روس-یوکرین بحران: ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی پر سپریم کورٹ میں عرضی

0
Image:IndiaTVNews

نئی دہلی: (یو این آئی) روس-یوکرین جنگ کے بحران میں پھنسے ہزاروں ہندوستانیوں کی حفاظت، محفوظ واپسی اور بنیادی سہولیات کی مانگ کے لئے سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی گئی ہے۔ عرضی گزار کے وکیل وشال تیواری نے سپریم کورٹ پر زور دیا ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو فوری طور پر ضروری سفارتی قدم اٹھانے کی ہدایت دے۔ یوکرین میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے مستقبل کے بارے میں خاص طور پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ جو لوگ پڑھائی اور ملازمتوں اور دیگر کاموں کے لیے یوکرین گئے ہیں ان کے لیے ہندوستان واپس آنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ وہاں ہزاروں طلباء سمیت دیگر افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ بحران کی اس صورتحال میں ہندوستانیوں کی فلاح و بہبود سے لے کر خوراک اور ادویات کی فراہمی تک ایک بڑا چیلنج باقی ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کو سفارتی ذرائع سے ضروری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ضروری سہولیات بروقت فراہم کی جاسکیں۔
جنگی صورتحال کے پیش نظر درخواست گزار نے میڈیکل کے شعبے میں ایم بی بی ایس کرنے والے طلبہ کے مستقبل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ طلباء کے لیے آن لائن تعلیم اور تعلیم سے متعلق سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہدایات دیں۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے، ان کی بحفاظت واپسی کے انتظامات اور ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھے۔ حکومت اس سے بچ نہیں سکتی۔
واضح رہے کہ طویل عرصے سے جاری باہمی تنازع کے بعد روس نے یوکرین پر حملہ کردیا ہے۔ یوکرین میں رہنے والے ہندوستانیوں کے اہل خانہ گولہ باری کی روزانہ کی خبروں کی وجہ سے یہاں ان کی خیریت کے بارے میں گہری فکر مند ہیں۔