نفرت انگیز تقریر کا معاملہ

0

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ یا نفرت انگیز تقریر کے معاملہ میں ایک اہم تبصرہ کیا۔ کورٹ نے کہا کہ زیادہ تر ہیٹ اسپیچ میڈیا اورسوشل میڈیا پر ہوتی ہے۔ ٹی وی کی بحثیں نفرت انگیز تقریرکا اہم ذریعہ ہیں ۔چونکہ ابھی تک ہیٹ اسپیچ کی کوئی قانونی تعریف نہیں کی گئی ہے اورنہ ہی کوئی مؤثر ریگولیٹری نظام ہے جو اس پر کنٹرول کرسکے ۔جو لوگ بحث کے نام پر ہیٹ اسپیچ کاکام کرتے ہیں ، ان کی گرفت اوران کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے ۔اس لئے کسی کسوٹی پر ٹی وی کی بحثوں اورسوشل میڈیاپوسٹوں کو پرکھا نہیں جاتا ہے اور اس کا غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے ۔ نفرت انگیز تقریر کے معاملے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور سے انتخابات کے موقع پر پولرائزیشن کیلئے اس حربے کا استعمال لیڈران کرتے ہیں ، تاکہ لوگوں میں پھوٹ ڈال کر ہم خیال لوگوں کے ووٹ آسانی سے حاصل کرسکیں ۔حالیہ برسوں میں اس میں کافی تیزی آئی ہے اوراس کا رجحان بڑھتاجارہا ہے ۔اب تو عام حالات میں بھی نفرت انگیزتقریریں ہونے لگی ہیں ۔ بلکہ اس کیلئے باقاعدہ پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔چونکہ اب تک کسی کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس لئے نفرت پھیلانے والوں کا حوصلہ بڑھتا ہے ۔ ٹی وی بحثوں میں نفرت انگیزی نے توپورا ماحوال ہی خراب کردیا۔سوشل میڈیا اورٹی وی بحثوں میں نفرت انگیز مواد اورتقریروں کی بھرمار ہوتی ہے۔کورٹ کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینل ایک پلیٹ فارم کے طورپر کام کررہے ہیں، سیاسی جماعتیں اس سے سرمایہ کماتی ہیں اورہمارے پاس کوئی ریگولیٹری میکانزم نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے یہاںتک کہہ دیا کہ ایسے ماحول میں مرکزی حکومت خاموش کیوں ہے ؟ ہمارا ملک کدھر جارہا ہے؟ مرکز کو پہل کرنی چاہیے اور ایک سخت ریگولیٹری میکانزم قائم کرناچاہئے۔
حیرت ہے کہ لاکمیشن نے مارچ 2017میں ہی اپنی 267ویں رپورٹ میں تجویز پیش کردی تھی کہ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق فوجداری قانون میں ترمیم کرناچاہئے۔ادھر باربار نفرت انگیز تقریریں ہوئیں تو کئی مقدمات سپریم کورٹ میں پہنچے اوریہ معاملہ زیربحث آیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب الیکشن کمیشن سے سپریم کورٹ نے جواب طلب کیا تو اس نے بھی گیند مرکزی حکومت کے کورٹ میں ڈال دی اوراپنے حلف نامے میں کہا کہ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کوئی واضح قانون نہیں ہے ۔موجودہ قوانین نفرت انگیز تقاریر کے ذریعہ نفرت پھیلانے والوںکے خلاف مناسب کارروائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس لئے کمیشن انتخابات کے دوران نفرت انگیز تقاریر اور افواہوں کی روک تھام کیلئے آئی پی سی اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت کام کرتا ہے تاکہ سیاسی جماعتوں سمیت لوگوں کو ہم آہنگی میں خلل ڈالنے سے روکا جا سکے۔الیکشن کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ وقتافوقتاً ایڈوائزری جاری کرتاہے اور نفرت پھیلانے والوں کو متنبہ کرتا ہے ۔یہ ساری چیزیں اس کے ضابطہ اخلاق میں موجود ہیں ۔ بہرحال یہ معاملہ کورٹ میں کئی بار گیا لیکن وہاں سے بھی حل نہیں ہوا ۔ایک بار پھر کورٹ سے ہی امیدکرکے وہاں یہ معاملہ متعدد عرضیوں کے ساتھ پہنچا ہے ۔جن کی سماعت کے دوران وہ مسائل سامنے آئے جو نفرت انگیز تقریر یا نفرت انگیز مواد کی پیشی پر قابو پانے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بنیادی سوال یہی ہے کہ جب تک اس معاملے میں کسی کو سزانہیں ہوگی ،وہ عبرت کیسے بنے گی؟ اورنفرت انگیز مہم میں کمی کی امید کیسے کی جاسکتی ہے ؟
ہمارے یہاں ایک اوربات ہے کہ کسی معاملہ کو معمولی تصور کرنے، ہلکابناکر پیش کرنے یا تاویل کرنے سے رفع دفع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اس پہلو سے غور نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سماج پر ا س کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیںاورجو لوگ حقیر فائدے یا غلط مقاصد کی خاطر اس طرح کی حرکتیں کرتے رہتے ہیں ۔نظراندازکرنے سے کیا ان میں کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے ؟عدالت کی یہ بات غور طلب ہے کہ برطانیہ میں اس طرح کے معاملہ میں ایک ٹی وی چینل پر بھاری جرمانہ عائدکیا گیا تھا۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایساکوئی نظام نہیں ہے کہ اینکرز کو بتایا جائے کہ اگر آپ غلط کریں گے تو اس کے نتائج بھگتنے پڑیں گے ۔جب تک سرکاری سطح پر نفرت انگیز تقریر یامواد کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں ہوگی ۔نفرت کی کھیتی اورمہم کا سلسلہ چلتا رہے گا۔کورٹ نے بھی یہی سوال کیا ہے کہ سرکار خاموش کیوں ہے ؟اوراس سے جواب طلب کیا ہے۔ مطلب عدالت بھی سمجھتی ہے کہ سرکارکے بغیر نفرت انگیز تقریر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس لئے اب اس معاملہ میں سرکار کو آگے آناہوگا اورٹھوس قدم اٹھانا ہوگا۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS