مطالعاتِ اقلیت پر ویبنار میں پروفیسر نجمہ اختر،وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اظہار خیال

0

حیدرآباد:ملک کی تعمیر میں مادری زبان میں تعلیم فراہم کرنے والی جامعات کا بڑا رول رہا ہے۔ چاہے وہ اردو یونیورسٹی ہو،تلگو یونیورسٹی یا کوئی اور علاقائی زبان کی یونیورسٹی۔ اُردو ہندوستان کی ایک اقلیتی زبان ہے۔ اس کے بولنے والوں کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی مختلف شہروں میں اردو ذریعہ سے اعلیٰ تعلیم فراہم کرتے ہوئے انہیں روزگار سے جوڑرہی ہے۔ پروفیسر فاطمہ بیگم،وائس چانسلرانچارج اردو یونیورسٹی نے کل منعقدہ ویبنار مطالعاتِ اقلیت کے افتتاحی اجلاس میں ”ہندوستانی میں لسانی ادارے- اردو یونیورسٹی کی کیس اسٹڈی“کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس ویبنار کا اہتمام انڈین سوشیالوجی سوسائٹی، نئی دہلی کی ریسرچ کمیٹی آن مائناریٹی اسٹڈیز اور ڈیموکریسی ڈائیلاگ، حیدرآباد نے شعبہ تعلیمات نسواں، اردو یونیورسٹی اورشعبہ سماجیات،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے مشترکہ طور پر کیا۔ اس کا عنوان ”مطالعاتِ اقلیت کا جائزہ : بین شعبہ جاتی تناظر میں“تھا۔
پروفیسرنجمہ اختر،وائس چانسلر،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی نے کہا کہ اقلیتی مطالعات کو سمجھنے کے لیے بین شعبہ جاتی مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو سیاسی طور پر زیادہ توجہ دی گئی ان کے مسائل کو تعلیمی سطح پر سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
دوسرے دو مہمان مقررین پروفیسر پرمجیت سنگھ جج، صدر،انڈین سوشولوجیکل سوسائٹی (آئی ایس ایس) ، نئی دہلی اور آئی ایس ایس کے سکریٹری پروفیسر جگن کراڈے نے "ہندوستان میں اقلیتوں کی سماجیات" اور "ہندوستان میں اقلیت: واہمہ اور حقیقت" پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی بالادستی اور فیصلوں پر نظر ثانی کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس ایس کی ریسرچ کمیٹی نے اقلیتی مطالعات کو بین موضوعاتی دائرہ کار کی جانب تحریک اور ایک سمت دی ہے، تجرباتی طور پر عصری سماج میں سوالات مسابقت پیدا کرتے ہیں۔
مختلف موضوعات پر مبنی پینل مباحثوں کو دو سیشنوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے سیشن کی صدارت پروفیسر سویاساچی،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی جبکہ دوسرے سیشن کی صدارت پروفیسرعامراللہ خان،ایم سی آر ایچ آر ڈی،حیدرآباد نے کی۔ پروفیسرتنویر فاضل،حیدرآباد یونیورسٹی؛پروفیسرعبد الشعبان،ٹی آئی ایس ایس ، ممبئی ؛ پروفیسر روینا روبنسن ،آئی آئی ٹی،ممبئی؛پروفیسراسیم پرکاش،ٹی آئی ایس ایس،حیدرآباد،پروفیسر شروتی تامبے،ساوِتربائی پھولے یونیورسٹی،پونے ؛ پروفیسر محمد اکرم ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ،علی گڑھ؛پروفیسر افروزعالم ،مانو ؛پروفیسر شاہدہ ، مانواور پروفیسر اروندر اے انصاری،جامعہ ملیہ اسلامیہ پینل مباحثے کے اراکین تھے۔
ڈاکٹر کے ایم ضیاءالدین، مانو وکنوینرریسرچ کمیٹی (آر سی – 26)، آئی ایس ایس اور ڈاکٹر امتیاز احمد انصاری، شریک کنوینر ، آئی ایس ایس نے ماڈریٹر کے فرائض انجام دیئے۔ جناب لئیق احمد عاقل ، بانی رکن ڈیموکریسی ڈائیلاگ ،حیدرآباد و رکن انتظامی کمیٹی نے شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کی ریکارڈنگ www.facebook.com/DemocracyDialogue اور ڈیموکریسی ڈائیلاگ کے یوٹیوب چیانل پر دستیاب ہے۔
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS