکروچمنٹ ہٹانے کی کارروائی کے دوران قانون اور انتظام برقرار رکھنے کے لئے ایم سی ڈی ملازمین کو خاتون پولیس سمیت ضروری پولیس فورس مہیا کرانے کے لئے خط جاری کیا ہے۔ عرضی گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی دہلی کے مختلف علاقوں میں رہنے اور کام کرنے والے لوگوں کو مناسب وجہ بتاؤ نوٹس اور موقع فراہم کیے بغیر، جواب دہندگان نے انسداد تجاوزات مہم شروع کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ یہ پوری کارروائی واضح طور پر من مانی اور آئین کے آرٹیکل 14، 19 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ سبھاش چندرن کے آر کے ذریعہ تیار کردہ اور سینئر ایڈووکیٹ پی وی سریندر ناتھ کے ذریعہ دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ علاقے میں رہنے والے اور کام کرنے والے لوگ عام طور پر بہت غریب اور حاشیے پر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں جواب دہندگان کی غیر قانونی غیر انسانی کارروائی ہوگی اور وہ مزاحمت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 4 مئی کو افسروںنے سنگم وہار علاقے میں بلڈوزر سے مکانات گرائے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس ہے اور دہشت پھیل گئی ہے، لیکن افسروں نے کالندی کنج میں انسداد تجاوزات مہم نہیں چلائی کیونکہ ان کے پاس مناسب پولیس فورس نہیں تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اب یہ یقیناسمجھا جا رہا ہے کہ افسر9 اور 13 مئی کو شاہین باغ اور دیگر علاقوں میں مکانات گرائیں گے۔ دہلی پردیش اسٹریٹ کھومچہ ہاکرس یونین کے جنرل سکریٹری کے ذریعہ داخل کردہ عرضی میں بھی ایسی ہی باتیں کہی گئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS