آزادفلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات

0

اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کئی مرتبہ فخریہ انداز میں کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے 1992-95 کے اوسلو سمجھوتے کے تحت آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو روکے رکھا ہے۔ اس کا بالکل واضح اور براہ راست پیغام ہے کہ عالمی برادری کچھ بھی کرلے، کتنی بھی قراردادیںمنظور کرائے۔ فلسطینی ریاست کو ان کا ملک اور وہ خود قائم نہیں ہونے دیں گے،اسرائیل کے رویہ میں یہ سختی اس لیے بھی آتی ہے کہ اس وقت وہاں اب تک کی سب سے سخت گیر سیاست دانوں کی حمایت یافتہ سرکار بنجامن نتن یاہو کی قیادت میں قائم ہے۔ اسرائیل کی کابینہ نے عالمی برادری کی ان کوششوں پر ایک بار پھر پانی پھیر دیا ہے جس کے تحت ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیاجارہاہے اور اس سلسلہ میں امریکہ پورے جوش و خروش کے ساتھ سرگرم ہے۔ اسرائیل کی کابینہ نے جمعرات 15فروری 2024کو آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز کو یکسر مسترد کردیا۔ نتن یاہو نے کہاہے کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ ہوگی، اگر ریاست قائم ہوتی ہے تو یہ 7اکتوبر کے قتل عام کا تحفہ ہوگی۔ امریکہ اور بین الاقوامی برادری یروشلم کو فلسطین کی راجدھانی بنانے کی تجویز پیش کرچکے ہیں۔ کابینہ کی طرف سے لیے گئے فلسطین کی بابت وزیرخزانہ اسمورچ بیزل نے کہاہے کہ ہم اس منصوبہ کوعملی شکل اختیار کرنے نہیں دیں گے۔ 7اکتوبر کے واقعات نے ثابت کردیاہے کہ فلسطینی ریاست ہمارے لیے خطرہ ہوگی۔
امریکہ خطہ کے کئی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرکے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی تجاویز پرتبادلہ خیال کررہاہے۔ پچھلے دنوں اردن کے شاہ حسین (دوم) نے وہائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔ اس گفتگو میں شاہ حسین نے فلسطینیوں کے کرب و آلام پر صدر بائیڈن کی موجودگی میں ایک مدلل اور تفصیلی بیان دیاتھا، جو بہت سخت تھا۔ ظاہرہے کہ اس قدر اہم موقع پر صدر امریکہ کی موجودگی میں ان کا بیان امریکہ کے منشاء اور نیت پر روشنی ڈالنے والا ہے۔ امریکی صدر اورانتظامیہ یواے ای، قطر، سعودی عرب کے ساتھ لگاتار مذاکرات کررہے ہیں۔ سعودی عرب نے کھلم کھلا بغیر کسی لاگ لپیٹ کے عالمی برادری اور خاص طور پراسرائیل کو باور کرادیاہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے بغیر اس کے ساتھ روابط قائم نہیں ہوں گے۔ قرب وجوار کے عرب اور مسلم ممالک غزہ میں اسرائیلی بربریت ختم کرانے کی کوشش کررہے ہیں اورجنگ کے خاتمہ کے بعد کا ایک آزاد فلسطینی مملکت کے ایک جامع منصوبہ پر سب ممالک بشمول جرمنی اور برطانیہ متفق ہیں۔
اسرائیل کی صہیونی قیادت کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ نیزل اسمورچ نے ان خیالات پرپوری قیادت بشمول قومی سلامتی کے وزیر اتماربین غیرملکی شہریوں کی فلاح کے وزیر ڈیاسپورہ (Diaspora)کی وزیر امیچائی چکلی (Amichai Chikli)وزیرتعلیم یوواؤ کسچ (Yoak Kisch)ممبر پارلیمنٹ رمتان کہانا (Matan Kahana)کا یہی موقف ہے۔
اسرائیل کی پوری سیاسی قیادت اسی نقطہ نظر کی حامی ہے کہ کسی طور پر آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہونے دی جائے گی۔ اسرائیل کی کلیدی حکمراں جماعت لکویڈپارٹی جو اس وقت حکمراں اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہے، اس کے اندر بھی نتن یاہو اور ان کے تمام حریف بھی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں۔ پارٹی کے اہم لیڈر گڈیون سار (Gideon Saar)نے کہاہے کہ وہ اپنے وطن کے قلب میں فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی نہیں ہیں۔ گڈیوسار مغربی کنارے پریہودی آبادی کوختم کرنے کے خلاف ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر پر روک لگے۔ خیال رہے کہ مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر پرامتناع یو اے ای کے ساتھ سمجھوتے کا حصہ ہے۔ نتن یاہو کے خلاف یہ کھل کر بولتے ہیں اوران پرالزام لگاتے ہیں کہ وہ شخصیت پرستی Pessonality Cultکو فروغ دے رہے ہیں۔ اسرائیل مغربی کنارے کے کچھ علاقوں کو اپنی مملکت میں ملانے کا منصوبہ بنارہاتھا۔ قارئین کویادہوگا کہ ڈونالڈٹرمپ کے دور اقتدار میں پورے مغربی کنارے کو اسرائیل کے مکمل اقتدار اعلیٰ کے طور پرشامل کرنے کا منصوبہ تھا اور اسی منصوبے کے پہلے مرحلے میں یروشلم کو امریکہ اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرچکا ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپر تسلیم کرنا بین اقوامی قوانین اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔n

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS