قابل مذمت بیان بازی

0

علامہ اقبالؔ نے جب ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ لکھا تھا تو یہ سوچا نہیں ہوگا کہ اس ملک میں مذہب کے نام پر اس قدر مذموم بیان بازی ہوگی، یہ بات بھی ایشو بن جائے گی کہ آزادی کا امرت مہوتسو منانے کے لیے ترنگا کہاں سے خریدا گیا۔ عام آدمی کے لیے آج بھی یہ کوئی ایشو نہیں، البتہ کئی لوگوں کے لیے یہ ایشو ہے۔ اسی لیے اپنے بیانات کے لیے مشہور اترپردیش کے شہر غازی آباد میں واقع ڈاسنا دیوی مندر کے پیٹھادھیشور اور جونا اکھاڑہ کے مہامنڈلیشور یتی نرسمہانند گری نے مرکزی حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کی ہندوؤں سے مخالفت کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ترنگا بنانے کا سب سے بڑا آرڈر بنگال کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے جو صلاح الدین نامی مسلمان کی ملکیت ہے۔‘ ان کا الزام ہے کہ ’کسی بھی مسلمان کے پاس جب ہندو پیسہ جاتا ہے تو وہ جہاد کے لیے زکوٰۃ دیتا ہے اور وہی زکوٰۃ کی رقم ہندوؤں اور ہندوؤں کے بچوں کے قتل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘یہ پہلی بار نہیں ہے جب یتی نرسمہانند گری نے مسلمانوں کے خلاف مذموم باتیں کہی ہیں، وہ مذموم بیانات دیتے رہے ہیں۔ رہی بات ہندوستانی مسلمانوں کی تو انہوں نے بار بار وطن پرستی ثابت کی ہے، 1947 میں پاکستان کے مقابلے ہندوستان کو وطن چنا اور اس کے بعد جب کبھی چین اور پاکستان کو دندان شکن جواب دینے کا موقع آیا، مسلمانوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ کم سے کم اتنے ہندوستانی تو ہیں کہ اپنے عزیز وطن ہندوستان پر جان نچھاور کر سکیں۔ 1965 میں پاکستانی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوکر عبدالحمید نے یہی ثابت کیا تھا کہ جب تک ایک بھی ہندوستانی زندہ ہے، ہندوستان کو زیر کرنے کی کوئی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی، چنانچہ ہندوستانیوں کو مذہب کے خانوں میں بانٹ کر دیکھنے والوں کو محب وطن کیوں کہا جائے، یہ ایک جواب طلب سوال ہے تو جواب طلب سوال یہ بھی ہے کہ یتی نرسمہانند گری کو مسلمانوں پر یقین نہیں تو کیا انہیں اپنے ملک کے نظم و نسق قائم رکھنے والے اداروں پر بھی یقین نہیں، ورنہ یہ کہنے کی کیا وجہ ہے کہ ’کسی بھی مسلمان کے پاس جب ہندو پیسہ جاتا ہے تو وہ جہاد کے لیے زکوٰۃ دیتا ہے اور وہی زکوٰۃ کی رقم ہندوؤں اور ہندوؤں کے بچوں کے قتل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔‘سوال یہ اٹھتا ہے کہ یتی نرسمہانند گری ایسی باتیں کیا اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ اسلامی تعلیمات سے وہ واقف نہیں ہیں یا یہ کہ وہ واقف ہیں لیکن دانستہ طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں؟ اس سوال کی اہمیت اس لیے ہے، کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ ایک بے قصور انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے اور ایک بے قصور انسان کی حفاظت پوری انسانیت کی حفاظت کے مترادف ہے۔ مگر اس کے باوجودکوئی شخص اسلام یا مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے مذموم باتیں کرتا ہے تو اسے اس کا ذہنی فتور ہی سمجھا جانا چاہیے۔ توقع یہی کی جانی چاہیے کہ یتی نرسمہانند گری کی مذموم بیان بازیوں کے خلاف جیسے اب تک قانون اپنا کام کرتا رہا ہے، اسی طرح موجودہ بیان پر بھی کرے گا۔
یتی نرسمہانند گری یہ بات سمجھ نہیں سکے ہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ ہندوستان کوئی عام ملک نہیں ہے، یہ کثرت میں وحدت والا ملک ہے۔ اسے ایک رنگ میں رنگنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے، کیونکہ اس کا موجودہ روپ بڑی قربانیوں سے بنا ہے۔ یہ قربانیاں سبھی مذاہب کے ہندوستانیوں نے دی ہیں۔ آزادی کے وقت حالات سنگین بن گئے تھے۔ مختلف مذاہب کے 10 لاکھ لوگ مارے گئے تھے، ڈیڑھ لاکھ لڑکیوں اور عورتوں کا اغوا ہوا تھا مگر اس وقت کے ادیب، فنکار اور فلم والے جانتے تھے کہ نفرت کی تشہیر سے نفرت بڑھے گی، نفرت کے بڑھنے سے بدامنی پھیلے گی اور ایک بدامنی والا ملک کبھی ترقی نہیں کر پاتا، مستحکم نہیں بن پاتا، اس لیے انہوں نے نفرت کو ختم کرنے کے لیے محبت کی تشہیر کی، ان مسئلوں پر بات کرنے کی جرأت دکھائی جن سے سبھی مذاہب کے لوگ پریشان تھے۔ اصل میں ان ادیبوں، فنکاروں اور فلم والوں کو نہ مذہب کے نام پر سیاست کرنی تھی تو نہ انسانیت کے نام پر، وہ جانتے تھے کہ انسانوں کے جذبات کی قدر کرکے ہی کوئی آدمی انسان بنتا ہے۔ اصل مذہبی وہی ہے جو دلوں کو توڑنے کی نہیں، جوڑنے کی باتیں کرتا ہو، جو برتری کی نہیں، حق و انصاف کی باتیں کرتا ہو۔ یہ سچ ہے کہ آج حالات مختلف ہیں مگر مایوس کن نہیں ہیں، کیونکہ کسی یتی نرسمہانند گری کو فکر اس بات کی ہے کہ ترنگا لیا کہاں سے جارہا ہے تو اس ملک کے ایک ارب سے زیادہ لوگوں کو خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارا ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے اور اس اتسو کو منانے کی مہم خود حکومت نے شروع کی ہے۔
[email protected]