ریل حادثہ اور سیاست : محمد فاروق اعظمی

0

محمد فاروق اعظمی

وشوگرو کی ساری چوکیداری دھری کی دھری رہ گئی اور بلند بانگ دعوے کھوکھلے نکلے ۔ اجل کے بے رحم ہاتھوںنے 300 سے زائد مسافروں کو اچک لیااورسیکڑوں کو بستر مرگ پر پہنچادیا، مائوں کی گود اجاڑ دی توبچوں کے سر سے ماں باپ کا سایہ چھین لیا ۔لیکن ملک کی رذیل سیاست تاریخ کے اس بدترین ریل حادثہ کو بھی انتخابی فائدہ کیلئے استعمال کررہی ہے ۔ 2 جون 2023کو اوڈیشہ کے بالاسور میں ہونے والے اس خونیں حادثہ کے تین دنوں بعد جب پہلی ٹرین تباہ شدہ ٹریک سے گزری تو وزیر ریل اشونی وشنواس موقع کوا پنے سیاسی مفاد میں استعمال کرنے سے نہیں چوکے اور ہاتھ جوڑ کر میڈیا اور ریلوے حکام کی موجودگی میں بھارت ماتا کی جے اور وندے ماترم کے نعرے لگائے۔ اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت کے مرتکب وزیرریل نے حادثہ کے غم پر قوم پرستی کا پردہ ڈال کر ایک نئی روایت کی داغ بیل بھی ڈال دی۔یہ بتادیا کہ ہندوستان اب بدل چکا ہے یہاں حادثہ کے بعد روتی بلکتی مائوںاور بیوائوں کی اشک سوئی اور یتیم ہوجانے والے بچوں کی سکینت و دل دہی کا تصور ختم ہوگیا ہے۔حادثہ کے ذمہ داروں کی تلاش اور تفتیش ثانوی حیثیت رکھتی ہے جو چیز مقدم ہے وہ یہ کہ حادثہ کواپنی سیاست کے مفاد میں استعمال کیاجائے۔یہ کام وزیرریل نے اچھی طرح سے کیا ۔
جو کام وہ نہیںکر پائے وہ ریل کے سفر کو حادثہ سے محفوظ بنانے کا کام ہے ۔حالانکہ اس کام کادعویٰ نہ صرف وزیر ریل بلکہ وزیراعظم، ان کی پوری کابینہ اور ان کی پارٹی کے لیڈران گزشتہ 9برسوں سے کرتے آرہے ہیں۔ریل کے سفر کو محفوظ بنانے کے دعوے سے بھرے ہوئے اشتہارات، اخبارات، ٹیلی ویژن،سوشل میڈیا سے لے کر چوک چوراہوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔جن میںیہ دعویٰ کیاجاتا رہاہے کہ امرت کال کے بھارت میں وشو گرو کی قیادت نے ریل کی کایا پلٹ ڈالی ہے،بلٹ ٹرین چلنے میں فقط چندہی روز اورہیں ۔محفوظ سفر کیلئے تصادم گریز ’کوچ سسٹم ‘کی تشہیر کرتے ہوئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے گئے۔ اہل وطن کو دکھائے جانے والے خوابوں کی فہرست میں ایک اورخواب کا اضافہ کیاگیا۔ گزشتہ سال 2022کے مئی مہینہ میں وزیر ریل اشونی وشنو نے ٹرینوں میں سیفٹی کور(کوچ سسٹم) لگانے کا اعلان کیا تھا اور اس کی کارکردگی کا بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ایک خود کار ریل تحفظ ٹیکنالوجی ہے ،جسے ان کی حکومت نے ٹرینوں میں لگادیا ہے اور اب ٹرین حادثہ بالکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھاکہ دو ٹرین اگر غلطی سے ایک ہی پٹری پر آجائیں تو ان کے ایک دوسرے سے قریب آنے سے پہلے ہی آرمر بریک لگے گا، ٹرین خودکار طریقہ سے رک جائے گی اور حادثہ نہیں ہوگا۔ان کی حکومت میں بنایاگیایہ ریل کوچ گھنی دھند اور کہرے میں بھی ریل کو حادثات سے بچائے گا۔
ہندوستان کی ریل گاڑیوں میں کوچ سسٹم لگانے کے یہ دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ۔کورومنڈل ایکسپریس کے حادثہ نے یہ غلطی فہمی دور کردی کہ حکومت کا مقصد ملک کے شہریوں اور ریل گاڑیوں کے مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ مودی حکومت کے یہ طولانی دعوے فقط الفاظ ثابت ہوئے اور یہ عقدہ کھلا کہ حکومت کا بنیادی مقصد محض تالیاں بٹورنا اور اپنے ووٹروں کو بے وقوف بنانا ہے۔ ایک ہفتہ ہونے آیا ہے لیکن حکومت نے اب تک اس حادثہ کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس کا امکان کم ہی ہے۔ ممکن ہے اسے بھی ’ ایکٹ آف گاڈ‘ ( خدا کی مرضی) قرار دے دیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ توخدا کی مرضی تھی اور نہ اتفاقی حادثہ بلکہ یہ صریحاً مجرمانہ انسانی غفلت تھی جس نے دیکھتے دیکھتے تقریباً تین سو افراد کو لقمہ اجل بنا ڈالا۔ تین ٹرینوں کاایک دوسرے سے ٹکرا جانا، ٹرین کے ڈبوں کا گرنا، لڑھکنا اوربے وزن ماچس کے ڈبے کی طرح الٹ جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تکنیکی ترقی کے بلند بانگ دعوے کے بعد اس طرح کے حادثات کاہوجاناخواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا ہے ۔
لیکن یہ ہوا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیرریل اور مودی حکومت صرف دعوے کرتی رہی اورعملاً ایسا کوئی کام نہیں کیاگیا جس سے ریل کے سفر کو محفوظ بنایاجاسکتا۔ ریل گاڑیاں پہلے کی طرح ہی بغیر کسی مکمل حفاظتی نظام کے چلتی رہیں ۔ آنکھوں کو خیرہ کردینے والی اشتہاری مہم کے پرے یہ سفاک حقیقت کسی بھی درمند ہندوستان کو کچوکے لگانے کیلئے کافی ہے کہ آج ملک بھر میں روزانہ چلنے والی 8702 مسافر ریل گاڑیوں کے کل 12147 لوکو موٹیوزانجن میں سے فقط77 میںہی یہ تصادم گریزکوچ سسٹم لگایاجاسکا ہے۔
یادرہے کہ ہندوستان 67415 کلومیٹر ریلوے لائن کے ساتھ دنیا کاچوتھا بڑا ریلوے نیٹ ورک ہے اور دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا تجارتی ادارہ بھی ہے۔ جس کے 12.27لاکھ ملازمین یومیہ 231 لاکھ مسافروں کی نقل و حمل اور 33 لاکھ ٹن مال کی ڈھلائی کے ذمہ دار ہیں۔ انتظامی امور کیلئے ہندوستانی ریلوے کل19زون میں بانٹی گئی ہے اور ہر زون میں کئی کئی ڈویژن ہیںجن کی مجموعی تعداد75ہے ۔
گزشتہ 9 برسوں کے دوران ریلوے کا جائزہ بتاتا ہے کہ اس کی خدمات مہنگی ہوتی گئی ہیں، تشہیر پر رقم لٹائی گئی ہے، وندے بھارت ٹرینوں میں ایل ای ڈی اسکرین پر وزیراعظم کی تصویر دکھانے کا سلسلہ شروع کیاگیا،نجکاری کے نام پر وہ لوٹ مار مچائی گئی کہ عام آدمی کی ٹرینوں تک رسائی مشکل ہوگئی، ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے نام بدلے گئے اوران سب کو ووٹ بینک کا ذریعہ بنایاگیا۔اب سیکڑوں افراد کی موت کا سبب بننے والی مجرمانہ غفلت کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے قوم پرستی کی آڑ میںسیاسی فائدہ بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ ہے بدلتا ہندوستان !
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS