اقتصادی اعتبار سے کمزور طبقات کیلئے داخلوں اورسرکاری نوکریوں میںریزرویشن

0

خواجہ عبدالمنتقم

بھارت کے آئین میں یہ بات بالکل واضح کر دی گئی ہے کہ کسی بھی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی۔ آئین میں ایک طرف تو مکمل مساوات کی بات کہی گئی ہے تو دوسری طرف عوام کے کچھ زمروں کو مختلف رعایتیں بھی دی گئی ہیں۔ در اصل ایسا مناسب درجہ بندی کے اصول، جسے انگریزی میںDoctrine of reasonable classification کہتے ہیں، کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔اس اصول کے مطابق کچھ مخصوص لوگوں، طبقوں اور زمروں کے لیے مخصوص قانون بنایا جاسکتا ہے اور ان کو مخصوص رعایتیں یا مراعات دی جاسکتی ہیں۔ یہ کارروائی امتیازی سلوک کے زمرے میں نہیں آتی۔دیگر کمزور طبقات کی طرح مسلمانان ہندبھی،جو پسماندہ بھی ہیں اور سماجی و تعلیمی اعتبار سے پچھڑے ہوئے بھی ایک طویل عرصے سے ہر دور حکومت میں ریزرویشن کی مانگ کرتے رہے ہیں۔ اب اقتصادی اعتبار سے کمزور طبقات کے لیے مختلف شعبہ جات میں ریزرویشن کا فیصلہ ان کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ انھیں بھی اس دس فیصدی میں کما حقہ حصہ ملنے کی پوری پوری امید رکھنی چاہئے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو بھی عملی جامہ پہنانے کی کارروائی شروع ہو جائے یا عدالت عظمیٰ حالیہ فیصلہ کی طرح کسی وقت اس پربھی عمل درآمدگی کا حکم صادر کر دے خاص طور سے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہندو بھائیوں کی طرح مہتر یا موچی کا کام کرتے ہیں مگر ریزرویشن سے تا ہنوز محروم ہیں۔
آئے اب آئین(103ویں ترمیم) ایکٹ، 2019 ،جوآئین کی دفعہ 15 اور دفعہ 16 میں ترامیم سے متعلق ہے اورجس کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے اقتصادی اعتبار سے کمزور طبقات کے لیے 10 فیصدی تک ریزرویشن دینے کو صحیح ٹھہرایا ہے، کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔بنچ میں شامل 5ججز میں سے 3 نے اس کے حق میں فیصلہ دیا اور 2 نے اختلافی فیصلہ۔ان ترامیم کی تفصیل درج ذیل ہے:
دفعہ 15میں فقرہ (5)کے بعدفقرہ (6) شامل کیا گیا ہے جس کی عبارت درج ذیل ہے:
’(6) اس دفعہ یا دفعہ19 کے فقرہ(1) کے ذیلی فقرہ (ز)یا دفعہ 29کے فقرہ(2) کی کوئی بات ، مملکت کو۔
(الف) فقرہ (4)اور فقرہ(5)میں درج طبقات کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے کمزورکن ہی طبقات کی ترقی کے لیے خصوصی توضیع کرنے میں مانع نہیں ہوگی اور
(ب)فقرہ(4)اور فقرہ(5)میں درج طبقات کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے کمزورکن ہی طبقات کی ترقی کے لیے خصوصی توضیع کرنے میں وہاں مانع نہیں ہوگی ،جہاںتک ایسی خصوصی توضیعات دفعہ30کے فقرہ(1) میں مصرحہ اقلیتی تعلیمی اداروں سے مختلف پرائیویٹ ادارے بھی شامل ہیں،خواہ انھیں حکومت سے امداد ملتی ہو یا نہیں،داخلے سے متعلق ہیں،جو ریزرویشن کی صورت میں موجودہ ریزرویشن کے علاوہ ہر زمرے ں میں کل نشستوں کی تعدادکے دس فیصدسے زیادہ نہیں ہوگی۔
تشریح۔اس دفعہ اور دفعہ 16کی اغراض کے لیے ’اقتصادی اعتبار سے کمزور طبقات‘وہ ہوں گے جنہیں مملکت خاندان کی آمدنی اوراقتصادی بدحالی کے اشاریوں کی بنیاد پر کمزور طبقات کے طور پر نوٹیفائی کرے۔
دفعہ 16میں فقرہ (5)کے بعدفقرہ (6) شامل کیا گیا ہے جس کی عبارت درج ذیل ہے:
’(6)اس دفعہ کی کوئی بات فقرہ(4)میں درج طبقات کے علاوہ اقتصادی اعتبار سے کمزورشہریوں کے کن ہی طبقات کے حق میں تقرریوں یا عہدوں میں موجودہ ریزرویشن کے علاوہ مزید ریزرویشن کے لیے کوئی توضیع کرنے میں مانع نہیں ہوگی جو ہرزمرے میں کل اسامیوں کی تعدادکے دس فیصدسے زیادہ نہیں ہوگی ۔ ‘
ان ترامیم سے بادی النظر میں ان غریب لوگوں کی کم از کم یہ شکایت دور ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ انھیں غریب ہونے کے سبب وہ مراعات حاصل نہیں ہیں جو ان طبقات کو حاصل ہیں جن کے لیے آئین میں ریزرویشن کی بابت توضیعات شامل کی گئی ہیں۔اب حکومت ان کے لیے خصوصی قوانین بنا سکتی ہے۔ ان دفعات میں ترامیم اس لیے کی گئی ہیں تاکہ ان طبقات کو عدم مساوات کا احساس نہ ہو اور وہ یہ محسوس کرسکیں کہ ان کو وہی مراعات حاصل ہیں جو دیگر طبقوں کو میسر ہیں او روہ اقتصادی اور سماجی طور پر اس سطح تک پہنچنے کے مستحق ہیں جہاں تک دوسرے طبقات پہنچ چکے ہیں یا پہنچ سکتے ہیں۔
آئیے اب اس قانون سے منسلک Statement of objects and reasons ،جس میں کوئی قانون وضع کرنے کی غرض و غایت بیان کی جاتی ہے،میں شامل ان وجوہات کا پتہ لگاتے ہیں جن کے سبب حکومت کو آئین میں متذکرہ بالا ترامیم کرنی پڑیں ۔ اس بیان میں یہ کہا گیا ہے کہ اقتصادی اعتبار سے کمزور شہری اپنی مالی حالت کمزور ہونے کے سبب اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلہ لینے اور سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے معاملے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو شہری مالی اعتبار سے ان کے مقابلہ میں زیادہ خوشحال ہیں۔صرف یہی نہیںوہ آئین کی دفعہ 15کے فقرہ(4)اور فقرہ(5) اور دفعہ16 کے فقرہ(4) کے تحت مراعات کا بھی اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھا پاتے جب تک وہ سماجی و تعلیمی پسماندگی کے لیے مقررہ پیمانوں کے مطابق تمام شرائط پوری نہ کرتے ہوں۔علاوہ ازیں مملکت کے ہدایتی اصولوں کے تحت دفعہ46کو، جس میںیہ التزام کیا گیا ہے کہ مملکت خاص توجہ کے ساتھ عوام کے زیادہ کمزور طبقوں اور خاص طور سے درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو فروغ دے گی اور ان کو سماجی ناانصافی اور ہر قسم کے استحصال سے بچائے گی،عملی شکل دینے کے لیے بھی متذکرہ بالا دفعات میں ترامیم کا فیصلہ لیا گیا۔
مذکورہ فیصلہ آئین کی تمہید میں جس سماجی انصاف کو یقینی بنانے کی بات کہی گئی ہے اس سمت میں بھی یہ مثبت پیش رفت ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے 25 نومبر ،1949 کو یعنی آئین ساز اسمبلی کے ذریعہ آئین کے adopt کرنے سے صرف ایک دن قبل آئین کے مسودہ پر بحث کے اختتام کے بعد آئین ساز اسمبلی میں اپنی آخری تقریر میں یہ صحیح ہی کہا تھا کہ سیاسی جمہوریت کو بغیر سماجی جمہوریت کے( یعنی ایسی جمہوریت جس کی social base نہ ہو) کبھی استحکام نصیب نہیں ہو سکتا۔ خود ہماری سپریم کورٹ بپن چندرا جے دیوان بنام ریاست گجر ات والے معاملے میں (1996 (3)گجرات لارپورٹر 92 (ایس سی) یہ بات کہہ چکی ہے کہ سماجی انصاف کا قطعی مفہوم کچھ بھی ہو مگر اس میں کمز ور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو انسان سمجھتے ہوئے ان کی ضروریات کا اعتراف و قدر شناسی یقینی طور پر شامل ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پچاس فیصد تک ریزرویشن کی جو حد مقرر ہے اس لکشمن ریکھا کو کس طرح پار کیا جائے گا اور ضمنی مسائل سے کس طرح نمٹا جائے گا اور اقتصادی طور پر کمزور شہریوں کی پہچان کے لیے کیا فل پروف طریقہ اختیار کیا جائے گا اورانھیں مراعات دینے میں کس حد تک اصول نصفت کی تعمیل کی جائے گی۔
(مضمون نگار آزاد صحافی، مصنف، سابق بیورکریٹ اور عالمی ادارہ برائے انسانی حقوق سوسائٹی کے تاحیات رکن ہیں)
[email protected]