اشتعال انگیزی اور اسمبلی انتخابات

0

شاہد زبیری
آزاد ہندوستان میں ووٹ بینک کی سیا ست مذہبی منافرت کے فروغ اور اشتعال انگیزی اور فسادات کا سبب بنتی رہی ہے جو اب اپنے عروج پر ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات، ماب لنچنگ کی وارداتیں اور چرچوں پر حملے اسی کا نتیجہ ہیں۔اس کا شکار صرف مسلم اقلیت ہی نہیں، عیسائی اقلیت بھی ہو رہی ہے اور اقلیتوں کو ڈراکر رکھنے اور خوف کی نفسیات کا شکار بنا نے کو ششیں کی جا رہی ہیں۔ ہمارے سیاسی سسٹم میں کچھ سیاسی جماعتیں اسی اسٹرٹیجی کے تحت کام کر رہی ہیں۔یہ صورت حال ایک صحت مند جمہوری نظام، قومی یکجہتی اور ہندوستانی آئین کے ’کثرت میں وحدت‘ کے بنیادی نظریے اور مقصد کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں۔ انتخابات کے مواقع پر ہماری سیاسی پارٹیاں اقلیتوں کو بالخصوص اور عوام کو بالعموم محض ووٹ بینک کی طرح استعمال کرتی رہیں لیکن اس کے لیے سب سے زیادہ ظلم اور زیادتی کا شکار اقلیتیں بنا ئی جا تی رہی ہیں اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جیسے ہی انتخابات کا موسم آتا ہے، مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کی فصل بھی لہلہانے لگتی ہے۔ اب جبکہ ملک میں یوپی سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے اور اسی کے ساتھ پو لرائزیشن کا کھیل بھی نقطۂ عروج پر پہنچ گیا ہے، ایسے میں مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کی سیاست اسمبلی انتخابات پر کیا اثر ڈالے گی؟
اس سے انکار ممکن نہیں کہ کرسمس کے موقع پر ہریانہ کے انبالہ کے قدیم چرچ پر حملہ ہو یا اترا کھنڈ کے ہری دوار اور چھتیس گڑھ میں منعقد نام نہاد دھرم سنسد، ان سب کے تار ووٹ بینک کی سیاست سے جڑے ہو ئے ہیں۔ فرقہ وارانہ لحاظ سے ملک کا درجۂ حرارت اس ڈگری پر کبھی نہیں پہنچا جتنا آج ہے جو ہماری صدیوں کی ملی جلی ثقافت، ساجھا وراثت، ہمارے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک فال نہیں۔ اس طرح کی ’دھرم سنسد و ں‘نے مذہبی منا فرت اور اشعال کی تمام حدیں پھلانگ دی ہیں۔ عین انتخابات کے اعلان کے وقت مرکزی وزیر نتن گڈکری کا یہ بیان کہ ہری دواردھرم سنسد میں اشتعال انگیزی کے خلاف سخت کارروائی کی جا ئے یا آئی آئی ایم بنگلورو اور احمدآ بادکے اساتذہ اور طلبا کا وزیر اعظم کے نام مکتوب اور اس سے قبل مشہور فلم اسٹار نصیرالدین شاہ نے جو ایک نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کو دیے گئے انٹرویو میں خانہ جنگی کے ایک بڑے خطرے سے خبردار کیا ہے، ہم یہاں اس کی تفصیل میں نہیں جا تے، یہ سب پبلک ڈومین میں ہے۔ ہم اس سے اتفاق کریں یا نہ کریں، اس خطرے کی سنگینی کا اندازہ اسی سے لگا یا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے 76 ممتاز وکلا، پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جسٹس، ریٹائرڈ فوجی جر نیلوںکے علاوہ جمعیۃ علماء اور اس کے قومی قائد مولا نا سید محمود مدنی نے بھی اس کے خلاف سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی ہے اور رٹ داخل کی ہے جس میں اس خطرے پر بندھ باندھنے کی درخواست کی گئی ہے اور حکومت کی نا اہلیت پر بھی سوال کھڑے کیے گئے ہیں۔ اس کے برعکس بریلی کے ایک معروف عالم نے اس پر اپنے ہی ڈھنگ سے سر سے کفن باندھ کر ہزاروں کی بھیڑ میں رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن ’سب کا ساتھ سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘ کا نعرہ دینے والے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، دہلی کے وزیر اعلیٰ کجریوال، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منو ہر لال اور اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھا می جیسی آئینی منصب پر براجمان شخصیات کو نہیں معلوم کہ ہریانہ کے انبالہ میںچرچ پر حملہ، دہلی اورچھتیس گڑھ کے رائے پور اور اترا کھنڈ کے ہری دوار میں منعقد نام نہاد دھرم سنسد میںمسلمانوں کے خلاف کس قدر اشتعال انگیزی کی گئی۔ مسلم اقلیت کی نسل کشی کے لیے ہتھیار اٹھانے، سابق وزیراعظم منمو ہن سنگھ کے سینے میں گولیاں اتارنے کی دھمکی دی گئی۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ نے تو اپنے ایک انٹریو میں اس سے قطعی لا علمی ہی ظا ہر کر دی لیکن یہ جو کچھ ہوا، اس پر وزیراعظم، وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ کوپارٹی پالیٹکس سے اوپر اٹھ کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے جو ابھی تک نہیں کی گئی جبکہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس‘ کے نعرہ کابھی یہ تقاضہ تھا۔ کیا اس الزام کو صحیح مانا جا ئے کہ جو کچھ نام نہاد دھرم سنسد میں کہا گیا اور کیا گیا، اس سب کو حکمراں جماعت بی جے پی اور سنگھ پریوار کی خاموش تائید حاصل ہے اور سب نے اپنے اپنے کام بانٹ رکھے ہیںاور نام نہاد دھرم سنسد میں جو کچھ ہوا، وہ اس کا اظہار ہے۔ وہ اپنا کام کررہے ہیں اور بھگوا دھاری ٹولہ اپنا کام کر رہا ہے جس پر ملک کے ہر انصاف پسند اور محب وطن شہری کو تشویش لاحق ہے جو ہو نی بھی چاہیے۔ سوال اٹھتا ہے کہ نام نہاد دھرم سنسد منعقد کرنے والا یہ بھگوا دھاری ٹولہ کیا ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ نہیں جو ملک کی سالمیت، اس کے صدیوں پرا نے بھا ئی چارے کو ملیامیٹ کرنے پر تلا ہے جو ملک کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو جان سے مارنے کی دھمکی اور بابائے قوم مہاتما گا ندھی تک کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ اگر جے این یو کے ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے تو اس بھگوا دھاری ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے خلا ف فوری اور مؤثر کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ وزیراعظم ، وزیر داخلہ سے یہ توقعات ہمیں ان کی آئینی ذمہ داریوں اور بیانات کی بنیاد پر تھیں کہ وہ اس گینگ کے خلاف کچھ کریں گے لیکن یہ توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ صرف کالی چرن کی گرفتاری ہوئی ہے، باقی 10 ملزمان کے خلاف اترا کھنڈ کے جوالا پور میں ا یف آئی آر درج کی گئی ہے، دہلی کا علم نہیں، گرفتاری ان میں سے کسی کی نہیں ہوئی۔ اب ہر ہوشمند سمجھنے لگا ہے کہ زہر اگلنے اور اشتعال انگیزی کا یہ سب کھیل انتخابات جیتنے کے لیے کھیلا گیا تھا اور ملک کو پولرائز کر نے اور جیسے بھی ہو اقتدار بچانے اور اقتدر پانے کی کوشش کے سوا کچھ اور نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ملک اہم ہے یا اقتدار کی کرسی؟
بات اگر سیکولر ہو نے کا دعویٰ کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی کی جا ئے تو نام نہاد دھرم سنسد کی اشتعال انگیزی پر ان سیکو لر پارٹیوں کی خامو شی بھی مجرمانہ ہے۔ ہندوتواور ہندوازم کا فرق سمجھا نے والے کا نگریس کے لیڈ ر راہل گاندھی خاموش ہیں۔ انہوںنے بھی نام نہاد دھرم سنسد کی کارروائی پر چپی سادھ رکھی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اترا کھنڈ کے کانگریس کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راوت سمیت کسی چھوٹے بڑے کانگریسی لیڈر کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔غنیمت ہے کہ کانگریس کی چھتیس گڑھ سرکار کے وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل نے کالی زبان رکھنے والے کالی چرن کو مدھیہ پردیش کے کھجوراہو سے گرفتار کر لیا جس پر بی جے پی لیڈر اور مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ چرا غ پا ہیں۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھی شاید یہ قدم نہ اٹھاتے، اگر کالی چرن بابائے قوم مہاتما گاندھی کی توہین اور گوڈسے کی مدح سرائی نہ کرتا۔ چو نکہ اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور مذہبی تشدد کو تو معاف کیا جا تا رہا ہے جیسا کہ کانگریس کے دوسرے بڑے لیڈروں اور سماجوادی پارٹی سمیت ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے آج تک معاف کر رکھا ہے۔ اسی لیے نام نہاد دھرم سنسد میں اشتعال انگیزی اور مسلمانوں کی نسل کشی کا واضح اعلان اور سابق وزیراعظم کے سینے میں گولی اتارنے کی دہشت گردا نہ دھمکی سے کسی کو کوئی فرق نہیںپڑا ہے۔ نہ سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادونے زبان کھولی اور نہ ان کے حلیف لوک دل کے جینت چو دھری نے۔ بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا رویہ بھی کچھ الگ نہیں ہے۔ ساری لڑائی اب ملک کی اکثریت کے ووٹوں میں حصہ داری کی ہے۔ سیکو لرزم کی دعویدار پارٹیاں بخو بی سمجھتی ہیں کہ اقلیتیں تو چارو ناچار بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے ان غیر بی جے پی پارٹیوں کو ہی ووٹ دیں گی جیسا کہ اب تک ہوتا آ رہا ہے لیکن ان کو آج نہیں تو کل سوچنا پڑے گا کہ سیکو لر پارٹیاں اقلیتوں کو کب تک بند ھوا مزدور بنا کر رکھیں گی؟ سوال صرف اقلیتوں کا نہیں ہے، ملک کی بقا، بھائی چارے اور آئین کا ہے لیکن وائے حسرت کہ غیر بی جے پی پارٹیاں اس طرف سو چنا بھی گوارہ نہیں کر رہی ہیں اور حال یہ ہے کہ بی جے پی کے تیار کردہ دنگل میں بی جے پی سے کشتی لڑرہی ہیں اور ہندو کارڈ کا وہی دائو پیچ چل رہی ہیںجو بی جے پی چل رہی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ غیر بی جے پی پارٹیاں نظریاتی بحران کا شکار ہیں۔ وہ نظریاتی طور پر راسخ العقیدہ نہیں ہیں۔ اگر ان غیر بی جے پی پارٹیوں میں سیکو لرزم اور سوشلزم کے تئیں نظریاتی پختگی اور راسخ العقیدگی ہوتی تو یہ زیادہ مضبوطی کے ساتھ بی جے پی سے لڑ سکتی تھیں لیکن نہ ان کے پاس سیاسی نظریہ بچا ہے اور نہ سیاسی کارڈ جس سے نظریاتی جنگ لڑی جاسکے، جیتنا تو دور کی بات ہے۔ ملک میں جس طرح فسطائی طاقتیں پائوں پھیلا رہی ہیں اور نئی نسل کے ذہنوں کو پرا گندہ کررہی ہیں، یہ صورت حال ہر محب وطن کو پریشان کر رہی ہے۔ اب جبکہ یو پی سمیت 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کا کیا اثر پڑتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سمندر کی تہ سے کیا نکلتا ہے۔
[email protected]