کووڈ معاوضہ میں تاخیر پر سپریم کورٹ ناراض

0
imgae:business today

نئی دہلی (یو این آئی) : کووڈ19متاثرین کے لواحقین کو امداد کی ادائیگی میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے بدھ کو ایسے معاملات میں آندھرا پردیش اور بہار حکومتوں کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے معاملوں میں ریاست اور ضلع لیگل سروس اتھارٹی سے مدد لینے کا اشارہ دیا۔جسٹس ایم آر شاہ اور جسٹس سنجیو کھنہ نے بتایا کہ متاثرین کے اہل خانہ کو امداد فراہم کرنے میں تاخیر کے خلاف بار بار احکامات کے باوجود متعلقہ حکام ان کی ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔بنچ نے کہاکہ چونکہ بہت سی ریاستوں میں کورونا کی وجہ سے ہونے والی موت کے معاملوں میں درج دعووں کی تعداد سرکاری اموات سے کم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بہت سی حکومتیں فعال اقدامات نہیں کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں ہمیں متاثرین کو امدادی رقم حاصل کرنے کیلئے ریاستی اور ضلع لیگ سروس اتھارٹی کی مدد لینا پڑ سکتی ہے ۔بنچ نے آندھرا پردیش اور بہار حکومتوں کے رویہ پر برہمی کا اظہار کیا اور ان کے چیف سکریٹریوں کو بدھ کو دوپہر 02بجے ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی۔
عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار گورو بنسل کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کو کووڈ-19معاوضے کیلئے 36,000سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، لیکن ابھی تک صرف 11,000 درخواست گزاروں کو امداد کی رقم ادا کی گئی ہے ۔بنچ نے آندھرا پردیش کے وکیل سے کہا کہ وہ چیف سکریٹری کو دوپہر 2بجے ان کے سامنے حاضر ہونے کیلئے مطلع کریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ افسر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس اطلاع پر حیرت کا اظہار کیا کہ صرف بہار میں ہی 12000لوگوں کی کورونا سے موت ہوئی ہے ۔ بنچ نے کہاکہ بہار کو چھوڑ کر ہمارے حکم کے بعد دیگر تمام ریاستوں میں تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم حقیقی حقائق چاہتے ہیں۔ بنچ نے بہار حکومت کے وکیل سے کہا کہ وہ حاضر ہوں اور ریاست کے چیف سکریٹری سے اپنا کیس پیش کرنے کو کہیں۔