نوٹ بندی پر سپریم کورٹ کا مرکز اور آربی آئی کو نوٹس

0
The financial express

نئی دہلی، (ایجنسیاں):سپریم کورٹ نے نوٹ بندی پر مرکزی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی) کو نوٹس جاری کیا ہے۔ 5 ججوں والی آئینی بنچ نے 9 نومبر تک یہ بتانے کو کہا ہے کہ کس قانون کے تحت انہوں نے 1000 اور 500روپے کے نوٹ بند کئے تھے۔ عدالت نے سرکار اور آر بی آئی کو حلف نامہ میں اپنا جواب دینے کو کہا ہے۔
عرضی گزار کی دلیل تھی کہ بھارتیہ ریزرو بینک ایکٹ کی دفعہ 26(2) کسی خاص قیمت کے کرنسی نوٹوں کو پوری طرح سے رد کرنے کےلئے سرکار کو اختیار نہیں دیتی ہے۔ دفعہ 26(2) مرکز کو ایک خاص سیریز کے کرنسی نوٹو ں کو رد کرنے کا اختیار دیتی ہے، نہ کہ مکمل کرنسی نوٹوں کو۔ اب اسی کا جواب سرکار اور آر بی آئی کو دینا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سماعت کی لائیو اسٹریمنگ https://webcast.gov.in/scindia پر ہوئی تھی ۔ اس سے پہلے 28 ستمبر کو پانچ ججوں کی بنچ نے معاملے میں سماعت کی تھی۔ تب بنچ نے یہ کہہ کر کارروائی کو ٹال دیا تھا کہ عدالت کے پاس اور بھی کئی اہم اور اختیارات سے متعلق معاملے ہیں۔ سماعت کے دوران بنچ نے کہا کہ عدالت پہلے اس بات کی جانچ کرے گی کہ کیا نوٹ بندی کو چیلنج اکیڈمک بن گئی ہے؟ 2016 میں ویویک شرما نے عرضی داخل کر سرکار کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ اس کے بعد 58 اور عرضیاں داخل کی گئیں۔ اب تک صرف تین عرضیوں پر ہی سماعت ہورہی تھی۔ اب سب پر ایک ساتھ سماعت ہوگی۔ یہ سماعت جسٹس ایس عبدالنذیر کی صدارت میں ہوگی۔اس معاملے میں 16 دسمبر 2016کو ہی کیس آئینی بنچ کو سونپا گیا تھا، لیکن تب بنچ کی تشکیل نہیں ہو پائی تھی۔ 15 نومبر 2016کو اس وقت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے مودی حکومت کے اس فیصلے کی تعریف کی تھی۔
چیف جسٹس نے کہا تھا کہ نوٹ بندی کے منصوبہ کے پیچھے سرکار کی جو بھی منشا ہے، وہ تعریف کے لائق ہے۔ ہم اقتصادی پالیسی میں دخل نہیں دینا چاہتے، لیکن ہمیں لوگوں کوہو رہی پریشانی کی فکر ہے۔ انہوں نے سرکار سے اس مسئلہ پر ایک حلف نامہ دائر کرنے کو کہا تھا۔ سپریم کورٹ میں عرضی گزار کے وکیلوں نے سرکار کی نوٹ بندی کے منصوبہ میں کئی قانونی غلطیاں ہونے کی دلیل دی تھی، جس کے بعد16دسمبر 2016کو سپریم کورٹ نے اس معاملے میں 5 ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیج دیاتھا۔ تب عدالت نے سرکار کے اس فیصلے پر کوئی بھی عبوری ہدایت دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہاں تک کہ عدالت نے تب نوٹ بندی کے معاملے پر الگ الگ ہائی کورٹ میں دائر عرضیوں پر بھی سماعت سے روک لگادی تھی۔ 2016 میں نوٹ بندی کے وقت مرکزی حکومت کو امید تھی کہ بدعنوانوں سے گھروں کے گدوں-تکیوں میں بھرکر رکھی رقم سے کم سے کم 3-4لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن باہر آجائے گا۔ پوری قوائد میں کالا دھن تو 1.3لاکھ کروڑ ہی باہر آیا، مگر نوٹ بندی کے وقت جاری نئے 500 اور 2000کے نوٹوںمیں اب 9.21 لاکھ کروڑ غائب ضرور ہوگئے ہیں۔