اسمرتی ایرانی کاکر پشن فری حج بنانے کا عہداور عازمین کو مزید سہولتیں دینے کا وعدہ

0

محمد غفران آفریدی
نئی دہلی (ایس این بی) :اقلیتی امور کی مرکزی وزیر(حکومت ہند) اسمرتی زوبین ایرانی نے آج حج کا نفرنس میں شر کت کرتے ہوئے حج سے متعلق امور پر گفت وشنیدکرتے ہوئے حج کو بدعنوانی سے پاک کر نے کا عہدکیا نیزحاجیوں کو مزیدسہولتیں دینے کا بھی وعدہ کیا۔مرکزی وزیرنے کہاکہ جو بھی افسر کسی بھی طرح کے بدعنوانی میں ملوث پایا گیا ، اسے فوری طور بر خواست کیا جائے گا، کیو نکہ ہمارا مقصدعازمین حج کا پیسہ صحیح طریقے سے خرچ کر نا ہے اور ان کے سفر کو آسان بنانا ہے، نیز ان پر کوئی بھی چیز تھونپی نہیں جا نی چاہئے ۔ راجدھانی کے اسکوپ کمپلیکس میںمنعقد نیشنل کا نفرنس میںاسمرتی ایرانی آل انڈیا حج کمیٹی کے سینئر عہدیداران پر کئی بار سخت غصہ ہوئیں اور کہاکہ بدعنوانی میں شامل کسی بھی شخص کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قریب دو گھنٹے تک چلی اس کا نفرنس میں حج کمیٹی آف انڈیا کے سینئرعہدیداران اور کارکنان کے علاوہ پورے ملک سے حج کمیٹی کے چیئر مین ، سی ای اواور سینئر ممبران نے شر کت کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مرکزی وزیراسمرتی زوبین ایرانی نے حاجیوں کوزبردستی بیگ،چادر ، لوٹا، چھتری اور تکیہ وغیرہ لا زمی طور پر دئے جانے کو لے کرسخت برہم ہوئیں اور اس پرجانچ کا حکم دیا۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر نے میڈیا کے داخلے پرمکمل طرح سے پابندی عائد کر دی تھی اور کسی بھی صحافی کو آڈیٹوریم میںبیٹھنے تک نہیںدیا۔
دراصل ملی جانکاری کے مطابق مرکزی وزیر کے سامنے یہ بات سامنے آئی کہ عازمین کو ائیر پورٹ کیلئے دوسرے صوبے تک جانا پڑتا ہے ، تو اس پر اسمرتی ایرانی نے کہاکہ کوئی بھی عازم جس صوبے میں رہتا ہواور اس کے قریب میں جو نزدیک ایئر پورٹ ہو ، وہ اسی ریاست سے جائے گا ، اس بات کو یقینی بنایاجائے گا، کیو نکہ عازمین کی آسانی کیلئے حج کمیٹیاں بنائی گئیں ہیں، ان کو مشکلات نہیں ہو نی چاہئے ۔ میٹنگ کے دوران مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی اور سینٹرل حج کمیٹی کے ڈپٹی سی ای او ڈاکٹر مسرور قریشی کے درمیان بحث ومباحثہ ہوگئی ، جس کے بعد مرکزی وزیر نے میٹنگ سے ہی نہیں بلکہ عہدے سے برخواست کرنے کا حکم دیا،یہی نہیں اسمرتی ایرانی نے سینٹرل حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمدیعقوب شیخا(آئی آر اے ایس) کی بھی جم کر کلاس لی اور پی ایس بھاٹیہ کو آڈٹ اور جانچ کا حکم دیا۔میٹنگ میں یہ بات بھی آئی کہ حاجیوں کی خدمت کے سلسلے میں خادم الحجاج کی طرف سے 600آدمی ہر سال جاتے ہیں،جو سرکاری خرچے پر جاتے ہیں ،جبکہ وہ سب حاجیوں کی خدمت کے بجائے حج کے سفر کوسیر و تفریح کے طور پر لیتے ہیں،اس پراسمرتی ایرانی نے کہاکہ ایسے لوگوں کی بجائے غریب حاجیوں کو موقع دیا جائے گا ۔
اس موقع پر عازمین سے ایئر لائنزکے ذریعہ ڈبل رقم وصول کرنے کا معاملہ بھی اٹھا ،جس پر اسمرتی ایرانی نے کہاکہ اس سلسلے میں وزارت ہوابازی اور وزارت خارجہ سے بات کی جائے گی ، کیو نکہ جب عازمین کے 36سے 40ایام طے ہوتے ہیں ،لہذاایسی صورت میں کرایہ ڈبل کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ مرکزی وزیر کو بتایاگیا کہ حج آپریشن کے دوران عورتوں کو پردے کے سلسلے میں دقت ہوتی ہے ، اس کیلئے اسمرتی ایرانی نے عورتوں کی ایک ٹیم بنانے کا اعلان کیا ۔وزارت اقلیتی امورکی مرکزی وزیر نے یہ بھی کہاکہ سینٹر ل حج کمیٹی کی طرف سے سول سروسز کے امتحانات کی تیاری کے لیے جو کلاسیں چلائی جاتی ہیں تو وہ اب نہیں چلائی جائیں گی ، کیو نکہ انہوںنے معلوم کیا کہ کتنے بچے سول سروسز میںکا میاب ہوئے ، جس پر بتایا گیا کہ انکی تعداد نہ کے برابر ہے ، جبکہ حج کمیٹی آف انڈیا کاکروڑوں روپئے خرچ ہو تا ہے، جس پر وزیر اقلیتی امور نے حکم دیا کہ اس کو ختم کیا جائے۔ اسمرتی ایرانی کو بتایا گیا کہ جو ریال ایئرپورٹ پرحاجیوں کودئے جاتے ہیں،اتنا پیسہ پہلے ہی کاٹ لیاجاتاہے،تو مرکزی وزیر نے کہاکہ وہ اب نہیں ہو گا کیو نکہ اس سے بینکوں میں رکھا سودبڑھتا ہے ،حج کمیٹی جو 21سو ریال ایک حاجی کو دیتی ہے ،اس کو ختم کیا جا نا چاہئے ،انہیں بتایا گیا کہ انٹرنیشنل سفر کیلئے ایک مسافر کو 10ہزار ڈالر کی اجازت ہوتی ہے،ایسے میںحاجیوں پرہی منحصر ہو گا کہ 10ہزار ڈالر کے تحت جتنے مرضی چاہے ریال لے کر جاسکتا ہے اورسم کارڈ لے جا نے کا بھی سسٹم ختم کیا جانے کا اعلان کیا ۔
اس موقع پراسمرتی ایرانی نے زور دے کر کہاکہ کر پشن فری حج بنانا ہے ، ساتھ ہی کوشش ہے کہ ہندوستان سے حج کو سستے سے سستا کیا جائے ،ساتھ ہی جس صوبے کی جو بھی پریشانیاں ہیںوہ ہمیں درخواست دیں انہیںایک ہفتے میں جواب دیا جائے گااوربعد میں عمل درآمدکیاجائے گا ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ قریب ایک لاکھ روپئے سستا ہو نا چاہئے ،میں حج آپریشن کو صاف و شفاف بنائوں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ وزارت اقلیتی امور میں پہلی ایسی وزیر آئی ہیں جو زمینی سطح سے کام کررہی ہیں اورحج کمیٹی کے افسران اورصوبے کی حج کمیٹی کے سینئر کارکنان سے سیدھی میٹنگ کرکے گفتگو کی ہے ، جو واقعی قابل ستائش ہے ،امید ہے کہ ہندوستان کے غریب حاجیوں کو کافی فائدہ ہوگا ،کیو نکہ آج تک کسی مسلم وزیرنے بھی ایسے فوری فیصلے نہیںلئے ، جو اسمرتی زوبین ایرانی نے لئے ہیں۔