سنجے راؤت نے سوال اٹھایا کہ پیگاسس اسپائی ویئرکی فنڈنگ کس نے کی؟

0
Times of India

ممبئی، (پی ٹی آئی) : شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے اتوار کے روز پوچھا کہ پیگاسس کے ذریعہ رہنمائوں اور صحافیوں کی مبینہ جاسوسی کی فنڈنگ کس نے کی۔ انہوں نے اس کا موازنہ ہیروشیما نیوکلیائی بم حملے سے کرتے ہوئے کہا کہ جاپان کے اس شہر پر حملے سے لوگوں کی اموات ہوئیں تو وہیں اسرائیلی سافٹ ویئر کی جاسوسی سے ’آزادی کی موت‘ ہوئی۔
شیو سینا کے ترجمان اخبار’سامنا‘کے اپنے ہفتہ وار کالم ’روکھ ٹھوک‘میں رائوت نے لکھا کہ’جدید ٹکنالوجی ہمیں غلامی کی طرف واپس لے کر گئی ہے۔‘انہوں نے کہا کہ پیگاسس معاملہ’ہیروشیما پر نیوکلیائی بم حملے سے الگ نہیں ہے۔‘رائوت نے دعویٰ کیاکہ’ہیروشیما میں لوگوں کی موت ہوئی جبکہ پیگاسس معاملے سے آزادی کی موت ہوئی۔‘انہوں نے کہا کہ لیڈر، صنعت کار اور سماجی کارکنان کو یہ خوف ہے کہ ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے اور یہاں تک کہ عدلیہ اور میڈیا بھی اسی دبائو میں ہے۔ سامنا کے ایگزیکٹو اڈیٹر نے کہا کہ ’قومی راجدھانی میں آزادی کا ماحول کچھ سال پہلے ختم ہو گیا۔‘انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اسرائیلی سافٹ ویئر کے ذریعہ مبینہ جاسوسی کی فنڈنگ کس نے کی۔
میڈیا میں آنے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کمپنی این ایس او پیگاسس سافٹ ویئر کے لائسنس کے طور پر سالانہ 60 کروڑ روپے کا فیس لیتی ہے۔ راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ ایک لائسنس کے ذریعہ 50 فون کو ہیک کیا جا سکتا ہے تو ایسے میں 300 فون کے لیے 6 سے 7 لائسنس کی ضرورت پڑے گی۔ رائوت نے پوچھا کہ ’کیا اتنی رقم خرچ کی گئی؟ کس نے اس کی ادائیگی کی؟ این ایس او کا کہناہے کہ وہ اپنا سافٹ ویئر صرف سرکاروں کو فروخت کرتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہندوستان میں کس سرکار نے اس سافٹ ویئر کی خرید کی؟ ہندوستان میں 300 لوگوں کی جاسوسی پر 300کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ کیا ہمارے ملک کے پاس جاسوسی پر اتنی رقم خرچ کرنے کی صلاحیت ہے؟‘انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر (اور سابق مرکزی آٹی ٹی وزیر) روی شنکر پرساد نے یہ کہہ کر جاسوسی کو جائز ٹھہرایا کہ دنیا کے 45 ملکوں نے پیگاسس کا استعمال کیا ہے۔ رائوت نے دعویٰ کیا کہ وہ صحافی جنہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے زیر قیادت سرکار کی تنقید کی، وہ بھی جاسوسی کے نشانے پر تھے۔
ایک عالمی میڈیا تنظیم نے گزشتہ ہفتہ خبر دی تھی کہ پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال وزرا، لیڈروں، سرکار حکام اور صحافیوں سمیت تقریباً 300 ہندوستانیوں کی نگرانی کرنے کے لیے کیا گیا۔ اس سے ملک میں ایک بڑا سیاسی تنازع شروع ہو گیا ہے۔ حالانکہ سرکار نے خاص لوگوں پر کسی بھی طرح کی نگرانی کے الزام کو خارج کر دیا۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here