ختم ہوتی سرکاری ملازمت

0

گزشتہ 9 برسوں کی مودی حکومت میں اچھے دن تو کبھی نہیں آئے بلکہ ہر گزرنے والا دن عام آدمی کیلئے اذیتوں اور مصیبتوں کا نیا پیغام لے کر طلوع ہوتارہاہے۔دوسری طرف ان ہی 9برسوں میں ملک کااشرافیہ بلند شرح سے ترقی کرتا رہاہے اور ملک کا نظام بھی اسی کے مفادات کے گرد گھومتا رہا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ہندوستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 23.2 فیصد تھی۔سیاسی طور پر مستحکم سمجھے جانے والے ہندوستان میں بے روزگاری کی یہ شرح اتنی بھیانک ہے کہ اس کا تقابل سیاسی اور سماجی بدامنی کی زد میں آئے ہوئے ممالک یمن، لبنان، شام اور ایران سے کیا جانے لگا ہے۔ بے روزگاری کی اس بھیانک خلیج کو پاٹنے کیلئے نجی ادارے کچھ ہاتھ پیر ضرور ماررہے ہیں اور لوگوں کو وقتی طور پر کچھ راحت مل رہی ہے لیکن مستقل ملازمت اور سرکاری ملازمتیں دھیرے دھیرے ختم ہوتی جارہی ہیں۔2014کے بعد سے یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) اوراسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) میں نوکریوں کی اسامیوں کی تعداد میں لگاتار کمی آتی رہی ہے۔ یو پی ایس سی نے 2014 میں 1364اسامیوں کا اعلان کیا تھا جوہر سال کم ہوتے ہوتے 2022تک فقط861تک جاپہنچی۔ یہی صورتحال ایس ایس سی کی بھی ہے۔ ایس ایس سی نے 2013 میں 20,000 اسامیاں نکالی تھیں جو اب تقریباً 8سے9ہزار تک سمٹ گئی ہیں۔ بینکنگ سیکٹر میں بھی کئی بینکوں کے انضمام کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ضرورت کے مطابق اسامیاں نہیں نکالی جاسکی ہیں۔
اب ایک تازہ ترین سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سرکاری اداروں اور کمپنیوں میں ملازمتوں کی تعداد میں لاکھوں کی کمی ہوئی ہے۔ سینٹرل پبلک سیکٹر انٹرپرائزز یعنی سی پی ایس ای میںتقریباً3لاکھ ملازمتیں کم ہوگئی ہیں۔ان اداروں میںمستقل ملازمین کے بجائے ٹھیکہ کی بنیاد پرملازمین کو رکھا جا رہا ہے اور یہ تعدادبھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔اس سروے میںمرکزی حکومت کی ملکیت والے کارپوریشن اور کمپنیوں کا احاطہ کیا گیا تھا اور2012-13سے لے کر 2021-22 کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے یہ نتیجہ نکالاگیا۔ سروے رپورٹ کے مطابق ان اداروں میں مارچ 2013 میں 17.3لاکھ ملازمین تھے جو مارچ2022تک کم ہوکر 14.5 لاکھ ہوگئے۔یعنی 248سرکاری کمپنیوں میں مجموعی طورپر 2.7لاکھ ملازمتیں ختم ہوگئیں۔اس دوران ٹھیکہ کی بنیاد پر عارضی ملازمین رکھے گئے جن کا تناسب مارچ2013میں 19فیصد تھاجو مارچ2022میں بڑھ کر 42.5 فیصد ہوگیا۔ان کمپنیوں کے اعداد و شمار کے تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ سات سی پی ایس ای ایسے ہیں جہاں گزشتہ دس برسوںمیں کل ملازمتوں میں 20,000 سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ بی ایس این ایل میں ملازمتوں میں تقریباً 1.8 لاکھ کی کمی ہوئی ہے۔ جہاں مارچ 2013 میں اس کمپنی میں 2 لاکھ 55 ہزار سے زائد ملازمین تھے، وہیں مارچ 2022 میں تقریباً 74 ہزار ملازمین رہ گئے۔ اس کے بعد اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا لمیٹڈ میں 61 ہزار سے زیادہ اور ایم ٹی این ایل میں 30 ہزار سے زیادہ نوکریاں کم ہوئیں۔ اسٹیل اتھارٹی آف انڈیا نے ایک دہائی میں 1.86 لاکھ سے 1.24 لاکھ ملازمین اور ایم ٹی این ایل نے 39 ہزار سے کم کر کے 4.2 ہزار کر دیے۔نیشنل پنشن سسٹم کے پے رول کے اعداد و شمار کے مطابق مرکزی حکومت نے 27فیصد کم افراد کو بھرتی کیا، جب کہ ریاستوں نے 21فیصد کم افرادکو بھرتی کیا۔
یہ اعدادوشمار بتارہے ہیں کہ سالانہ دو کروڑ روزگار کا وعدہ کرنے والی حکومت نے پورے ملک کو بے روزگاری کی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے ۔اس عذاب ناک صورتحال سے توجہ ہٹانے کیلئے عوام کی اکثریت کو جارحانہ قوم پرستی، ہندو -مسلم منافرت کے غلیظ کھیل میں الجھا دیاگیا ہے۔ ان حالات میں تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی اکثریت اپنے مستقبل کے حوالے سے شدیدخوف اور بے یقینی کی صورتحال میں مبتلا ہے۔سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کی ظالمانہ پالیسی نے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے خوابوں کوتاریک مستقبل کے سمندر میں ڈبو دیا ہے جہاں اب دور دور تک کوئی روشنی نظر نہیں آرہی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS