روس نے یوکرین کے ایم آئی- 8 ہیلی کاپٹر مار گرایا

0

ماسکو(ایجنسیاں) : روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ روسی افواج نے صوبہ زاپو ریزیا کے علاقے ’نوفوتروتروئتس کویہ‘ میں یوکرین کا ایک ایم آئی 8 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔وزارت کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا کہ روسی افواج نے خارکوف کے علاقے میں ’سٹیپووایا نوووسیلوکوئے‘کے دیہاتوں میں یوکرائنی فورسز کی 4کمانڈ پوسٹوں پر بمباری کی، ڈونیٹسک میں ’کولوڈیسی‘، ’ٹریوونوکا‘اور کھیرسن کے علاقے میں ’آندریوکا‘ کے علاقوں میں بمباری کی گئی۔ اس کے ساتھ یوکرین کے 186 علاقوں میں 62 فائرنگ یونٹس کی پوزیشنوں پر اہلکاروں اور فوجی سازو سامان کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یوکرینی افواج نے کوبیانسک کے محور میں خار کیف کے علاقوں ’نیکولائیوکا‘ اور ’اورلینکا‘ کے دیہات کی سمت میں روسی ٹھکانوں پر حملے کئے تاہم ان حملوں کو پسپا کردیا گیا۔ روسی فورسز کی کارروائیوں میں 60 یوکرینی فوجی اور عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ ایک ٹینک، 6 بکتربند گاڑیاں اور 3 ٹرک تباہ ہوگئے ہیں۔روسی فضائی حملوں نے یوکرین کے دفاعی ادارے کو بھی نشانہ بنایا جو یوکرین کی مسلح افواج کے لیے ٹھوس راکٹ ایندھن، دھماکہ خیز مواد تیار کرتا ہے۔انہوں نے کھیرسن اور ڈونیٹسک کے علاقوں میں روسی فضائی دفاع نے 4 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا۔ اس علاقے میں امریکی ہیمارس لانچرز سے داغے گئے 6 میزائلوں کو بھی تباہ کیا گیا۔ادھرایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اعلان کر دیا کہ ریزرو فوجیوں کی عارضی بھرتیاں مکمل ہوگئی ہیں۔ 21 ستمبر کو شروع ہونے والے عارضی بھرتیوں کے عمل کے مکمل ہونے کا اعلان کیا گیا۔روسی وزیر نے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ایک ملاقات میں بتایا ک جزوی بھرتی کے ایک حصہ کے طور پر ایگزیکٹو حکام کے 1,300 ملازمین کو فورسز میں بلایا گیا تھا۔شوئیگو نے کہا عارضی اور جزوی طور پر فوج میں بھرتی کئے جانے والے افراد کی زیادہ سے زیادہ عمر 35 سال رکھی گئی ہے۔روسی وزیر نے پوتن سے ملاقات میں اعتراف کیا کہ ابتدائی مرحلہ میں فوجی عارضی بھرتیوں کے دوران رسد کے مسائل تھے تاہم اب ایسے مسائل ختم ہوگئے ہیں۔شوئیگو نے مزید کہا کہ 3 لاکھ افراد کے عارضی فوجیوں کی بھرتی سے 3 لاکھ رضاکارانہ بھرتیوں کا عمل بھی مکمل ہوگیا ہے۔ انہوں نے پوتین کو بتایا کہ تربیت کے بعد 82 ہزار افراد کو تنازعہ والے علاقوں میں بھیج دیا گیا ہے۔2 لاکھ 18 ہزار افراد کو تربیتی میدانوں اور جنگی رابطہ کاری کے کاموں میں لگایا گیا ہے۔واضح رہے روسی صدر نے 21 ستمبر کو افواج کی حمایت کیلئے ملک گیر بھرتیوں کا اعلان کردیا تھا۔ اس اعلان کے مرہون منت روس میں مردوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی۔ نوجوانوں نے فوج میں بھرتی ہونے سے بچنے کیلئے بیرون ملک فرار ہونا شروع کر دیا اور فوج میں جزوی بھرتیوں کا عمل رک کر رہ گیا تھا۔ایک لاکھ 94 ہزار روسی شہری جارجیا، قزاقستان اور فن لینڈ فرار ہوئے ہیں اور ادھر ہی علاج بھی کرائیں۔خیال رہے ان دنوں بھی روس کی سرحدوں کو جانے والی سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی کھڑی ہیں۔