عصری علوم کے حصول میں مذہبی تعلیم رکاوٹ نہیں

0

اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ بچوںکا پہلے مذہبی تعلیم حاصل کرنا اس کے عصری تعلیم کے حصول میں رکاوٹ ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ ابن سینا کا ذکر کیے بغیر میڈیکل سائنس کی تاریخ نہیں لکھی جا سکتی۔ انہوں نے پہلے مذہبی تعلیم ہی حاصل کی تھی اور صرف دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا تھا۔ ماہر فلکیات جعفر بن محمد ابوالمعشرالبلخی ، جنہیں انگریزی میں Albumasar نام سے جانا جاتا ہے، احادیث کے اسکالر تھے۔ محقق اور سائنس داں البیرونی نے اپنی زندگی کے پہلے 54 سال میں فقہ کے مطالعے کے ساتھ فلسفے، ریاضی، گرامر، فلکیات اور ادویہ کا مطالعہ جاری رکھا تھا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شروع میں ہی بچوں کو مذہبی تعلیم دے دینے سے ان کے لیے عصری علوم کے حصول کی راہیں آسان ہو جاتی ہیں، انہیں اس کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، ریسرچ کرتے انسانوں کی فلاح و بہبود کا وہ خیال رکھتے ہیں، یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان سے کوئی ایسی ایجاد نہ ہو جو انسانوں کے لیے مہلک ہو۔ دین اور دنیا دونوں ہی اللہ کی کائنات کا حصہ ہیں۔ اسی لیے 500 سال پہلے کے لوگ ’دنیاوی‘ اور ’دینی‘ علم کہنے کے بجائے صرف علم کہتے تھے اور ان کے لیے اس کے حصول کا مقصد نام ونمود حاصل کرنا نہیں، دنیا کو کچھ دینے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بغداد،بصرہ، قاہرہ، دمشق، قرطبہ کے تعلیمی مراکز سے وابستہ لوگ قرآن و حدیث کا بھی مطالعہ کیا کرتے تھے، یونانی، سنسکرت اور دیگر زبانوں کی اہم کتابوں کا بھی، کیونکہ اس وقت اہمیت اس بات کو دی جاتی تھی کہ علم جہاں سے بھی ملے، حاصل کرو۔ اسی لیے مسلم سائنس دانوں کے کاموں کا دائرہ صدیوں پر محیط ہے مگر سچ یہ بھی ہے کہ 13 ویں صدی کے بعد سے مختلف وجوہات سے مسلمانوں کے سائنسی رجحان میں کمی آنی شروع ہوئی تو اس کی باضابطہ کوشش نہیں کی گئی کہ بچوں کا سائنسی ذہن کیسے بنایا جائے، البتہ ادھر کی کچھ دہائیوں میں سائنس کی طرف مسلمانوں کا رجحان بڑھا ہے۔ اسی لیے یہ توقع ان سے کی جا سکتی ہے کہ وہ اسی طرح نئے ایجات سے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے جیسے دوسرے لوگ کر رہے ہیں اور وہ دن آئے گا جب دنیا کے ٹاپ 10سائنس دانوں کی فہرست میں ان کا بھی نام شامل ہوگا۔n