پروفیسر عتیق احمدفاروقی: برطانیہ میں سنک کی تاج پوشی کامطلب کیا ہے

0

پروفیسرعتیق احمدفاروقی
بالآخر برطانیہ میں ہندنژاد وزیراعظم رشی سنک کی تاج پوشی ہوگئی اوریقینا یہ غیرمعمولی واقعہ ہے جو ہم ہندوستانیوں کیلئے قابل فخر بھی ہے اورباعث مسرت بھی ہے۔ اتفاق سے دیوالی کے موقع پر رشی سنک جو ایک عبادت گزار ہندو ہیں ، دنیا کے ایک ایسے ملک کے وزیراعظم بنے جس کا ایک زمانے میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتاتھا اورجس نے تقریباً دوسوسال برصغیر پر حکومت کی ہے۔ یہ چیز قابل فخر اس لئے بھی ہے کہ سنک کو بناکسی مقابلے کنزرویٹو پارٹی کا لیڈرمنتخب کرلیاگیا اورکسی انگریز نے ان کے غیرملکی ہونے پر اعتراض درج نہیں کیا۔ دوسری جانب اپنے ملک ہندوستان میں سونیا گاندھی کو ہم لوگوں نے آج تک دل سے ہندوستانی قبول نہیں کیا۔ ہم لوگوں کو اس بات پر بھی ناز ہے کہ برطانیہ کی تاریخ میں بیالیس سال کی عمر کے وہ سب سے نوجوان وزیراعظم ہیں۔اب ایک سب سے اہم سوال جو سبھی کی زبان پر ہے وہ ہے کیا ہمارا ملک برطانیہ سے یہ واضح سبق سیکھے گا؟کچھ دیر کیلئے غور کرنے کی بات ہے ، برطانیہ نے کیاکیاہے:اس کی آبادی کے 6.8فیصد لوگ ایشیاء نژاد ہیں جن کی جڑیں ایشیاء کے مختلف ممالک میں ہیں۔ملک کی آبادی کا 2.3فیصد ہندوستانی نسب کا ہے۔یہ ایک معمولی اقلیت ہے ۔ پھربھی کنزرویٹواراکین نے ایشیائی نژاد کے پہلی نسل کے مہاجرین کی اولاد کو ، جو 1960ء کی دہائی میں برطانیہ میں آئی مقیم ہونے والے، ملک کا57واں وزیراعظم بنایا۔ بورس جانسن کی پہلی کابینہ میں بیس فیصد غیر سیاہ فام یاایشیائی نسل کے لوگ تھے۔ گزشتہ چارچانسلر ، پچھلے دوداخلہ سکریٹری اورحالیہ خارجہ سکریٹری مہاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں ریاست کے بڑے منصب داروں میں شما رکیاجاتاہے ۔شاید اُن سب میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک مستند اعدادوشمار کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کے 357؍ایم -پی میں سے دوسوسے زیادہ اراکین نے سنک کی حمایت کی ۔ایک بھی سفید فام مدعی ان کامقابلہ کرنے کی جرأت نہیں کرسکا۔
اب ہم اگراپنے ملک کی جانب دیکھیں تو پتہ چلے گاکہ مسلمان ہماری پوری آبادی کے کم ازکم 14.3فیصد ہیں ۔ اس آبادی کے تناسب سے لوگ سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی 78سیٹوںپر ہونی چاہیے جبکہ آج لوک سبھا میں ان کی تعداد محض 27ہے۔ ہندوستان کی اٹھائیس ریاستوں میں آج ایک بھی مسلمان وزیراعلیٰ نہیں ہے، پندرہ ریاستوں میں ایک بھی مسلم وزیر نہیں ہے اوردس ریاستوں میں صرف ایک ایک مسلمان وزیر ہے جو کہ عموماً اقلیتی امور کی ذمہ داری نبھاتاہے۔ آج کے پارلیمان کے دونوںایوانوں میں ایک بھی بی جے پی کا مسلمان ایم پی نہیں ہے۔ اترپردیش میں جہاں بیس فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے ،ایک بھی بی جے پی مسلم رکن اسمبلی میں نہیں ہے ۔ یہی صورت حال 2017 میں بھی تھی۔ 1998 سے ہی گجرات میں بی جے پی نے لوک سبھا اسمبلی میںایک بھی مسلم امیدوار نہیں کھڑاکیا۔ یہ چوبیس سال کا سوچاسمجھامنصوبہ تھااگرچہ اس صوبہ میں آبادی کے 9فیصد لوگ مسلم عقیدے کے ہیں۔ اگر کار پٹیل کی کتاب ’اورہندوراشٹرا‘کا مطالعہ کیاجائے تو کچھ اور پریشان کن اعداد وشمار سامنے آئیں گے۔ کتاب میں بتایاگیاہے کہ مرکزی اورریاستی حکومت کے ملازمین میں مسلمان محض 9.4فیصدہیں، پیرا ملٹری سروسز میں 4.6فیصد ، آئی ایس آئی ،ایف ایس اور آئی پی ایس افسران میں مسلمانوںکی تعداد 3.2فیصداورفوج میں شایدمحض ایک فیصد ہی مسلمان ہیں۔ یہ چیزیں ہم لوگوں کیلئے باعث شرمندگی ہیں۔
دیکھتے ہیں کہ برطانیہ کے ذرائع ابلاغ اِس موازنہ کو کس طرح پیش کرتے ہیں۔ بی بی سی کا جائزہ لیں تو اِس میں ایشیائی نژاد چہروں کی کثرت دیکھ کر آپ حیرت زدہ ہوجائیں گے۔ کچھ کے نام قابل ذکرہیں:میتھو امرولی والا،گیتاگرومورتھی، جینس کمارسوامی، جارج الاگیا ، نومیااقبال،سمیراحسین، امول راجن، رجنی ویدیاناتھن، سکندرکرمانی،کمال احمد،فیصل اسلام ، دھرشنی ڈیوڈ۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ میں اس بات پر کیوں زور دے رہاہوں کہ ہمارے ملک کو برطانیہ کی سیاسی سرگرمیوں سے سبق لیناچاہیے۔ ہمارے ملک میں تقریباً بیس کروڑ مسلمان ہیں لیکن انہیں جانے انجانے میں تاریکیوں میں ڈھکیل دیاگیاہے۔ ہمارے ملک میں انہیں ’دیمک ‘اور’بابر کی اولاد‘ کہاجاتاہے،اباجان کے حوالے سے ان پر طنز کساجا تا ہے۔ شمشان گھاٹ اورقبرستان کا موازنہ کرکے ان کی اوقات یاد دلائی جاتی ہے اوریہ کام کوئی سڑک چھاپ لیڈر نہیں کرتاہے بلکہ حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کرتے ہیں۔ ملک کااعلیٰ ترین منصب پر فائز شخص ’آپ انہیں کپڑوں سے پہنچان سکتے ہیں‘کہہ کر انہیں ذلیل کرتاہے۔ جب کبھی کسی سنگھ پریوار کے رکن کومسلمانوں پرغصہ آتاہے تو وہ انہیں پاکستان جانے کی تلقین کرتے ہیں۔ اس لئے آج جب ہم سنک کی حیرت انگیز ترقی پر فخر محسوس کرتے ہیں توہم خود سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ کیا ہندوستان میں ایک مسلمان وزیراعظم بن سکتاہے؟ایک اوردعویٰ جو خود اپنی نفی کرتاہے اورجوزیادہ ترلوگ سمجھنے سے قاصر ہیں وہ ہے برطانیہ کے لوگوں کو نسل پرست سمجھنا ۔ ہم میں سے وہ جو برطانیہ کو بہت کم سمجھتے ہیں اکثروہاں کے انگریزوں کے نسل پرست ہونے کادعویٰ کرتے ہیں جبکہ برطانیہ میں یہ رجحان بہت کم دیکھنے کو ملتاہے، امریکہ کے سلسلے میں تو یہ بات صحیح ہوسکتی ہے۔ سنک اگروزیراعظم نہ بھی بنتے تب بھی برطانیہ کے انگریزوں کو ایسانہیں کہاجاسکتاتھا۔ لیکن وہی لوگ ہندوستان میں ہورہے مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی کی تنقید تو دور اسے تسلیم بھی نہیں کرتے ۔ اس کے بدلے وہ مصالحت خواہی پر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کانظریہ ہے کہ اپنے ملک میں سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو بیجا خوش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم لوگوں کو دعاکرنی چاہیے کہ سنک کی کہانی ہمارے لئے ایک سبق بن جائے جس کی امید بہت کم ہے۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS