جرائم اور ترقی ایک ساتھ ممکن نہیں

0

محمد حنیف خان

انتخابات میں ایک دوسرے پر الزامات عام بات ہے، ہر پارٹی دوسرے پر غنڈوں اور مافیاؤں کو تحفظ دینے کا الزام لگاتی ہے،جو حکومت میں ہیں وہ سابقہ حکومتوں پر اور جوپہلے حکومت میں تھے یا اب اقتدار کے خواہاں ہیں وہ موجودہ حکومت پر اس طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ہرایک کا صرف ایک ہی مطمح نظر ہوتا ہے کہ کسی طرح اقتدار حاصل کر لیا جائے،کوئی بھی اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتا کہ اس نے کن افراد کو انتخابات کے لیے میدان میں اتارا ہے یا اس کی پارٹی میں کیسے کیسے افراد ہیں جن پر درجنوں مقدمات سنگین جرائم میں درج ہیں۔در اصل انسان کو دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آجاتا ہے مگر اسے اپنی شہتیر نہیں دکھائی دیتی ہے۔سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کا یہ ایسا مرض ہے جس کا علاج صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے۔
امن و امان ہر شہری کا خواب ہوتاہے،جس ملک یا ریاست میں امن و چین نہیں ہوتا وہاں ترقی دبے پاؤں بھی نہیں آتی ہے۔لیکن اگر ملک و ریاست میں امن و چین آجائے گا تو محض پانچ برس میں دسیوں گنا جو دولت بڑھ جاتی ہے وہ کیسے بڑھے گی؟اس دولت کے پیچھے جرائم کی وہ داستان ہوتی ہے جو ان کہی اور ان سنی ہوتی ہے۔بہت کم داستانیں باہر عوام کے درمیان آپاتی ہیں۔
یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ جتنے جرائم ریکارڈ میں آتے ہیں کم از کم اس سے دوگنا جرائم معاشرے میں انجام دیے جاتے ہیں۔کوئی حکومت خواہ کتنے بھی دعوے کر لے کہ اس کے دور میں پولیس تھانوں میں فریادیوں کو نامراد واپس نہیں ہونا پڑتا ہے، فوراً رپورٹ درج کی جاتی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ تھانوں میں ایسا نہیں ہوتا ہے کہ تھانے اور اضلاع کے سربراہ اپنے عہدوں کو تو خطرے میں ڈال نہیں سکتے ہیں، ان کو بھی معلوم ہے کہ اگر ان کے علاقہ یا اضلاع میں جرائم میں اضافہ ریکارڈ میں آگیا تو ان کی ملازمت خطرے میں آجائے گی یا ان سے باز پرس ہوگی، ایسے میں وہ سب سے آسان طریقہ یہی نکالتے ہیں کہ جرائم کو ریکارڈ پر لایا ہی نہ جائے اور یہی ہوتا بھی ہے۔ اس کا اندازہ ان افراد کو بخوبی ہوگا جو کبھی کوئی رپورٹ درج کرانے کے لیے تھانے گئے ہوں۔
ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ حکومت ہند نے 1986میں ایک اہم ادارہ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو قائم کیا جو ملک کی سطح پر جرائم کے ریکارڈ کے اعداد و شمار اکٹھا کرکے سالانہ شائع کرتاہے۔جس کا مقصد یہ تھا کہ اس ریکارڈ کو مد نظر رکھتے ہوئے جن شعبوں میں جرائم کی سطح بلند ہے، پہلے ان پر قابوپانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے اور ان کا خاتمہ کیا جائے۔ یہ ادارہ قومی پولیس کمیشن 1977-1981 کی سفارشات کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا۔یہ ادارہ سال در سال جرائم کا ریکارڈ تیار کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کب جرائم کے کس شعبے میں اضافہ ہوا یا کمی آئی ۔مثلاً این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق 2020میں سابقہ برسوں کے مقابلے مذہب کی بنیاد پر فسادات میں 96فیصد کا اضافہ ہوا، صرف دہلی کی پولیس نے 520معاملات درج کیے۔ذات و برادری کی بنیاد پر ہونے والے دنگوں میں50فیصد، زرعی معاملات میں بڑے پیمانے پر لڑائی جھگڑے میں 39فیصد اور مظاہروں میں33فیصد کا اضافہ ہوا۔دہلی خواتین تحفظ کے معاملے میں سب سے زیادہ خراب شہر رہا،اس طرح کے 10093معاملات درج ہوئے۔ماحولیات سے متعلق جرائم میں78.1فیصد کا اضافہ ہوا۔ریاست کے خلاف جرائم میں2019میں کمی درج کی گئی لیکن سی اے اے کے خلاف مظاہروں کی وجہ سے اترپردیش میں سب سے زیادہ معاملات درج کیے گئے کیونکہ حکومت اترپردیش نے ایک خاص طبقے کے خلاف کریک ڈاؤن کر رکھا تھا جس کی وجہ سے اس میں اضافہ درج کیا گیا۔اس طرح نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو جرائم کے ریکارڈ جمع کرکے شائع کرتا ہے۔
اترپردیش کی موجودہ حکومت حزب اختلاف کو انتخابی میدان میں نظم و نسق کے معاملے میں ہر جگہ پر گھیرنے کی کوشش کرتی ہے،اس کے ترجمان ٹی وی سے لے کر ہر اسٹیج پر یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں کہ سابقہ حکومت میں غنڈہ راج تھا اور اگر عوام نے ایک بار پھر ان کو منتخب کرلیا تو وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی ماریں گے۔موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار کو مثالی قرار دیتی ہے۔ مرکزمیں بھی اسی کی حکومت ہے اور نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو ایک مرکزی ادارہ ہے ،تعجب کی بات ہے کہ وہ اپنے ماتحت ادارے کی رپورٹ کو ہی خاطر میں نہیں لاتی ہے۔این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق قتل کے معاملات میں اتر پردیش پورے ملک میں سرفہرست رہا ہے۔2016سے 2020کے درمیان سب سے زیادہ قتل اترپردیش میں ہوئے ہیں،اس دوران الگ الگ شہروں میں20816قتل ہوئے،2017سے 2019تک اترپردیش میں 58222اغوا کی واردات ہوئیں جس میں 22فیصد کی گراوٹ درج کی گئی۔2016 میں 4889،2017میں 4324، 2018 میں 4018، 2019 میں 3806، 2020میں3779قتل کی وارداتیں اترپردیش میں ہوئی ہیں۔عصمت دری کے معاملے میں اترپردیش دوسرے نمبر پر رہا ۔این سی آر بی کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق راجستھان 5310 معاملات کے ساتھ سرفہرست رہا جبکہ اترپردیش 796 معاملات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا ۔مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو سابقہ حکومت کے پانچ برس 2012-2017میں 237821جرائم ریکارڈ میں آئے جبکہ موجودہ حکومت کے پانچ برس 2017-2020میں 340170 معاملات ریکارڈ پر آئے ہیں۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیاست دانوں کے الزامات میں کتنی سچائی ہوتی ہے۔
انتخابات میں ہر پارٹی اپنے دعوے کے ساتھ عوام کے درمیان جاتی ہے،وہ ترقیات کے سنہرے خواب دکھاتی ہے اور اگر حکومت میں رہ چکی ہے تو اپنے دور کے ترقیاتی کام شمار کراتی ہے لیکن عوام کے پاس بھی آنکھیں اور شعور ہے، ان کو دانا و بینا بن کر ہر امیدوار اور پارٹی کو اپنے میزان پر رکھنا چاہیے تاکہ فیصلے میں غلطی نہ ہو۔مگر کیا کیا جائے نفرت و محبت اور انتخاب و استتراد کے اس میزان اور پیمانے کا جو اس دور میں عوام نے بنا رکھا ہے۔اب کسی بھی پارٹی یا امیدوار کا انتخاب عوام کے لیے کیے گئے اس کے ترقیاتی کاموں کی بنا پر ہونے کے بجائے وہ مذہبی نفرت و محبت ہے جو ان کے دل و دماغ میں پیوست کردی گئی ہے۔
یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ ریاستی اور مرکزی انتخابات کے الگ الگ مسائل ہوتے ہیں، مرکز کے انتخاب میں جہاں قومی تحفظ اور اس طرح کے دیگر مسائل ہوتے ہیں وہیں ریاست کے اسمبلی انتخابات میں مقامی سطح پر ترقیاتی کام ہوتے ہیں جن میں زراعت، میڈیکل ، تعلیم ،روزگار اور عوام کو دی جانے والی سہولیات اصل مسئلے کے طور پر ہوتے ہیں مگر اس کے باوجوداسمبلی انتخابات کو بھی قومی تحفظ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔اسی طرح مذہبی منافرت کو فروغ دے کر یہاں بھی پولرائز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے کسی بھی صورت میں مستحسن قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
عوام کے لیے یہ ایک بہتر موقع ہے، انہیں کسی بھی امیدوار یا پارٹی کے دعوؤں پر یقین کرنے کے بجائے این سی آر بی جیسے غیر جانبدار اداروں کی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ کس کے دور حکومت میں امن و چین اور سکون رہا ۔کیونکہ جب ملک وریاست میں امن و امان ہوگا تو عورتیں اور بچیاں بھی محفوظ ہوں گی،تاجر اور کاروباری بھی سکون سے ہوں گے،ہرفرد اپنی اپنی جگہ پر محفوظ و مامون ہوگا ایسے میں ترقی بھی ہوگی اور ریاست میں خوشحالی بھی آئے گی۔یہ بات طے ہے کہ جرائم اور ترقی ایک ساتھ ممکن نہیں ہے کیونکہ جہاں جان و مال کو ہی خطرہ ہو،بہو بیٹیوں کی عزتیں داؤ پر ہوں ،روزگار کے مواقع نہ ہوں اور روزگار مانگنے پر لاٹھیاں کھانی پڑیں، وہاں کے عوام ترقی کیسے کرسکتے ہیں۔
[email protected]il.com