راہل گاندھی ای ڈی دفتر میں پیش ہوئے،ساتھ میں پرینکا گاندھی بھی موجود

0

نئی دہلی: (ایجنسی) نیشنل ہیرالڈ کیس میں تفتیش کے لئے پیر کی صبح تقریبا 11بجے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے دفتر پہنچ گئے۔ ان کے ساتھ ان کی بہن اور کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی ای ڈی دفتر پہنچی ہے۔راہل گاندی کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں پارٹی ورکر بھی موجود ہیں۔ جن کو ای ڈی دفتر کے باہر روک لیا گیا ہے۔ ورکر راہل گاندھی وسونیا گاندھی کو ملے نوٹس کی مخالفت کررہے ہیں۔ کانگریس نے اس مظاہرے کو ستیہ گرہ کا نام دیا ہے۔ ورکر ’میں بھی راہل جھکے گیں نہیں‘کا نعرہ لگار رہے ہیں۔ پولس نے پارٹی ہیڈکوارٹر کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیاہے اورپیشی کے خلاف احتجاج ومظاہرہ کرنے والے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے پارٹی ہیڈکوارٹر 24 اکبر روڈ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو بند کر کے غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ کانگریس کارکنان اپنے لیڈر کی پیشی کے خلاف ستیہ گرہ نہ کرسکیں اوراحتجاجی مظاہرہ میں شامل نہ ہوں۔ ان کاکہناتھاکہ اس طرح کے اقدامات سے کانگریس کارکن بغیرڈرے اورجھکے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ستیہ گرہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ستیہ گرہ مارچ پرامن اور گاندھیائی انداز میں نکالا جائے گا اور ستیہ گرہ کرنے والے تمام لوگ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے۔ حکومت کے مظالم کے سامنے پارٹی کارکنان نہ ڈریں گے اور نہ پیچھے ہٹیں گے اوراس کی پالیسیوں کے خلاف لڑائی لڑیں گے، دھرنا ومظاہرہ کریں گے۔
ترجمان نے کہا کہ 1937 میں قائم نیشنل ہیرالڈ اخبار مشکلات کا شکار تھا اور ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر تھا، اس لیے پارٹی نے 2002 سے 2011 تک 90 کروڑ روپے دے کر ادارہ کو چلانے میں مدد کرکے ملکی ورثے کو بچانے کا کام کیا ہے۔ اسی رقم سے 67 کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہ اور دیگر واجبات کے طور پر ان کو دئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس اپنی اس وراثت کو بچانے کے لئے پرعزم ہے اور کوئی بھی اسے جھکانہیں سکتا، اس لئے پارٹی کے کارکنان حکومت کی ناانصافی کے خلاف مسلسل جدوجہد کریں گے۔