ہندو دیوی پر قابل اعتراض تبصرہ ،یونیورسٹی ٹیچربرطرف

0

وارانسی(ایجنسیاں) : وارانسی میں مہاتما گاندھی کاشی ودیا پیٹھ یونیورسٹی کے ایک استاد کو سوشل میڈیا پر ہندو دیوی کے بارے میں ان کے مبینہ تبصرے کی
بنیادپر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور یونیورسٹی میں داخلے پر روک لگادی گئی۔ پولیٹیکل سائنس ڈپارٹمنٹ کے گیسٹ لیکچرر ڈاکٹر متھلیش کمار گوتم نے فیس بک
پر ایک متنازع پوسٹ کی تھی، جس میں ہندو دیوی کے بارے میں کچھ قابل اعتراض تبصرے کیے گئے تھے، جس کی طالبات نے شکایت کی تھی، ا س کی وجہ
سے گیسٹ ٹیچر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ، اوریونیورسٹی کیمپس میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ڈاکٹر متھیلیش کمار گوتم کا تعلق دلت برادری سے ہے، اس
لیے معاملہ تھوڑااورگہرا بتایاجاتا ہے کہ فیس بک پوسٹ ایک دوسرے شخص کی تھی جس پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر متھلیش کمار نے فارورڈ کردیا۔ اس فیس
بک پیج پر جے بھیم جے آئین بھی لکھا ہواہے۔ ڈاکٹر متھلیش کمار گوتم کے اسی فیس بک پیج کی فوٹو کاپی لے کر طلبا نے شکایت درج کرائی کہ وہ ہمارے ہندو
دیوتاو¿ں کے خلاف ایسی قابل اعتراض پوسٹ نہیں لکھ سکتے، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کیا۔ یونیورسٹی کی رجسٹرار ڈاکٹر سنیتا
پانڈے نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ انہوں نے جوتبصرے کیے ہیں وہ قابل اعتراض ہیں، کسی بھی شخص کوکسی کے مذہب کے بارے میں ایسے تبصرے کرنے
کی آزادی نہیں ہے۔ساتھ ہی کسی بھی عورت کے لیے جس انداز میں اس میں بات کی گئی ہے، وہ مناسب نہیں تھی اورایک استاد کو ایسی باتوں سے بچنا
چاہیے۔اس سے پہلے بھی ڈاکٹر متھلیش کمار گوتم کئی متنازع بیانات کی وجہ سے بحث میں رہے ہیں، اس کی شکایت بھی ہوئی اور اس کے لیے وائس چانسلر نے
انہیں ہدایات بھی دی تھیں۔ ان کے شعبہ کے سربراہ نے انہیں ہدایت دی تھی، اس کے باوجود وہ ایسے بیانات میں گھرتے رہے ہیں۔ اس لیے انہیںگیسٹ ٹیچرکے
عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار نے کہاکہ جہاں تک یونیورسٹی کیمپس میں داخلوں کا تعلق ہے تو یونیورسٹی کا ماحول خراب نہیں ہونا چاہیے،
کیونکہ طلبا بہت ناراض تھے اور ڈاکٹر کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔
، لہذاان کی سلامتی کےلئے فی الحال یونیورسٹی میں انہیں داخل ہونے سے روک دیاگیا۔ ان کی طرف سے کچھ طلبانے ان کاموقف سننے کے لیے وائس چانسلر
سے بات کی تو وائس چانسلر نے یقین دلایا کہ ان کی بھی بات سنی جائے گی۔ اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور وہ کمیٹی فریقین کی طرف سے حقائق
سننے اور سمجھنے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔