ریلوے اور طلبا کی بغاوت

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

بہاراور اترپردیش کے طلبا کا غصہ اس قدر پھوٹا کہ انہوں نے ریل کے ڈبے جلا دیے، کئی اسٹیشنوں پر تباہی مچادی اور جگہ جگہ توڑپھوڑ کردی۔ انہیں معلوم تھا کہ دونوں ریاستوں کی حکومتیں مرکزکی حامی ہیں اور وہ ان کی مرمت کیے بغیر نہیں رہیں گی پھر بھی انہوں نے گزشتہ دو-تین دن سے زبردست ہنگامہ برپا کررکھا ہے۔ پولیس نے سخت کارروائی بھی کی ہے۔ کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے اور سیکڑوں طلبا پر اب مقدمے بھی چلیں گے۔ یہ سب کیوں ہوا؟ یہ اسی لیے ہوا کہ محکمہ ریلوے میں نکلی تقریباً 35ہزار ملازمتوں کے لیے 125 کروڑ نوجوانوں نے درخواستیں دی تھیں۔ ان کا امتحان بھی ہوگیا اور اس کے نتائج بھی 14جنوری کو سامنے آگئے لیکن انہیں کہا گیا کہ ابھی انہیں ایک امتحان اور بھی دینا ہوگا۔ اگر اس میں وہ پاس ہوگئے تو ہی انہیں نوکری ملے گی۔ یہ نوکریاں عام ہیں، ان میں تکنیکی صلاحیت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی تنخواہ بھی صرف20ہزار سے 35ہزار روپے تک کی ہے۔ حکومتیں یہ مان رہی ہیں کہ ان لڑکوں کو کچھ اپوزیشن لیڈر اور فرقہ پرست عناصر بھڑکا رہے ہیں۔ یہ الزام ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن وہ اسی لیے مشتعل ہورہے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ آپ ہی بتائیے کہ صرف 35 ہزار نوکریوں کے لیے ایک کروڑ لوگوں کا درخواست دینا، کس بات کی علامت ہے؟ ہندوستان میں چپراسی کی درجن بھر نوکریوں کے لیے ہزاروں درخواستوں کے جمع ہوجانے کا مطلب آپ کیا نکالتے ہیں؟ یہ تو ہندوستان ہے، جہاں لیڈر اور نوکرشاہ موج کرتے رہتے ہیں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو بھوکے پیٹ سونا پڑتا ہے۔ اگر یہی حال یوروپ اور امریکہ میں ہو تو وہاں تو معلوم نہیں کیا ہوجائے؟ ہندوستان کے تعلیمی نظام کا اتنا برا حال ہے کہ ڈگریاں لینے کے باوجود طلبا کو کوئی روزگار نہیں ملتا۔ متوسط اور نچلے طبقہ کے پریواروں کو اس کورونا کے دور میں جن محرومیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، اس نے ان کے غصہ کو دوگنا کردیا ہے۔ بہار اور اترپردیش کے نوجوانوں کی حالت تو انتہائی قابل رحم ہے۔ ان میں سے مشکل سے 25فیصد نوجوانوں کو ہی روزگار ملا ہوا ہے۔ تقریباً 75فیصد نوجوان بے روزگاری اور فاقہ کشی کے شکار ہیں۔ یہ بے روزگار لوگ تشدد اور توڑپھوڑ کریں، یہ تو ٹھیک نہیں ہے لیکن کیا خالی دماغ اپنے آپ شیطان کا گھر نہیں بن جاتا ہے؟ ریاستی انتخابات کے موسم میں طلبا کی یہ بغاوت کسی بھی حکومت کا دم پھلانے کے لیے کافی ہے۔ وزارت ریلوے نے ایک جانچ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ہماری مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتیں ملکی اور غیرملکی سرمایہ داروں کی ہندوستان میں کاروبار کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کررہی ہیں لیکن اس بات پر ان کی توجہ بہت کم ہے کہ ان کام دھندوں سے روزگار میں اضافہ ہوگا یا نہیں؟ ہندوستان کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو وسطی ایشیا کے وسیع علاقے میں روزگار کے بے پناہ مواقع حاصل ہوسکتے ہیں لیکن یہ تبھی ہوسکتا ہے جب ہمارے لیڈروں اور ان کے رہنما نوکرشاہوں کو ان علاقوں میں دبے یورینیم، لوہے، تانبے، گیس اور تیل کے ذخائر کے بارے میں پوری معلومات ہو۔
(مضمون نگار ممتاز صحافی، سیاسی تجزیہ کاراور
افغان امور کے ماہر ہیں)
[email protected]