شکیل، امام کی نصف سنچریوں نے پاکستان کو سنبھالا

پاکستانی ٹیم کو جیت کیلئے 157 رنز اورانگلش ٹیم کو 6 وکٹوں کی ضرورت

0

ملتان(ایجنسیاں)پاکستان کی جانب سے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے عبداللہ شفیق اور محمد رضوان نے 66 رن کی شراکت کی، لیکن پاکستان کی اننگز 20 رن کے اندر تین وکٹیں گرنے کے باعث لڑکھڑا گئی۔لنچ کے بعد محمد رضوان (30) کی وکٹ جیمز اینڈرسن کی گیند پر گرتے ہی کپتان بابر اعظم بھی ایک رن بنا کر آؤٹ ہو گئے ۔ جب عبداللہ شفیق اپنی ففٹی سے پانچ رن کم تھے تو وہ مارک ووڈ کے ہاتھوں بولڈ ہو گئے اور پاکستان کا اسکور 83/3 تھا۔شکیل اور امام نے پھر اننگز کو سنبھالا اور چوتھی وکٹ کے لیے 108 رن جوڑے ۔امام 104 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے 60 رن بنا کر آؤٹ ہوئے تاہم سعود شکیل 54 رن بنانے کے بعد وکٹ پر موجود ہیں۔اس سے قبل انگلینڈ نے ، جس نے پہلی اننگز میں 79 رن کی برتری حاصل کرلی تھی، تیسرے دن کا کھیل 5/205 پر شروع کرتے ہوئے 70 رن کا اضافہ کیا۔ ہیری بروک نے سیریز کی اپنی دوسری سنچری مکمل کرتے ہوئے 108 رن بنائے ، حالانکہ نچلے آرڈر کے بلے باز کوئی خاطر خواہ حصہ نہیں ڈال سکے ۔ بروک نے 149 گیندوں کی اننگز میں 14 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ کپتان بین اسٹوکس نے بھی 51 گیندوں پر ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 41 رن بنائے ، حالانکہ بروکس اسٹوکس کی شراکت ٹوٹنے کے بعد انگلینڈ صرف 20 رن کا اضافہ کرسکا۔پاکستان کی جانب سے ابرار احمد نے چار وکٹیں لے کر میچ میں اپنی 10 وکٹیں مکمل کیں۔ وہ اپنے ٹیسٹ ڈیبیو پر 10 وکٹیں لینے والے دوسرے پاکستانی گیندباز بن گئے ، زاہد محمود نے 1996 میں نیوزی لینڈ کے خلاف یہ ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔زاہد محمود نے بروک سمیت تین بلے بازوں کو آؤٹ کیا جبکہ محمد نواز نے ایک وکٹ حاصل کی۔انگلینڈ کے خلاف 355رن کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن اتوار کو چار وکٹوں پر 198 رن بنائے ۔ پاکستان کو میچ جیتنے اور سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے لیے مزید 157 رن درکار ہیں جبکہ انگلینڈ کو سیریز میں 2-0 کی ناقابل تسخیر برتری حاصل کرنے کے لیے چھ وکٹوں کی ضرورت ہے ۔
دوسرے ٹیسٹ میچ میں تیسرے روز کے اختتام پر انگلینڈ کے 355 رنز پاکستان نے 355 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پراعتماد آغاز کرتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے 66 رنز بنالیے تھے کہ اوپنر محمد رضوان تجربہ کار فاسٹ بالر جیمز اینڈرسن کا نشانہ بن گئے، وہ 30 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔وکٹ کیپر بلے باز کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان بابر اعظم کریز پر آئے لیکن زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور صرف ایک رن بنا کر اولی روبنسن کا شکار بن گئے۔پاکستان کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اوپنر عبد اللہ شفیق تھے جو 45 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، انہیں فاسٹ بالر مارک ووڈ نے آؤٹ کیا، اس وقت ٹیم کا مجموعی اسکور 83 رنز تھا۔بعد ازاں، سعود شکیل اور امام الحق کے درمیان 108 رنز کی شراکت قائم ہوئی، امام الحق 60 کے انفرادی اسکور پر لیچ کو کیچ دے بیٹھے۔سعود شکیل نے سیریز میں اپنی شاندار بلے بازی کا سلسلہ جاری رکھا اور چوتھی اننگز میں تیسری نصف سینچری اسکور کی۔تیسرے دن کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 198 رنز بنا لیے تھے، سعود شکیل 54 اور فہیم اشرف 3 رنز بنا کر کریز پر موجود ہیں۔اس طرح پاکستان کو جیت کے لیے مزید 157 رنز کی ضرورت ہے جبکہ اس کی 6 وکٹیں باقی ہیں۔قبل ازیں آج تیسرے روز کھیل کے آغاز پر ہیری بروکس نے سیریز میں زبردست فارم کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی نصف سنچری کو سنچری میں بدل دیا، وہ 108 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، انہیں زاہد محمود نے آؤٹ کیا۔کپتان بین اسٹوکس 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، انہیں محمد نواز نے آؤٹ کیا، ان کے علاوہ اولی روبنسن 3، مارک وڈ 6، جیمز اینڈرسن 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔گزشتہ روز کھیل کے اختتام تک مہمان ٹیم نے 5 وکٹوں پر 202 رنز بنا کر مجموعی برتری 281 رنز کرلی تھی جب کہ اس سے قبل پاکستان کی ٹیم بابر اعظم اور سعود شکیل کی نصف سنچریوں کے باوجود 79 رنز کے خسارے کے ساتھ 202 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے ابرار احمد نے دوسری اننگز میں انگلینڈ کے 4 کھلاڑی آؤٹ کرکے ڈیبیو ٹیسٹ میں اپنی 11 وکٹیں مکمل کیں۔ان کے علاوہ، زاہد محمود نے 3 اور محمد نواز نے ایک کھلاڑی کو آٹ کیا۔انگلینڈ نے 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان پاکستان کو آخری سیشن میں 74 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل کرلی تھی۔انگلینڈ کی ٹیم 17 سال بعد پاکستانی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہے، اس سے قبل انگلش ٹیم نے 2005 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔