سرسیّد اورعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی

0

سرسیّد تیراکی،کشتی ،کرکٹ اورہاکی وغیرہ میں بچپن سے ہی دلچسپی رکھتے تھے
انجینئر احمد رئیس صدیقی( علیگ)
نئی دہلی : 17اکتوبرکا دن ساری دنیا میں مرحوم سرسیّد احمد خاں کی یوم پیدائش کے طورپر منایاجاتاہے اور پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ حضرات موجود ہیں وہ اس دن کو’سرسیّد ڈے ‘کے نام سے مناتے ہیں اور تمام ممالک میں اس دن ’سرسیّد ڈنر‘کا بھی اہتمام کیاجاتاہے۔خاص طور سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جس کے بانی سرسیّد ؒ تھے وہاں پر دنیا کا سب سے بڑا ڈنر(عشائیہ) کااہتمام ہوتا ہے۔واضح رہے کہ آج سے 60برس قبل ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو جب پہلی بار مسلم یونیورسٹی میں ’سرسیّد ڈے‘پر مہمان خصوصی تھے تو اس دن میں بھی وہاں پرموجودتھا اور پنڈت جواہر لعل نہرو نے اس دن وہاں پر تقریباً 20 ہزارطلباوطالبات کے ساتھ ڈنرکیا اوراس کے بعد تمام طلبا سے مخاطب ہوئے تو ہم سب طلباکو بتایا کہ میں تمام دنیا میں گھوم چکاہوں اورایک سے ایک راجا اور مہاراجا اوربڑے سے بڑے فنکشن کو اٹینڈ کرچکا ہوں مگر میں نے اپنی زندگی میں آج تک اتنا بڑا ڈنر اور وہ بھی ایک ساتھ اتنے سارے لڑکے ولڑکیوں کے ساتھ نہیں کیا۔مجھے یہ دیکھ کر بیحد خوشی ہورہی ہے کہ اتنے بڑے اہتمام میں ذراسی بھی کوتاہی نہیں ہوئی اور انتہائی شاندار طریقہ سے یہ ڈنراختتام پذیر ہوگیاجس کیلئے میں آپ سب طلبا ،اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کا بیحدشکرگزارہوں۔ مگر گزشتہ کئی برسوں سے نامعلوم کن وجوہات سے اب یہ ڈنر سرسیّدہال میں ایک ساتھ ایک جگہ منعقد نہیں کیا جاتابلکہ یونیورسٹی کے دیگر ہالوں میں الگ الگ اس کا اہتمام کیاجارہاہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب یونیورسٹی کے طلبا کی تعداد 20ہزار سے بڑھ کر 30ہزار یااس سے زیادہ ہوگئی ہے اور سرسیّد ہاؤس میں اتنے لوگوںکو بیک وقت ڈنرکرناناممکن سا ہوگیا ہے البتہ جو بات ایک ساتھ سرسیّدہال میں ایک جگہ ڈنرکرنے میں جومزہ آتا تھا وہ اب الگ الگ ہالوں میں ڈنرکرنے میں نہیں آتاہے۔خیر چھوڑیئے اب ڈنرکی بات اور کرتے ہیں ذکر سرسیّد ہاؤس کا۔ مسلم یونیورسٹی کے ہراولڈ بوائز کو اس بات پر بڑا فخر ہوتا ہے کہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے مگر مجھے اس بات پر بیحد فخر ہے کہ میں نہ صرف مسلم یونیورسٹی کا تعلیم رہاہوں بلکہ وہاں سرسیّد ہاؤس میں میری پیدائش بھی ہوئی ہے۔
سرسیّد ہاؤس کے عقب میں ایک گیسٹ ہاؤس تھاجس کا نام ’پھونس والی بنگلیہ‘تھی۔ سرسیّدؒ کے جتنے بھی گیسٹ اور ان کے عزیز جب علی گڑھ تشریف لاتے تھے تو ان کے قیام کیلئے سرسیّد نے سرسیّدہاؤس کے عقب میں ایک گیسٹ ہاؤس جسے پھونس والی بنگلیہ کے نام سے جاناتھا،اس میں ان کا قیام ہوتا تھا۔
سرسیّد ؒ جب دہلی سے علی گڑھ تشریف لائے تو میرے پردادا مرحوم شیخ کریم الدین جو کہ ان کے پرسنل منیجر تھے بھی ان کے ہمراہ دہلی سے علی گڑھ آئے تو ان کے رہنے کیلئے سرسیّد ؒ نے اسی گیسٹ ہاؤس میں جگہ دی۔ شیخ کریم الدین کے 2بیٹے تھے۔ بڑے بیٹے محمد علی جو کہ بعد میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کے صدر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے اور چھوٹے بیٹے پروفیسر عمر علی صدیقی جنہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے میتھ میٹکس میں ٹاپ کرکے وہاں پر بطور لیکچرر اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔ بعد ازاں وہ انجینئرنگ کالج میں ایپلائڈ سائنس کے سب سے پہلے صدر بن گئے اور لیبیامیں طرابلس یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے کئی برسوں تک اپنی خدمات انجام دی۔
پروفیسر عمر علی صدیقی اپنے سگے بھانجہ مرحوم رئیس الدین (میرے والد)جو کہ میرٹھ میں ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے انہیں علی گڑھ لے کر آئے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں این آر ایس سی کلب کا پہلا منیجر بنایا۔ میرے والدمرحوم ہندوستان کے تقسیم کے بعد اپنی فیملی علی گڑھ لے آئے اورمذکورہ پھونس والی بنگلیہ میں میں نے اپنی آنکھیں کھولیں۔ کئی برس وہاں مقیم رہنے کے بعد میرے پرنانا شیخ کریم الدین نے سرسیّد ہاؤس کے سامنے ایک بڑی کوٹھی تعمیرکرائی جسے انہوںنے اپنے آبائی گاؤں ’انچولی ‘ضلع میرٹھ ،’انچولی ہاؤس ‘ کے نام سے موسوم کردیا جو آج بھی وہاں موجودہے ،اس میں ہم لوگ پوری طرح سے منتقل ہوگئے۔جب میں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ’منٹوسرکل اسکول ‘ میں پہلی کلاس میںداخلہ لیا تو پھر ہمارا انچولی ہاؤس سے سرسیّد ہاؤس کے درمیان سے ہوتے ہوئے روزانہ اسکول آنا جانا ہوتا تھا۔ پہلے تو سرسیّد ہاؤس ایک پھونس کا بنگلہ تھا مگر بعد میں اس کے خستہ حال ہونے کی وجہ سے اسے از سرنوپختہ تعمیر کرادیا گیااور اس کے چہارجانب ایک چہاردیواری بھی کھینچ دی گئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن یونہی گزرتے گئے اور ہم روزسرسیّد ہاؤس کے درمیان سے اسکول آتے جاتے رہے اور اس طرح ہم کالج تک پہنچ گئے تو سرسیّد ہاؤس کی گرتی ،بگڑتی اور پھر سنورتی ہوئی سرسیّد ہاؤس کی تصویریں ہم برابر دیکھتے رہے۔سر سیّد ہاؤس کے چاروں طرف پہلے تو بڑے بڑے جنگلی گھاس پھونس ہواکرتے تھے۔رات میں کالج سے گھرلوٹتے وقت سرسیّد ہاؤس کے پاس ان جنگلی اندھیرے سے کافی ڈرسا لگتا تھا ۔ اکثروبیشتررات میں چوراچکوں کا بھی ہم سے سامناہوجایاکرتا تھا۔ ایک دن رات کو 11بجے جب میں مولانا آزاد لائبریری سے پڑھ کرگھرلوٹ رہا تھا جو جاڑوں کی رات تھی ،مجھے کچھ بدمعاشوںنے سرسیّد ہاؤس کے قریب روک لیامگر جب میں نے ان سے کہا کہ میں تو پڑھ کر لوٹ رہاہوں، میرے پاس کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے توپھر وہ بدمعاش مجھ سے بولے کہ ارے کپتان صاحب آپ اتنی رات میںیہاں سے مت گزرا کیجئے۔ آج تو ہم نے آپ کو معاف کردیا مگر کسی اور نے آپ کو یہاں نہیں پہچانا تو پھر آپ کو پریشانی ہوسکتی ہے۔شاید انہوںنے مجھے اس لیے معاف کردیا کہ میں اس وقت یونیورسٹی کے ٹیبل ٹینس کاچمپئن اورکپتان بھی تھا۔اکثر میرے میچ کو دیکھنے کیلئے یونیورسٹی کے طلبا اور باہر کے لوگ آیا کرتے تھے۔شاید انہی میں سے کوئی اس دن وہاں پر منھ پر کپڑا باندھ کر لوٹ مارکیلئے بیٹھاتھا۔ بعد میں سرسیّد ہاؤس کے شمال میں کئی نئے ہاسٹل تعمیر ہوگئے جس میں سرضیاء الدین ہاسٹل، سیفی ہاسٹل اور بعد میں امین ہاسٹل کے پیچھے بھی کئی ہاسٹل تعمیر ہوگئے۔سرسیّد ہال کے جنوب میں مزمل منزل کے قریب بھی کئی مکانات بننے لگے ۔اس طرح کافی آبادی پھیل گئی۔ انچولی ہاؤس اور سرسیّد ہاؤس کے درمیان بھی ایک گیسٹ ہاؤس سرسیّدؒ نے تعمیرکرایاتھاجس کا نام ’پیلی کوٹھی‘ تھا،اس میں بھی کچھ دن میرے دادامحمد علی اور پروفیسر عمرعلی اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہے ۔ بعد ازاں انچولی ہاؤس میں شفٹ کرگئے۔ پیلی کوٹھی کے برابر اے ڈی ایم کمپاؤنڈ تھاجس کے آس پاس بھی کافی مکانات بھی بننے شروع ہوگئے۔اس طرح سے سرسیّد ہاؤس کے چاروں طرف مکانات تعمیر ہونے کی وجہ سے سنسان سڑک پر کافی چہل پہل بڑھ گئی۔ اب سنا ہے کہ وہاں پر کوئی لوٹ مارنہیں ہوتی ہے مگر ابھی چند دن قبل ہی جب میں علی گڑھ گیاتو اپنے پیدائشی مکان (پھونس والی بنگلیہ) کو دیکھنے گیا تو وہاں پرپھونس والی بنگلیہ کا نام ونشان بھی نظر نہیںآیا، اس جگہ پر بنگلیہ کو توڑکر ایک خوبصورت لان بنادیا گیا ہے۔مجھے یہ دیکھ کر بیحد افسوس ہوا کہ نامعلوم کیوں اس پھونس والی تاریخی بنگلیہ کو بجائے اس کے کہ اس کی دیکھ ریکھ کی جاتی اس کا نام ونشان مٹادیا گیا۔
سرسیّد ہاؤس کے سامنے بہت اچھے گلاب کے پھول ہوا کرتے جن کو ہم اکثر رات میں گزرتے وقت ایک دوپھول توڑلیاکرتے تھے اور اگلی صبح کسی پیارے دوست کو گفٹ کردیا کرتے تھے۔ مگر اب سرسیّد ہاؤس کے چاروں طرف دیوار اٹھادی گئی ہے ۔اس طرح درمیان کا راستہ بند کرکے ایک بڑا سا گیٹ بھی لگاکر وہاں پر ایک پہرہ داربٹھادیا گیا ہے۔ اب اس سرسیّد ہاؤس کو ایک میوزیم بنادیا گیا ہے جس میں سرسیّدؒ کی کرسی اورٹیبل جس پر وہ بیٹھ کر کام کیاکرتے تھے، ان کا بستر،ان کی چھڑی، جیب گھڑی،کپڑے اور ظروف وغیرہ بھی رکھے ہوئے ہیں اوراسی میں ایک لائبریری بھی ہے جس میں ان کے ہاتھ کی تصنیف کردہ کئی کتابیں آئینہ اکبری، اسباب بغاوت ہند، تہذیب الاخلاق ،آثارالصنادید، جلال القلب ذکرالمحبوب، تحفہ حسن،تہذیب فی جرثقیل وغیرہ رکھی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر بیحد خوشی ہوتی ہے کہ مرحوم آج کیلئے ایک قیمتی خزانہ چھوڑگئے ہیں۔سرسیّدہاؤس کے بائیںجانب ایک شاندار جامع مسجد کی تعمیر کردی گئی ہے۔اس طرح سے کل کا سرسیّدہاؤس اور آج کے سرسیّدہاؤس میں زمین وآسمان کا فرق نظرآتاہے مگر آج بھی میرے ذہن میں وہ 50برسوں پرانا پھونس سے بناسرسیّدہاؤس تازہ ہے اورمیں کہوںگا کہ جو بات پرانے پھونس کے بنے سرسیّدہاؤس میں تھی وہ آج کے اس پختہ سرسیّد ہاؤس میں نہیں ہے۔یہ بات دیگر ہے کہ اب یہ پختہ بن گیاہے مگر اس کی اوریجنلٹی ختم ہوگئی ہے۔
آج کے سرسیّد ڈے نے تقریباً60 برسوں قبل کے سرسیّد ہاؤس اور پھونس والی بنگلیہ کی یاد کو تازہ کردیا ہے۔
سرسیّدؒ کے بارے میں اکثروبیشتر ذکر کیا جاتاہے کہ وہ صرف ایک اچھے مسلمان، اچھے ایڈمنسٹریٹراور پروگریسیومسلمان تھے جنہوں نے مسلمانوں کی گرتی ہوئی حالت زارکو دیکھتے ہوئے ان کیلئے ایک ایسا ادارہ کے قیام کیلئے دن دوگنی رات چوگنی کوشش کی کہ جہاں پر نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو، سکھ ، عیسائی اور دیگر تمام مذاہب کیلئے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جس کو قائم کرنے کیلئے پہلے تو مسلمانوں نے ہی ان کی مخالفت کی باوجود اس کہ انہوںنے ہمت نہیں ہاری اور در بدرٹھوکرے کھائیں، لوگوںکی گالیاں سنیں پھر بھی ہمت نہیں ہاری اورایک ایسا ادارہ قائم کیا جس کا نام اینگلواورنٹیل کالج رکھاگیاجو پہلے تو منٹوسرکل اسکول کی شکل میں شروع ہوا اور بعد میں بڑھتے بڑھتے 1920میں ایک سینٹرل یونیورسٹی کی شکل لے لیا۔اس ادارہ سے نامعلوم کئی ہزارہندو، مسلم ،سکھ ،عیسائی تعلیم حاصل کرکے انجینئر، ڈاکٹر، وکیل اور ٹیچرس وغیرہ بن گئے اور تمام ممالک میںآج اس ادارہ کے ساتھ ساتھ سرسیّدؒ کا نام روشن کررہے ہیں۔
سرسیّدنے اس ادارہ میں جہاں دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے طلبا کی ہمت افزائی کی وہاں پر انہوںنے کھیل کے میدان میں بھی طلبا سے یہی کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل بھی ایک اہم چیز ہے اور آپ کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، کیوںکہ کھیلنے سے صحت بھی ٹھیک رہتی ہے۔سرسیّد بچپن سے ہی تیراکی،کشتی،کرکٹ اور ہاکی کے شوقین تھے اور اکثروبیشتر علی گڑھ میں شام کے وقت کلاس کے بعد کھیل کے میدان میں جاکر لڑکوں کے ساتھ خود بھی کرکٹ اور ہاکی وغیرہ کھیلا کرتے تھے۔سرسیّد کی کوششوں کی ہی وجہ سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پہلی بار سرسیّد11-اور گورنرس 11-کے درمیان ایک کرکٹ میچ ہوا جس میں سرسیّد کی ٹیم نے گورنرس کی ٹیم کو ہرادیا۔جس کے بعد سے علی گڑھ میں کرکٹ کھیلنے کا شوق طلبا میں کافی تیزی بڑھ گیا۔بعد میں علی گڑھ کے ویلنگڈن پویلین سے کھیلتے کھیلتے نامعلوم سیکڑوں کرکٹرس نے ہندوستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یونیورسٹی اور ملک کا نام روشن کیا جن میں لالہ امرناتھ (ہندوستان کے کرکٹ کپتان)، نواب آف پٹودی (سینئر ہندوستان کے کرکٹ کپتان)، محمد علی اور حامد علی وغیرہ نے بھی کافی نام کمایا۔نائب صدرجمہوریہ ہند حامد انصاری بھی اسی کرکٹ کے میدان سے کھیلتے ہوئے ایک قومی اچھے کرکٹربنے اور اس طرح صدر کے عہدہ تک پہنچ گئے۔ان کی اہلیہ سلمیٰ انصاری بھی یونیورسٹی کی بیڈمنٹن کی ایک اچھی کھلاڑی رہ چکی ہیں۔
ہاکی کو بھی شروع کیا گیا اور اس میدان سے اولمپئن انعام الرحمن،اسلم شیرخاں، گووندا، سیّد علی،علی سعیداور سابق ہندوستان کے ہاکی کپتان ظفراقبال وغیرہ نے بھی اس یونیورسٹی اور ملک کا نام روشن کیا۔
کرکٹ ،ہاکی کے علاوہ بھی دیگر کھیلوں میں سرسیّد کی دین کی وجہ سے نامعلوم کتنے کھلاڑیوں نے اپنا اور ملک کانام روشن کیا ان کی ایک طویل فہرست ہے مگر ابھی حال ہی میں منعقد 19ویں دولت مشترکہ کھیل میں اسی یونیورسٹی کی ایک سابق طالبہ انّوراج سنگھ نے نشانہ بازی میں سونے کا تمغہ اپنے نام کرکے یونیورسٹی اور ملک کا نام دنیا میں روشن کیا۔
میں خود بھی سرسیّد کی اس دین کی وجہ سے کرکٹ ، ہاکی یا فٹ بال پرتو زیادہ ریاض نہیں کرسکا مگر ٹیبل ٹینس میں اس یونیورسٹی کا پہلا قومی کھلاڑی بنااور 1966میں پہلی بار آل انڈیا نیشنل ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ میں اترپردیش کی کپتانی کی بعد میں آل انڈیا پاور سیکٹرکا پہلا سنگلس چمپئن بھی بنا۔مجھے یہ لکھتے ہوئے بیحد خوشی ہورہی ہے کہ میں سرسیّدہاؤس میں پیداہونے کے بعد آج ہندوستان کی مہارتنا کمپنی این ٹی پی سی میں سینئر منیجرنیوبزنس ڈیولپمنٹ کے عہدہ پر دہلی میں فائز ہوں اور کمپنی کی ٹیبل ٹینس اورٹینس کا چمپئن اور کپتان بھی ہوں ساتھ ہی عالمی ریڈیووٹی وی کمنٹریٹر، کوئز ماسٹراور اسپورٹس کا صحافی بھی ہوں۔ میں آج جو کچھ بھی ہوں تو صرف سرسیّد مرحوم کی کھیل کی اسپرٹ کی بدولت ہی یہاں تک پہنچاہوں۔یوں تو آج تک سرسیّد پرنہ جانے کتنے لوگ قلمبند کرچکے ہیںمگر میں نے سرسیّد ہاؤس میں جنم لیا اور وہاں سے 60سال کے طویل عرصہ میں میں نے پڑھائی اور کھیل میں جوحاصل کیاتو صرف اس وقت سرسیّدؒ کی کھیل کی دلچسپی کے بارے میں ہی لکھنے کی جرأت کیا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ یہ مضمون آپ کو کچھ دیگراورنئی باتوں سے روشناس کرائے گا۔
سرسیّدؒ نے یہ ادارہ قائم کرکے غریب مسلمانوں کے اوپر جو احسان کیا ہے اس کا یہ احسان کبھی نہیں اتاراجاسکتا۔ اگر مسلم یونیورسٹی آج نہ ہوتی تو نامعلوم ہندوستان میں مسلمانوں کا کیا حال ہوتا۔
17مارچ 1898کا دن ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے ایک اندوہناک اور صدمہ سے بھرا دن رہا کیوںکہ اس دن اس قوم کے رہنما نے اپنی آخری سانس لی اور پھر وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ہمیشہ ہمیش کیلئے سوگئے۔
یوں تو آتے ہیں سبھی مرنے کیلئے
مرناتوہے اسی کاجس کو کرے زمانہ یاد
میں تو یہی کہوںگا کہ سرسیّد زندہ آباد! مسلم یونیورسٹی پائندہ آباد!اور کیا لکھوں بس یہی کہوںگا کہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اقبالؔ
جوابر یہاں سے اٹھے گاوہ سارے جہاں پر برسے گا
خود اپنے چمن پر برسے گاغیروں کے چمن پر برسے گا
برسے گا، برسے گا،برسے گا،برسے گا
مجازؔ

انٹرنیشنل ریڈیو، ٹی وی کمینٹیٹر۔کوئز ماسٹر،اسپورٹس وسائنس صحافی،آل انڈیا پاورسیکٹرٹیبل ٹینس چمپئن وشاعر
سینئر منیجرنیوبزنس ڈیولپمنٹ

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here