آرایس ایس کے چیف موہن بھاگوت کے بیان کی ستائش

0

موجودہ حالات کے پیش نظربالخصوص ہندو-مسلم کے لیے ایسے بیان وقت کی اہم ضرورت: الحاج سراج قریشی
محمدغفران آفریدی
نئی دہلی(ایس این بی) : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے چیئر مین موہن بھاگوت کے بیان کی انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدرالحاج سراج الدین قریشی نے نہ صرف ستائش کی ،بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظراوربالخصوص ہندو-مسلم اتحادکیلئے ایسے بیان کوموجودہ وقت کی ضرورت بتایا ۔انہوں نے کہاکہ بھاگوت جی کے ایسے خیالات کو میںسلام کرتا ہوں، بالخصوص جو انہوں نے کہاہے کہ’ تمام ہندوستانیوں کے طور طریقے ایک جیسے ہیں اور ہمارے آباو اجداد بھی ایک جیسے ہیں،البتہ ہر کسی کو اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی آزادی ہے،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں محبت ہونی چاہیے اورہم سب ایک ہیں‘۔ایسے بیان کامسلمان بھی خیر مقدم کرتا ہے ۔سراج قریشی نے سبھی ہندوبھائیوں سے یہ بھی اپیل کی کہ ’ہرمسجدمیںشیولنگ یا یہ ذہنیت بنا نا کہ مسجدوں میں نفرت کا سبق اور دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے ،یہ بالکل غلط ہے ، کیو نکہ مسجد وں ، درگاہوں ، خانقاہوںودیگر مذہبی عبادت گاہوں میں خدا کو یاد کیا جاتا ہے اور قرآن کریم وسنت نبوی کا درس او ر محبت والفت کی تعلیم دی جاتی ہے‘، ساتھ ہی مختلف شوشوں سے بچ کر بھائی چارے کے فروغ کیلئے دھیان دینا چاہئے۔ واضح ہوکہ گزشتہ روز سر سنگھ چالک نے گیانواپی مسجد کے تنازعہ میں ناگپور میں ایک پروگرام میں کہاتھا کہ’ ہر مسجد میں شیولنگ کیوں دیکھیں ؟البتہ اب آر ایس ایس اور ہندو سماج کسی مسجد کیلئے تحریک نہیںچلائیں گے اور مسلمانوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوارکرنے کی بات کہی تھی‘،ساتھ ہی مسٹر بھاگوت نے کہا تھاکہ’ ملک کی آزادی کی جنگ میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی لڑے‘۔
راشٹریہ سہاراسے خاص بات چیت میںالحاج سراج قریشی نے کہاکہ’ بھاگوت جی کا یہ بیان ملک میں امن کے لیے بہت ضروری ہے اوریہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میںمندروںاورمساجدکولیکرنفرت پائی جارہی ہے‘۔انہوں نے کہاکہ’موہن بھاگوت جی کے اس بیان سے پوری طرح متفق ہوں، ملک میں آج جو کچھ بھی ہورہاہے اسے نظر انداز کر دینا چاہیے اور بھائی چارے کے ساتھ دونوں کمیونٹی رہیں اور ہمارا ملک ترقی کی اونچائیوں تک کیسے پہنچے ، اس طرف سوچنا چاہئے اورآگے بڑھ کر سرکار کا ساتھ بھی دینا چاہئے‘۔ ایک سوال کے جواب میں سراج قریشی نے مسلمانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ ’وزیر اعظم کی ہر بات یاہر طریقے کی مخالفت یا تنقید کرنا ٹھیک نہیں ہے ،نکتہ چینی کے کام کیلئے اپوزیشن جماعتیںہیںاورہمیںاپنی سوچ وخیالات کو تبدیل کر نے اور شدت پسندی کوختم کرنے کی ضرورت ہے،البتہ جو بھی مسئلے ہیں انہیں گفتگو کے ذریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے‘ ۔ آئی آئی سی سی کے صدر نے مزید کہاکہ مسلمانوں کے مسائل کے سلسلے میں ہم پہلے بھی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تھے اور انہوں نے تمام مسئلوںکوبغورسناتھا ،نیزہم جلد ہی وفد کی شکل میں وزیر اعظم سے ملاقات کرکے مسلمانوں کے مسائل رکھیں گے اورموہن بھاگوت جی ، وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈاسے بھی ضرورت پڑی تو،ضرور ملاقات کریں گے ۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ میں آر ایس ایس کے قریبی رہا ہوں ،مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہاںکبھی متعصب باتیں یا چیزیں نہیں ہوتی ہیں،یہ سب غلط فہمیاں ہیں جو پھیلادی گئی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ بابری مسجد کے فیصلہ سے قبل ہم سے کہاگیا تھا کہ فیصلے کے بعد کوئی بھی ری ایکشن نہ دیں ، کورٹ کے فیصلے کا احترام کریں احتجاج وغیرہ سے گریز کریں ،اسکے بعدرام مندر کا فیصلہ آیا، مسلمانوں نے کوئی اُف تک نہیں کی ، عدالت عظمی کا فیصلہ قبول ومنظورکیا۔وہیںاس دوران یہ بات بھی آئی تھی کہ بابری مسجد کے بعد کسی اور مسجد پر تنازعہ نہیں کھڑا کیا جائے اور نہ اسے چھیڑا جائیگا ، مگر اسکے بعد دیگر مساجد پر تنازعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ، جو تشویش کی بات ہے۔انہوں نے موجودہ حالات پر سبھی ہندواور مسلمانوں سے پُر زور اپیل کی کہ یہ ملک امن وچین والا رہا ہے ،یہ صرف عمارتیں ہیںانکا کوئی وجود نہیں ہے،البتہ مسجد یا مندر میں بیٹھ کر اپنے خدا کو یاد کرتے ہیںنیزعبادتگاہوں پر لڑائی جھگڑا کسی بھی صورت میںٹھیک نہیںہے، ملکی سالمیت کا تحفظ ہم سب کیلئے ضروری ہے۔سراج قریشی نے سبھی مسلمانوں سے اپیل کی کہ صبر وتحمل کامظاہرہ کریں اورجو ہماری ہزاروں سال پرانی گنگاجمنی تہذیب اور بھائی چارہ ہے ، اسکو ہرحال میں باقی رکھنا ہے ، لیکن تشدد کا راستہ کبھی اختیارنہیںکرنا ہے ۔