تمل ناڈو: ڈی ایم کے اور کانگریس کا سیٹوں پر اتفاق

0
Iamge:scroll.in

25 اسمبلی سیٹیں اور کنیاکماری لوک سبھا سیٹ کانگریس کے حصے میں
چنئی: سیٹوں کی تقسیم کو لے کر کئی دنوں تک چلنے والے صلاح و مشورے کے بعد ڈی ایم کے نے اپنی اہم معاون پارٹی کانگریس کو اتوار کو 25 اسمبلی سیٹیں اور کنیا کماری لوک سبھا سیٹ دی۔
ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن اور تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے صدر کے ایس الاگری نے 6اپریل کو ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لیے سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے یہاں ڈی ایم کے ہیڈ کوارٹرس ’اننا اریوالیم‘ میں سمجھوتے پر دستخط کیے۔ کئی دنوں تک صلاح و مشورہ کے بعد ہفتہ کی دیر رات سمجھوتے پر اتفاق ہوا۔ کانگریس لیڈر اور پارٹی کی تمل ناڈو اکائی کے انچارج دنیش گنڈو رائو نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ جب ملک بی جے پی سے ’خطرے‘ کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں ’تعاون کا جذبہ‘ کے تحت سمجھوتے پر دستخط کیے گئے۔ رائو اور الاگری نے اسٹالن سے ہفتہ کی رات یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور کہا کہ سمجھوتے پر اتوار کو دستخط ہوں گے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ کتنی سیٹیں الاٹ کی گئی ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ معاون پارٹی کے ذریعہ الاٹ کی گئی سیٹوں کی تعداد سے مطمئن ہیں،دنیش گنڈو رائو نے کہا کہ ان کا واحد ہدف ڈی ایم کے کی قیادت میں سکیولر مورچے کی جیت یقینی بنانا ہے۔ رائو نے کہا کہ ’سمجھوتے پر دستخط ہونے کے بعد ہمیں مطمئن ہونا ہوگا کیونکہ کافی صلاح و مشورہ کے بعد یہ سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ ہمارا واحد ہدف یہ ہے کہ سکیولر مورچے کی جیت ہو۔‘
دریں اثنا تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے صدر کے ایس الاگری نے اتوار کو کہا کہ اگر 6 اپریل کو ہونے والے اسمبلی الیکشن میں ڈی ایم کے کو جیت حاصل ہوتی ہے کہ تو ان کی پارٹی اقتدار شراکت دار نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ان کی معاون پارٹی نے کانگریس کو 25 سیٹیں دی ہیں۔ الاگری نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ڈی ایم کے سے راجیہ سبھا کی ایک سیٹ مانگی ہے۔ ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر دستخط کرنے کے بعد انہوں نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ سمجھوتے سے ان کی پارٹی خوش ہے۔ الاگری نے کہا کہ کانگریس، ڈی ایم کے اور دیگر اتحادی پارٹیوں کے لیے سکیولرزم مرکزی نقطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بی جے پی ملک کے لیے بڑی بیماری ہے اور وہ دوسروں کو بھی انفکٹیڈ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ڈی ایم کے کی سرکار بننے پر کانگریس اس میں شراکت دار ہوگی، الاگری نے کہا کہ ’نہیں، ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘ انہوں نے خود اسمبلی الیکشن لڑنے کے سوال پر بھی نفی میں جواب دیا۔ الاگری سے جب سوال کیا گیا کہ کیا ان کی پارٹی نے ڈی ایم کے سے راجیہ سبھا سیٹ کی مانگ کی ہے تو انہوں اس کا جواب ’ہاں‘ میں دیا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here