پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے متوسط طبقہ کا گھر چلانا ہوا دشوار

0

محمد اسلم
نئی دہلی (ایس این بی ) : پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب ضروری اشیاکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے باعث متوسط طبقے کے لوگوں کو گھر چلانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں پیٹرولیم کمپنیوں نے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے سلنڈر کی قیمت 999.50 روپیہ کر دی ہے جبکہ ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں گزشتہ 22 مارچ کو ہی اضافہ کیا گیا تھا ایک ماہ کے دوران ہی یہ دوسری مرتبہ قیمتوں میں اضافہ کرکے غریبوں کو ایک طرح سے واضح کیا گیا ہے کہ قیمتوں میں اور بھی اور کبھی بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے، مرکزی حکومت پہلے ہی چور راستے سے گھریلو ایل پی جی سلنڈر سے سبسڈی ختم کر چکی ہے، یہ بھی غور طلب بات ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی کھانے پینے کی ضروری اشیاکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے جیسے کھانے کا تیل اس وقت 180 روپیہ کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ سبزی، پھل، دال، چینی، آٹا، مرچ، یا دیگر مصالحہ کی قیمتیں بھی آسمان پر پہنچی ہوئی ہیں، اس بڑھتی مہنگائی کے سلسلے میں جب روزنامہ راشٹریہ سہارا نمائندہ نے گھریلو خواتین سے معلومات حاصل کی تو نئی سیما پوری کی انبیاء خاتون نے کہا کہ حکومت کو غریبوں کا کوئی خیال نہیں ہے، کووڈ وبا کے دوران لوگوں کا روزگار پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اوپر سے یہ بڑھتی مہنگائی ایک غریب گھر کیسے چلائے۔ نئی سیما پوری کی ہی انگوری خاتون اور فہمیدہ بیگم نے کہا حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا کنٹرول پھر سے اپنے کنٹرول میں لینا چاہیے اور ایل پی جی سلنڈر کی سبسڈی پھر سے شروع کرنی چاہیے جس سے غریب اور متوسط طبقے کو کچھ تو راحت بڑھتی مہنگائی سے ملے۔ ای بلاک نئی سیما پوری کی جہاں آرا اور زہرہ خاتون نے حکومت کے تئیں سخت ناراضگی کے ساتھ کہا کہ حکومت آخر ملک کو کس سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہی ہے، بڑھتی مہنگائی پر تو حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے بلکہ حکومت نے پیٹرولیم کمپنیوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ہے، حکومت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کو فوراً کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اگر یہی حال رہا تو ملک میں فاقہ کشی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS