بدعنوانی کے خلاف جنگ کو رفتار

0

بدعنوانی سے لڑنے کیلئے ہندوستان کے آئینی نظام میں اکثر و بیشتر ترامیم ہوتی رہتی ہیں،کبھی بدعنوانی کی روک تھام کا قانون اس کا مشق ستم بنتا ہے تو کبھی پبلک سرونٹ ایکٹ، تو کبھی اس مقصد کیلئے انڈین پینل کوڈکی دفعات کی تزئین و آرائش کا اہتمام ہوتاہے۔ کچھ عرصہ قبل انسداد بدعنوانی ایکٹ1988(Prevention of Corruption Act) میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ یہ ایکٹ سرکاری ملازمین کے ذریعہ کی جانے والی بدعنوانی اور بدعنوانی کو فروغ دینے میں ملوث افراد کیلئے بھی سزا کا بندوبست کرتا ہے لیکن2018میں اس میںترمیم کرکے رشوت لینے کے ساتھ ساتھ رشوت دینے کو بھی جرم کے زمرے میں شامل کیاگیا۔ اس ترمیم کے بعد رشوت ستانی کے کتنے معاملات سامنے آئے یا کتنے خاطیوں کو سزایاب کرایاجاسکا، اس کا ڈاٹا تو دستیاب نہیں ہے لیکن یہ بات عمومی طور پر ریکارڈ ہے کہ بدعنوان سرکاری ملازمین کے خلاف اکثر مقدمات ناکافی ثبوت کی بناپر خارج ہوجاتے ہیں۔اس کی وجہ سے جہاں مدعی کا حوصلہ ٹوٹتا ہے وہیں راشی افسران و ملازمین خود کو ہر گرفت سے آزاد سمجھتے ہوئے کھل کر کھیلتے ہیں۔
لیکن اب شایدایسا نہ ہوپائے کیوں کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے معاملے میں ناکافی ثبوت ہونے کی صورت میں واقعاتی شہادت کی بنیاد پر بھی ملزم سرکاری ملازم کو مجرم ٹھہرایاجاسکتا ہے۔ ایسا اس وقت کیا جا سکتا ہے جب کسی افسریا ملازم کے خلاف براہ راست زبانی یا دستاویزی ثبوت نہ ہوں۔آج جمعرات کو اپنے ایک اہم فیصلہ میں کہا ہے کہ رشوت کامطالبہ یا رشوت قبول کرنے کا براہ راست ثبوت کسی سرکاری ملازم کو انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مجرم قرار دینے کیلئے ضروری نہیں ہے۔ایسے الزامات کو واقعاتی شہادت کی بنیاد پر بھی ثابت کیاجاسکتا ہے۔بدعنوانی کے اس معاملہ میں جسٹس سید عبدالنذیر، جسٹس بی آر گوئی، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اورجسٹس بی وی ناگارتنا پرمشتمل 5 ججوں کی بنچ نے 23 نومبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھاجس کاآج اعلان کیاگیا ہے۔ جسٹس ایس اے نذیر کی سربراہی والی اس پانچ نفری آئینی بنچ نے کہا کہ شکایت کنندگان کے ساتھ ساتھ استغاثہ کو بھی مخلصانہ کوششیں کرنی چاہئیں تاکہ بدعنوان سرکاری ملازمین کو سزا مل سکے نیز انتظامیہ اور گورننس کرپشن سے پاک ہو سکے۔
عدالت کا فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ آج ہندوستان میں بدعنوانی ایک عفریت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اوپر سے نیچے تک کوئی ایسا خانہ خالی نہیں ہے جہاں رشوت ممنوع سمجھی جاتی ہو۔سول سروس کے اعلیٰ عہدیدار رشوت دے کر اپنی تقرری اور تبادلہ کی فائلیں آگے بڑھواتے ہیں تو درمیانی درجہ کے حکام و افسران عام لوگوں کے کام کے عوض رشوت کا مطالبہ کرتے ہیں،بدعنوانی کی اس قبیح تثلیث کا تیسرا ضلع اقرباپروری ہے۔ہر افسر اور حاکم کی یہ کوشش رہتی ہے کہ جس طرح بھی ہو وہ اپنے عہدہ کا فیض اپنے قرابت داروں کو پہنچائے۔اس معاملہ میں سیاست داں تو ہر حد پھلانگ جاتے ہیں۔ سیاست دانوں کی اکثریت سول سروس کے عہدوں کو سیاسی مفادات اور رشوت کے بدلے تبادلوں کیلئے بطور انعام استعمال کرتی ہے۔اس کی وجہ سے جہاں اعلیٰ سطح پر بدعنوانی میں اضافہ ہوتا ہے وہیں درمیانی اورنچلی سطح پریہ عمل باقاعدہ ظلم و جبرکی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے کام کیلئے بھی عوام کو اس کی ’ قیمت‘ ادا کرنی پڑتی ہے۔ جو کام چند دنوں کا ہوتا ہے وہ رشوت یا قیمت نہ چکانے کی وجہ سے مہینوں اور برسوں تک ٹلتا رہتا ہے۔ بدعنوان افسران جان بوجھ کر پیسہ کمانے کیلئے عوام کے فلاحی منصوبوں کی تکمیل میں بھی مزاحم ہوجاتے ہیں۔ایک طرح سے بدعنوانی ملک کی ترقی، خوش حالی اور استحکام کی کھلی دشمن ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی بھی بدعنوانی اور اقرباپروری کو ملک کیلئے سخت چیلنج قرار دیتے ہوئے اس پر بروقت توجہ دینے کی بات اکثر کرتے رہتے ہیں۔لیکن بدعنوانی کے خلاف قانون کے نفاذ کی کمزوری دور کرنے کی سمت کوئی توجہ نہیں رہتی ہے۔لیکن عدالت نے اس سمت توجہ دے کر قانونی سقم دور کرنے کا اہتمام کیاہے۔
اب تک یہی دیکھا،سنا جاتارہاہے اور قانون کے ماہرین کا اس پر ا صرار بھی ہے کہ فوجداری تعزیری قوانین میں واقعاتی شہادت کی حیثیت انتہائی کمزور ہوتی ہے اوراس کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم قراردے کر سزایاب کرنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔لیکن اب سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے اس فیصلہ کے بعد بدعنوانی اور رشوت ستانی کے مقدمات ناکافی ثبوت کی بنا پر خارج نہیں ہوں گے نیزبدعنوانی کے خلاف جنگ کو رفتار بھی ملے گی۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS