مایہ ناز اردو اسکالر اور ماہر لسانیات پروفیسر نصیر احمد خان کا انتقال

0
Rekhta

نئی دہلی:
آج یہاں اردو کے مایہ ناز اسکالر پروفیسر نصیر احمد خان کا انتقال ہوگیا۔ پروفیسرمرحوم جے این یو میں ایک لمبے عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ لسانیات اور تاریخ زبان اردو کے استاد اور ماہر تھے۔ ان کی متعدد معیاری کتابیں ملک اور بیرون ممالک میں مشہور ہوچکی ہیں۔ وہ ایک بہترین سپر وائزر تھے۔ ان کے فیض یافتہ طلبا بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ ان کی مشہور تصانیف مین ادبی اسلوبیاتی، اردو ساخت کے بنیادی عناصر، آزادی کے بعد دہلی میں اردو انشائیہ، اردو لسانیات، اردو کی صوتی لغت وعیرہ ہیں. یکم جنوری 1944 کو ان کی پیدائش ہوئی تھی.

ان کے سانحہ ارتحال پرہندوستانی زبانوں کے مرکز جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق چیرپرسن اور مشہور ناقد پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ پروفیسر نصیر احمد خان نے ادب اورلسانیات کی دنیا میں اپنی منفرد جگہ بنائی تھی۔ وہ ایک خلیق استاد تھے۔ علم اورادب دوست تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر شہزاد انجم نے کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی دانشوارانہ روایت کوفروغ دینے میں پروفیسر نصیراحمد خان کا بڑا کردار ہے۔ انھوں نے طلبا کی ذہن سازی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے طلبا اپنی انفرادیت کے ساتھ اردو کے میدان میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے انتقال سے علمی دنیامیں افسردگی کا ماحول ہے۔ جب کہ شعبہ لسانیات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی نے کہا کہ پروفیسر نصیر احمد خان کی یہ انفرادیت تھی کہ وہ ادب اور لسانیات سے یکساں طورپر واقف تھے۔ اس لیے ان کے لسانی مطالعے کی انفرادیت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پروفیسر نصیر احمد خان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بھی فیض یافتہ تھے۔ ان کے انتقال پر پروفیسر ابن کنول، پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی پٹنہ،پروفیسررئیس انوروغیرہ نے بھی گہرے رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here