پوسٹ آفس کوربینکنگ نظام

0

پارلیمنٹ میں پیش ہوئے آئندہ مالیاتی سال کے عام بجٹ میں جس طرح سے پوسٹ آفس کے اکاؤنٹ کو عمومی بینک کی طرح کور بینکنگ سے جوڑنے کا اعادہ کیاگیا ہے۔ خدمات کے اعتبار سے یہ تاخیر سے اٹھایاگیا، لیکن اچھا قدم ہے۔ کیونکہ آج بھی پورے ملک میں گاؤں، محلہ تک جہاں بینک کی خدمات اب تک نہیں پہنچ سکی ہیں، وہاں بھی ڈاک گھر یا پوسٹ آفس کی خدمات عوام کو میسر ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بینکنگ خدمات میں اضافہ اور آسانی کے باجود آج بھی ملک کی بڑی تعداد پوسٹ آفس بینک پر زیادہ بھروسہ کرتی ہے۔ اس میں معمر افراد ہی نہیں خواتین اور یومیہ آمدنی والا طبقہ بھی شامل ہے، جس کی تعداد کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کی بینکنگ ضروریات اسی پوسٹ آفس سے پوری ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی رقوم کو وہاں جمع کرتا ہے اور جب اسے ضرورت ہوتی ہے تو وہ آسانی سے نکال بھی لیتا ہے۔ چونکہ پوسٹ آفس کے صارفین اپنے پوسٹ آفس میں تعینات اہلکاروں سے قریب ہوتے ہیں اور اہلکار بھی ان کو خاطرخواہ توجہ دیتے ہیں، اس کی وجہ سے ان کے کام میں آسانی ہوجاتی ہے۔ سرور ڈاؤن ہونے یا کسی وجہ سے تاخیر ہونے پر وہ بہت اطمینان سے اپنی پاس بک اور پیسہ نکالنے کے لیے دستخط کیا ہوافارم بھی وہاں چھوڑ دیتا ہے کہ جب سرورچلے گا تو اس کی رقم نکل آئے گی اور اسے پوری ایمانداری سے مل جائے گی۔ دوردراز، گاؤں محلوں کے سب پوسٹ آفس میں اب بیشتر کام رقوم کے لین دین ہی کا ہوتا ہے۔ وہاں اب ڈاک، رجسٹری، اسپیڈ پوسٹ نہ کے برابر ہوتی ہے، لیکن پیسہ جمع کرنے اور نکالنے والوں کی آمد ورفت بنی رہتی ہے۔ پوسٹ آفس میں پیسہ جمع کرنے کے لیے طرح طرح کے سیونگ پلان بھی ہیں۔ خواتین و لڑکیوں کے علاوہ بزرگو ں کے لیے سیونگ پلان ہیں۔ پوسٹ آفس ، ریلوے ، فوج کے سبکدوش اہلکاروں کی پنشن، فیملی پنشن حاصل کرنے والوں کی بھی بڑی تعدادکے اکاؤنٹس آج بھی پوسٹ آفس میں ہیں اور وہ وہاں کی سروس سے بہت مطمئن بھی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پوسٹ آفس میں بینکوں کی طرح قدرے وقت کم ہوتا ہے۔ عموماً بینک شام کو 4بجے تک عوامی خدمات فراہم کرتے ہیں جبکہ پوسٹ آفس 2بجے کے بعد کام نہیں کرتے ہیں۔ بعد میں اگر کسی کو کوئی کام پڑتا ہے تو اس کے لیے جی پی او ہی جاناپڑتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک اچھائی ہے کہ صبح9.30بجے سے پوسٹ آفس میں کام شروع بھی ہوجاتا ہے جو عموماً بینکوں میں نہیں ہوتا ہے۔ جی پی او اور بڑے پوسٹ آفس میں محکمہ نے اے ٹی ایم کی خدمات پہلے ہی شروع کررکھی ہیں۔ کوربینکنگ بھی چل رہی ہے۔ نئے بجٹ میں اتنا ضرورہوگا کہ بینک اور پوسٹ آفس کے اکاؤنٹ کے مابین رقوم کی منتقلی ہوسکے۔ پوسٹ آفس کے اے ٹی ایم کارڈ بینک کے اے ٹی ایم میں استعمال ہوسکیں گے۔ جو ظاہرسی بات ہے کہ پورے ملک میں بڑی تعداد میں ہیں۔ اس سے پوسٹ آفس کے صارفین کو قدرے سہولت ملے گی۔ لیکن پوسٹ آفس میں اکاؤنٹ رکھنے والے اس بات سے متفکر بھی ہیں کہ اس تال میل سے کہیں بینکوں کی طرح پوسٹ آفس کے بینکنگ نظام کا بھروسہ بھی مجروح نہ ہوجائے۔ جس طرح سے گزشتہ چند سال خاص طور سے 2016میں اچانک ’نوٹ بندی ‘ کے بعد سے بینک کے حالات ہوئے اس سے صارفین کا بھروسہ بینکوں پر سے کم ہوا ہے۔ اب پوسٹ آفس کو بینکوں سے مربوط کیے جانے پر پوسٹ آفس کے صارفین میں تشویش پیدا ہونا لازمی ہے۔ اس طبقہ کے لیے بھی بڑا مسئلہ پیدا ہوجائے گا، جو بینک کوچھوڑ کر پوسٹ آفس سے مالیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ کیونکہ جس تیزی سے سائبر کرائم میں اضافہ ہورہا ہے اور طرح طرح سے فریب دہی کرکے آن لائن رقوم نکال لیے جانے کی وارداتیں ہورہی ہیں، اس سے بزرگوں اور خواتین کی فکر میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ یہ طبقہ آج بھی آن لائن اور الیکٹرانک خدمات کے بجائے دستی خدمات پر زیادہ یقین کرتا ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے رقوم کے نکالنے اور جمع ہونے کی تصدیق چاہتا ہے۔ نئے نظام میں صارفین کے اس یقین کو بحال رکھنا اور انہیں اعتماد میں لینا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
[email protected]