سی اے اے مخالف مظاہروں کودکھانے میں ٹی وی چینلوں کا مسلم مخالف روےہنظر آیا

0

نئی دہلی (ایجنسیاں) :ہندوستان کے 4 ریٹائرڈ ججوں اور ایک سابق داخلہ سکریٹری نے سال 2020 میں دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت مسلم مخالف بیانیے کو پھیلایا گیا جس سے تشدد کو ہوا دی گئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز بیانیے اور پیغامات کو پھیلانے میں میڈیا نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔جن ستاکی رپورٹ کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہپبلک پلیٹ فارم میں نفرت انگیز پیغامات کاسیدھا تعلق تشدد سے ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نفرت انگیز مواد کے پھیلاو¿ کو روکنے یا اسے پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ادارہ جاتی قوت ارادی کی شدید کمی ہے۔ سوشل میڈیا پر خطرناک مواد کو کنٹرول یا ریگولیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ آزاد انہ خیالات کو جگہ دینا ایک چیلنج ہے۔ رپورٹ نے دہلی پولیس کی جانچپر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ اس رپورٹ میں دہلی پولیس کے علاوہ مرکزی وزارت داخلہ، دہلی حکومت اور میڈیا کے کردار پر کئی سخت تبصرے کیے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران تشدد کو بھڑکانا اور مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت پیدا کرنا کئی مرکزی دھارے کے انگریزی اور ہندی نیوز چینلوں کی رپورٹوںکا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔سابق ججوں کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ کا نام ’ان سرٹین : اے سٹیزن کمیٹی رپورٹ آن دی نارتھ ایسٹ دلہی وائلنس 2020 رکھا ہے۔ 171 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کو3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ فسادات سے پہلے فرقہ وارانہ ماحول کیسے پیدا ہوا، فسادات کے دوران کیا ہوا، پولس اور حکومت کا رول کیسا رہا۔ دوسرا حصہ مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کا جائزہ لیتا ہے کہ کس طرح انہوں نے فسادات سے ٹھیک پہلے اور بعد میں پورے ماحول کو خراب کیا۔ اس کے ساتھ ہی تیسرے حصے میں دہلی پولیس کیجانچ کا قانونی نقطہ نظر سے جائزہ لیا گیا،خاص طور پر یو اے پی اے ایکٹ کے نفاذ سے متعلق مطالعہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ لکھنے والی کمیٹی میں جسٹس مدن بی لوکر، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اے پی شاہ، مدراس ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اور لاکمیشن کے سابق چیئرمین جسٹس آر ایس سوڈھی، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش، پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور حکومت ہند کے سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی شامل تھے۔ جسٹس لوکر اس کمیٹی کے چیئرمین تھے۔