پلیسز آف ورشپ قانو ن کی آئینی حیثیت پر مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کا حکم

0

نئی دہلی، (ایس این بی):پلیسز آف ورشپ ایکٹ یعنی عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کو ختم کرنے والی عرضداشتوں پرسپریم کورٹ آف انڈیا میںآج سماعت عمل میں آئی، جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے جمعیة علماءہند کی جانب سے پیش ہوتے ہو ئے ایڈووکیٹ ورندہ گروور نے بتایا کہ عدالت کے سابقہ حکم کے باوجود ابھی تک مرکزی سرکار نے اپنا موقف داخل نہیں کیا ہے اور مرکزی سرکار کا موقف جانے بغیر اس اہم معاملے کی سماعت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایڈووکیٹ ورندہ گروور نے عدالت کو مزید بتایا کہ مرکزی حکومت کا جواب آنے کے بعد وہ اپنا جواب داخل کریں گی، کیونکہ پیلس آف ورشپ قانو ن کو 1991 میں پارلیمنٹ نے پاس کیا تھا اور آج اسی قانون کو چیلنج کیا جارہا ہے، لہٰذا یہ مرکزی حکومت کا فرض ہے کہ ناصرف جواب داخل کرے، بلکہ وہ تمام دستاویزات بھی عدالت میں پیش کرے، جوقانون بنانے کے وقت ضروری تھے۔ایڈووکیٹ ورندہ گروور کی درخواست پر چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت نے عدالت میں موجود سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا کو حکم دیا کہ اگلی سماعت سے قبل عدالت میں مرکزی حکومت کا کیا موقف ہے، اسے حلف نامہ کی شکل میں داخل کریں۔ عدالت نے تشار مہتا کو مزیدکہا کہ اگر وہ جواب داخل نہیں کرنا چاہتے ہیںتو اگلی سماعت پر یہ بھی واضح کردیں، تاکہ عدالت پھر اس ضمن میں اپنی کارروائی آگے بڑھائے۔دوران سماعت مخالف گروپ سینئر ایڈووکیٹ راکیش دویدی نے عدالت کو بتایا پیلس آف ورشپ قانو ن 1991 کو بغیر کسی بحث کے پارلیمنٹ نے پاس کرلیا تھا اور بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے کیے گئے تذکرے کی کوئی آئےنی حیثیت نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ دوید ی نے کہا کہ پارلیمنٹ کو پیلس آف ورشپ قانو ن بنانے کا اس وقت اختیار ہی نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اس قانون کو ناصرف بغیر بحث کے پاس کیا گیا، بلکہ اسے نافذبھی کردیا گیا، جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک مخصوص طبقہ کو خوش کرنے کےلئے اس وقت کی سرکار نے پیلس آف ورشپ قانو ن بنایا تھا، جو غیر آئینی ہے اس قانون کی وجہ سے اکثریتی فرقے کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے۔ اسی درمیان ڈاکٹر سبرامنیم سوامی(سابق ممبر آف پارلیمنٹ راجیہ سبھا بی جے پی) نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے بھی پلیس آف ورشپ قانو ن کو ختم کرنے کی عرضداشت داخل کی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے اس پٹیشن پر بھی جواب داخل نہیں کیا ہے، لہٰذا مرکزی حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ ان کی پٹیشن پر بھی جواب داخل کرے۔ فریقین نے بحث کی سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کو حکم دیا کہ 14 نومبر سے قبل کن موضوعات پر عدالت کو سماعت کرناہے، تیار کرکے عدالت میںجمع کریں۔ عدالت ان موضوعات کو جانچنے کے بعد سماعت شروع کرے گی۔دوران سماعت عدالت میں جمعیة علماءہند کی جانب سے ایڈووکیٹ ورندہ گروور کے ہمراہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈووکیٹ شاہد ندیم، ایڈووکیٹ آکرتی چوبے، ایڈووکیٹ سیف ضیاءو دیگر موجود تھے۔
واضح رہے کہ صدر جمعیة علماءہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر داخل سول رٹ پٹیشن کا ڈائری نمبر 28081/2022 ہے ، اسی کے ساتھ ساتھ جمعیة علماءہند نے دیگر پٹیشن میں مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے، جسے عدالت نے سماعت کےلئے پہلے ہی منظور کرلیا ہے۔ان عرضداشتوں میں جمعیة علماءہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار احمد اعظمی مدعی بنے ہیں۔صدر جمعیة علماءہندمولانا ارشد مدنی نے کہا کہ 1991 کے قانون لانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں سب مذہبی مقامات محفوظ رہ سکیں، کیونکہ مذہبی مقامات کے تنازعات بہت حساس ہوتے ہیں جو کہ قانون بالا دستی کو نہ صرف چیلنج کرتے ہیں، بلکہ سماج کے امن وسکون کو بھی درھم برھم کردیتے ہیں۔ مولانا مدنی مزید کہا کہ ’مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے اہم قانون میں ترمیم کی کسی بھی کوشش کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اس لئے ترمیم یاتبدیلی کے بجائے اس قانون کو مضبوطی سے لاگو کیا جانا چاہئے‘، جس کے سیکشن 4/ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ہے کہ ’یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ 15/ اگست 1947 میں موجود تمام عبادت گاہوں کی مذہبی حیثیت ویسی ہی رہے گی جیسی کہ اس وقت تھی۔‘ سیکشن 4 (2) میں کہا گیا ہے کہ اگر 15/ اگست 1947 میں موجودکسی بھی عبادت گاہ کی مذہبی نوعیت کی تبدیلی سے متعلق کوئی مقدمہ، اپیل یا کوئی کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی میں پہلے سے زیرالتواہے تو وہ منسوخ ہو جائے گی اور اس طرح کے معاملہ میں کوئی مقدمہ،اپیل یا دیگر کارروائی کسی عدالت، ٹریبونل یا اتھارٹی کے سامنے اس کے بعد پیش نہیں ہوگی، اسی لئے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں جو پٹیشن داخل ہے، جمعیة علماءہند اس میں مداخلت کار بنی ہے۔آج کی سماعت کے بعد گلزار اعظمی نے کہا کہ جمعیة علماءہند پلیس آف ورشپ قانو ن کا مضبوطی سے دفاع کرے گی اور مرکزی حکومت کے جواب کی روشنی میں ہمارے وکلاءاگلا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون کی خدمت حاصل کی جا ئے گی، ماضی میں ڈاکٹر راجیو دھون اس معاملے میں پیش ہوچکے ہیں۔