سری لنکا اور ہندوستان

0

کبھی سونے کی لنکا کہا جانے والا پڑوسی ملک سری لنکا آج پوری طرح سے کنگال ہوچکا ہے۔ حالات انتہائی بدترین ہیں۔ملک میں دودھ، دوائیں، پانی، پھل، سبزیوں سمیت ضرورت کی تمام چیزوں کی سخت قلت ہوگئی ہے۔ روزمرہ کے سامان کے دام آسمان پر ہیں۔ دال کی قیمت 2020 میں 180 روپے فی کلو تھی جو آج 420 روپے فی کلو ہے۔ یہی حال خوردنی تیل کا ہے، 480 فی لیٹر تیل 2 سال میں 870 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ 2020 میں پٹرول 137 روپے فی لیٹر تھا جو آج 254 فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔زر مبادلہ کے ذخائر خالی ہوگئے ہیں اور ملک قرض کے بھاری بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔تیل اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اسٹریٹ لائٹس بھی بند ہو گئی ہیں۔ حالات اتنے سنگین ہیں کہ منتخب حکومت کی پوری کابینہ کو راتوں رات استعفیٰ دینا پڑگیا اور صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی لگادینی پڑی۔
سری لنکا میںاس بدحالی کی کئی وجوہات ہیں لیکن ان میں سب سے اہم وجہ بدعنوانی، جھوٹی ترقی کی تشہیر، عوام کو دکھائے جانے والے دلکش خواب، قرض کا بڑھتا شکنجہ اور غلبہ کی سیاست (Majoritarian politics) کو ماناجارہاہے۔ سری لنکا میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہندوستان کیلئے بھی ایک سبق ہے۔ اگر ہندوستان کے سیاست دانوں نے اس سے سبق نہیں لیاتو سری لنکا کی طرح ہی دوسری تباہی ا ور بدترین معاشی بحران ہندوستان کامقسوم بنے گی۔ہندوستان میں آج کے حالات سری لنکا سے بہت حد تک مماثلت رکھتے ہیں جس طرح سری لنکا کی حکمراں سیاسی جماعت نے اپنے انتخابی منشور میں مفت تقسیم کا وعدہ کیا اوراسے قرض لے کر پورا کررہی تھی بعینہٖ ہندوستان میں بھی یہی صورتحال ہے۔ مفت تقسیم کی وجہ سے ہندوستان کی کئی ریاستیں تباہی کی دہلیز پر کھڑی ہیں نہ صرف ریاستوں کا خزانہ خالی ہے بلکہ قرض کے بھاری بوجھ کی وجہ سے ان کی معیشت چرمراگئی ہے۔صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ملک کے کئی اعلیٰ حکام نے یہ انتباہ بھی دیا ہے اگر ’سب کچھ مفت ‘کا رویہ ترک نہیں کیاگیاتو یہ ریاستیں بھی سری لنکا کی طرح ہی کنگال ہوجائیں گی۔ان افسران نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی اپنی تشویشات سے آگاہ کیا ہے۔وزیراعظم کے ساتھ چار گھنٹوں تک ہونے والی اس طویل میٹنگ میں کچھ بیوروکریٹس نے ریاستوں کی عوامی مقبولیت والی اسکیموں پر اپنے تحفظات کا کھل کرا ظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو دی جانے والی مفت اسکیمیں عملی نہیں ہیں اور ایسی اسکیمیں زیادہ دنوں تک نہیں چلائی جاسکتی ہیں۔ خاص طور پرمقروض ریاستوں میں اس طرح کی اسکیمیں چلانا بہت خطرناک ہے اور ہمیں سری لنکا کی افراتفری سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔اگرا ن پر فی الفور روک نہیں لگائی گئی تو اس سے ریاستیں مالی طور پردیوالیہ ہوجائیں گی۔کچھ بیوروکریٹس نے بتایا ہے کہ پنجاب، دہلی، تلنگانہ آندھراپردیش اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات غیر عملی ہیں اور ان کا حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مفت بجلی اسکیم کی وجہ سے ریاست کے خزانے پربوجھ پڑرہاہے اور صحت و تعلیم جیسے اہم ترین سماجی شعبوں کیلئے رقم میں کٹوتی کی جارہی ہے۔
ملک کے ان بیوروکریٹس کے انتباہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آج ملک میں ووٹوں کی سیاست کی وجہ سے انتخابی وعدوں میں فری راشن سے لے کر دوسری چیزوں کی مفت تقسیم کی جو روایت چل پڑی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ مفت تقسیم کا یہ رجحان جہاں صاف شفاف انتخابات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہیں سرکاری خزانہ پر بھاری ناگوار بوجھ کی طرح ہے۔اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ انتخاب جیتنے کیلئے سیاسی جماعتیں دونوں ہاتھوں سے سرکاری خزانہ لٹاتی ہیں، رقم آنے کے ذرائع محدود ہونے کے باوجود مفت تقسیم کی مختلف اسکیمیں جاری کردی جاتی ہیں ا ور نتیجہ میں بھاری قرض میں ڈوب جاتی ہیں۔ آج کی تاریخ میںاترپردیش 6.53لاکھ کروڑ روپے، مغربی بنگال 5.62 لاکھ کروڑ روپے، گجرات 5.02 لاکھ کروڑ روپے، آندھرا پردیش 3.98 لاکھ کروڑروپے، پنجاب2.82 لاکھ کروڑ روپے اور بہار2.46 لاکھ کروڑروپے کے بھاری قرض تلے د با ہوا ہے۔ سری لنکا میں بھی یہی کچھ ہواتھا جس کا نتیجہ آج وہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔
سیاسی جماعتو ں کو یہ سمجھناہوگا کہ مفت بانٹنے کی سیاست ملک کو زوال کی طرف لے جارہی ہے۔ اگر سیاسی جماعتوں اور ریاستی حکومتوں نے یہ رویہ ترک نہیں کیا تو اس کا خمیازہ پورے ملک کو بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے سری لنکا سے سبق لیتے ہوئے اس پر سنجیدگی سے غور کیاجانا چاہیے۔ ملک کی ترجیح عوامی مقبولیت والی اسکیموں کے بجائے ٹکائو معاشی پالیسی ہونی چاہیے تاکہ ترقی کا فائدہ ہر شخص کو پہنچے اور سری لنکا جیسے حالات سے ہندوستان کو محفوظ رکھاجاسکے۔
[email protected]