اسلام میں ماں کا مرتبہ

0

ڈاکٹرحافظ کرناٹکی

یہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے زمین و آسمان بنایا اور پھر زمین و آسمان اور اس کے درمیان وہ ساری چیزیں بنائیں جو انسانی زندگی اور بقا کے لئے ضروری تھیں۔ اللہ نے یوں تو انسانوں کو اتنی ساری نعمتوں سے نوازا ہے کہ اس کا حساب لگایا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ اللہ نے انسانوں کو جو قیمتی تحفے دیے ہیں، ان میں بالخصوص ماں، اور بچہ سب سے انمول اور سب سے قیمتی تحفے ہیں۔ ماں ایک ایسی پاکیزہ ہستی ہے جس کے ہونے سے ہی ساری کائنات پرنور نظر آتی ہے۔ اس کے وجود سے سارا سنسار گل گلزار معلوم ہوتا ہے۔ اور جب وہ نہیں رہتی ہے تو بھرا بھرا گھر بھی ویران معلوم ہونے لگتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ گھر میں بھلے سے سارے رشتے داروں کا جمگھٹا ہو اور ماں نہ ہو تو گھر میں ایک خاص طرح کی ویرانی اور خالی پن کا احساس بھر جاتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ ماں کا وجود بذات خود ایک کائنات ہے۔ اس کے دم سے زندگی کے چہرے پر بہار ہے۔ اگر گھر میں کوئی نہ ہو صرف ماں ہو تب بھی گھرشاد و آباد نظر آتا ہے۔ ماں کے بغیر گھر کا کونا کونا سونا اور آنگن و منڈیر ویران نظر آتا ہے۔
ماں کے چہرے پر ہر وقت ممتا کی مسکان، شفقت کا نور، ایثار کا گہرا رنگ، خلوص کی چاندنی اور تحفظ کے خوشبو کا احساس موجیں مارتا نظر آتا ہے۔ ماںکو محبت سے دیکھنے میں ایک طرف حج کے برابر ثواب ملتا ہے تو سچ یہ ہے کہ ماں کا چہرہ دیکھ کر بجھا ہوا دل جی اٹھتا ہے۔ دل میں مسرت اور راحت کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ چہرے پر بشاشت آجاتی ہے اور ہر فکر اور تردد کا احساس یکسر مٹ جاتا ہے۔ بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنی ماں کی خدمت کی، اور ان کی دعائیں لیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہیں اللہ نے اپنی ماں کے قدموں تلے موجود جنت سے لطف اندوز ہونے کی توفیق عطا کی اور دنیا و آخرت کو سنوارنے کا موقع عنایت کیا۔ ماں سچ مچ ایسی نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہے۔
یہ ماں ہی ہے جس نے ولیوں کو اور پیغمبروں کو جنم دیا۔ وہ ماں ہی کی ہستی ہے جس نے اپنے نالائق بچوں کی غلطیاں معاف کر کے اسے سینے سے لگایا۔ دودھ کی شکل میں اپنا خون پلایا۔ وہ ماں ہی کی ہستی ہوتی ہے جو ہر دکھ اور درد میں اپنے بچوں کے لیے سراپا رحمت بن جاتی ہے۔
ہر ماں عورت ہوتی ہے۔ مگر سچ یہ بھی ہے کہ ہر عورت ماں نہیں ہوتی ہے۔ آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے سبھی آدم زاد اور آدمی کہلانے کے حقدار ہیں مگر ہر آدمی انسان نہیں ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہر عورت ماں نہیں بن پاتی ہے۔ ماں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سراپا ممتا ہو۔ اسی لیے حضورؐ نے فرمایا کہ ماں اور باپ کے چہرے کو محبت اور شفقت سے دیکھنا ایک بڑی نیکی ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ میری بھلائی اور حسن معاملہ کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ تیری ماں اس شخص نے دوبارہ دریافت کیا اس کے بعد کون ہے تو رسولؐ نے فرمایا؛ تیری ماں۔ اس شخص نے پھر سوال کیا یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد کون ہے؟ تو آپؐ نے فرمایا تیرا باپ۔
ماں کے ساتھ حسن سلوک پر زیادہ زور اس لیے دیا گیا کہ عام طور پر لوگ ماں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ حضرت معاویہ ؓ بن جاہمہ فرماتے ہیں کہ میرے والد جاہمہ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس گئے اور کہا؛ اے اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم میں جہاد پر جانا چاہتا ہوں۔ لہٰذا آپؐ سے مشورہ کا طالب ہوں۔ آپؐ کیا فرماتے ہیں، آپؐ نے پوچھا کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! وہ زندہ ہیں۔ حضور ؐنے فرمایا پھر تم ان کی خدمت میں لگے رہو۔ تمہاری جنت ان کے قدموں میں ہے۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو معلوم تھا کہ جاہمہ کی ماں زندہ ہے۔ اور ضعیف ہے، اور یہ کہ وہ ضعیف ماں بیٹے کی خدمت کی محتاج ہے جبکہ بیٹے کے دل میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا جذبہ موجیں مار رہا ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ تمہارے جہاد کا میدان تو تمہارے گھر میں ہے۔ جاؤ اور ماں کی خدمت کرو، یہی تمہارا جہاد ہے۔
اللہ کے رسولؐ نے بہت واضح انداز میں اپنی امت کو بالخصوص اور بالعموم ساری بنی نوع انسانی کو والدہ محترمہ کی اہمیت، اس کے احترام اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی برکتوں سے آگاہ کردیا اور ساتھ ہی ان کے حقوق اور مرتبے سے بھی واقف کرادیا۔ مسلمان جانتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور شہادت کا بہت بڑا مقام ہے۔ اتنا بڑا کہ شہیدوں کو بغیر کسی حساب کتاب کے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اس کے باوجود اللہ کے رسول نے جہاد کی خواہش رکھنے والے صحابہ کرامؓ میں سے کئی کو والدہ کی خدمت کرتے رہنے کا حکم دیا۔ گویا والدہ کی خدمت کرنا کسی بھی بڑے جہاد سے زیادہ بڑی نیکی اور خوش بختی کی بات ہے، یہ بات اکثر دیکھنے میں آئی ہے کہ کبھی کوئی بچہ بلک بلک کر رونے لگتا ہے اسے چپ کرانے کے لیے سارے رشتے دار کوششیں کرتے ہیں۔ اسے ہنسانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ سارے رشتے دار اپنی محبتوں اور شفقتوں کے دریا بہاتے ہیں مگر بچہ کا رونا کم نہیں ہوتا ہے۔ مگر اسی بچے کو جب اس کی اپنی ماں کی آغوش میں دے دیا جاتا ہے تو وہ نہ صرف یہ کہ خاموش ہو جاتا ہے بلکہ راحت بھری بہت ہی آسودہ سانس لیتا ہے۔ گویا اسے ساری کائنات مل گئی ہو۔ علامہ ابن جوزیؒ نے تحریر کیا ہے کہ؛ ’’ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے دریافت کیا کہ جنت میں میرا ساتھی کون ہوگا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب دیا ایک قصائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تجسس بڑھ گیا۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اس قصائی سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رہنمائی فرمائی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اس قصائی سے ملنے اس کی دکان پر پہونچ گئے۔ شام کو قصائی نے اپنی دکان بند کرنے سے پہلے تھوڑا سا گوشت لیا اور گھر کی طرف روانہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قصائی سے درخواست کی کہ وہ انہیں بھی ساتھ لے چلے۔ قصائی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست قبول کرلی اور کہا کہ ٹھیک ہے، میرے ساتھ آجاؤ۔ قصائی کو یہ معلوم نہ تھا کہ آپ اللہ کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ قصائی اپنے گھر پہونچا تو اس نے اہتمام کے ساتھ گوشت پکایا اور پھر روٹی بنائی، گھر میں موجود ایک ضعیف بڑھیا کے پاس آیا اور اسے اٹھایا اس کے ہاتھ منہ دھلائے اور نوالے بناکر نہایت محبت سے اس کے منہ میں ڈالنے لگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے پوچھا یہ بزرگ اور ضعیف خاتون کون ہیں؟ اس قصائی نے جواب دیا یہ میری والدہ ہیں، میں ہر روز اسی طرح کھانا تیار کر کے اسے کھلاتاہوں اور کھانا کھلانے کے بعد ان کا منہ صاف کرتا ہوں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا، کیا تمہاری بیوی یہ خدمت انجام نہیں دیتی ہے؟ اس قصائی نے جواب دیا یہ ذمہ داری میری ہے میری بیوی کی نہیں۔ یہ میری ماں ہے، اس نے مجھے جنا ہے، میری پرورش کی ہے، اس لیے اپنی والدہ کا سارا کام میں خود ہی کرتا ہوں اور ان کی خدمت کرکے راحت محسوس کرتا ہوں۔کھانا کھانے کے بعد وہ ضعیف و نزار خاتون کچھ بولنے لگیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قصائی سے پوچھا یہ کیا کہہ رہی ہیں؟ قصائی نے کہا کہ یہ ایسے ہی الٹے سیدھے اور بے جوڑ الفاظ کہتی رہتی ہیں۔ یہ کہہ رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں موسیٰ علیہ السلام کا ساتھی بنائے۔ ذرا آپ ہی غور کیجئے کہاں میں ایک معمولی سا قصائی اور کہاں اللہ کا برگزیدہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ میری بھلا کیا حیثیت ہے کہ میں جنت میں موسیٰ علیہ السلام کا ساتھی بنوں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ میں نے اس کی ماں کی دعا اس کے بیٹے کے حق میں قبول کرلی ہے۔
ایک مرتبہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو بتایا گیا کہ ایک شخص قریب المرگ ہے مگر اس کی زبان سے کلمہ جاری نہیں ہورہا ہے۔ آپؐ اس کے پاس تشریف لے گئے اور دریافت فرمایا کہ اس کے والدین میں سے کوئی اس سے ناراض تو نہیں ہے؟ پتہ چلا کہ ماں ناراض ہے۔ آپؐ نے اس کی ماں کو بلایا اور پوچھا تم اپنے اس بیٹے سے ناراض ہو؟ اس نے کہا ہاں، میں اپنے اس بیٹے سے ناراض ہوں۔ حضورؐ نے دریافت کیا؛ کیوں ناراض ہو؟ تو اس نے جواب دیا؛ یہ نماز، روزہ، تلاوت سب کچھ کر تا ہے لیکن مجھ سے ہمیشہ سخت اور درشت لہجے میں بات کرتا ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ اسے معاف کردو، اس نے کہا کہ نہیں میں اسے معاف نہیں کروں گی۔ آپؐ نے فرمایا؛’’آگ جلاؤ، میں اس کے بیٹے کو اس میں ڈال دوں، وہ کہنے لگی نہیں ایسا مت کرو، پھر آپؐ نے فرمایا تو ایسا کرو کہ اسے معاف کردو۔ ورنہ یہ جہنم کی آگ میں جلے گا۔ اتنا سنتے ہی اس شخص کی ماں نے اسے معاف کردیا۔ اس شخص نے کلمہ پڑھا اور اپنی جان اللہ کے سپرد کردی۔
ماں کی محبت، ممتا، مقام اور اس کی دعاؤں کی برکتوں کا اندازہ اس واقعے سے بھی لگا یا جاسکتا ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے وہ برگزیدہ پیغمبر تھے جو اللہ تبارک تعالیٰ سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ اور بڑے آرام سے گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ ایک دن وہ اللہ رب العزت سے ہمکلام تھے کہ اچانک ان پر بے تحاشہ خوف طاری ہوگیا۔ ان کے پاؤں کانپنے لگے۔ زبان لڑکھڑانے لگی، انہیں لگا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے بات چیت کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان پر بے تحاشہ رعب خداوندی طاری ہوگیا۔ انہوں نے اپنی اس کیفیت کا ذکر خداوند کریم سے کیا۔ اور کہا کہ آپ ہمیشہ مجھے شرف کلام بخشتے ہیں، مگر پتہ نہیں آج کیا بات ہے کہ اندر سے میرا دل لرزرہا ہے۔ مجھ پر بے اندازہ خوف طار ی ہوگیا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا؛ اے موسیٰ تجھے معلوم نہیں ہے، آج تیری والدہ کا انتقال ہوگیا، وہ جب تک زندہ تھی تمہارے لیے دعائیں کیا کرتی تھی۔ اس کی دعاؤں کی برکت سے اور اس کی دعاؤں کے فیض سے تجھے اطمینان قلب حاصل تھا اور تو مجھ سے کلام کرتے وقت گھبراتا نہیں تھا۔
یہ ہے ماں کی ہستی، ماں کی دعاؤں کی برکتوں سے راستے کے پہاڑ بھی روئی بن کر اڑ جاتے ہیں۔ راستوں پر بچھے کانٹے پھول بن جاتے ہیں۔ دل میں اطمینان کا بسیرا ہوتا ہے۔ مشکل سے مشکل مصائب میں بھی انسان کے قدم نہیں ڈگمگاتے ہیں۔ مگر جب ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے تو گویا انسان اندر سے خالی ہوجاتا ہے۔ اس کے سرسے رحمت کا سایہ اٹھ جاتا ہے۔ اور وہ بہت کمزور ہوجاتا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ؛ ’’ماں باپ میں سے ایک یادونوں بڑھاپے کو پہونچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کرنا نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا ،بلکہ ہر طرح ان کے احترام کا خیال رکھنا۔‘‘
آپ غور کیجئے کہ عرب کی سرزمین اور تہذیب جہاں عورتوں کی کوئی خاص عزت نہیں تھی، اس سرزمین میں ہمارے نبیؐ مبعوث فرمائے گئے اور پھر آپؐ نے دین اسلام کی تعلیم سے اس پورے علاقے کو تہذیب و تمدن اور اخلاق و کردار کا ایسا سبق پڑھایا کہ خواتین جو بہ حیثیت بیٹی، بیوی، بہن، اور ماں کے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی تھی ان کے مقام و مرتبے کو کہاں سے کہاں پہونچا دیا۔ سارے رشتوں کے احترام اور حقوق کو اس طرح کھول کھول کر بیان فرمادیا کہ انسانیت کا سربلند ہوگیا، اور انسان صدیوں کی تاریکی اور ظلمت کی دلدل سے نکل کر نور ایمان کی روشنی میں اشرف المخلوقات کے مرتبے پر فائز ہوگیا۔ اسلام ہی وہ سچا دین ہے جو دنیا و آخرت کو ایک لڑی میں پروتا ہے اور سارے رشتے ناطوں کے، تقدس اور احترام کا درس دیتا ہے۔ جس کی بدولت انسانیت سربلندی حاصل کرتی ہے۔