حکومت کا مثبت فیصلہ

0

کسی ملک کے جمہوری نظام میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داری ، اپنی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ دونوں کا بنیادی مقصد ملک کو درپیش الجھنوں کو سلجھانا، دشواریوں کو ختم کرنا اور ترقی کی جہتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے تاکہ ملک آگے بڑھتا رہے۔ اسی لیے پارلیمنٹ کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ وہاں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے لیڈران بیٹھیں، ایشوز پر باتیں کریں، مسئلوں کا حل نکالیں۔ پارلیمنٹ کے باہر بھی حکمراں جماعتوں اور اپوزیشن پارٹیوں کے مل بیٹھ کر باتیں کرنے کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے، اس کی ضرورت اکثر پیش نہیں آتی، البتہ بڑے مسئلوں پر حکومت خود چاہتی ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے گفت و شنید کرے تاکہ ان کی آرا سے استفادہ کر سکے۔ طالبان کا افغانستان پر قابض ہوجانا بھی اس خطے کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسی صورت میں جبکہ ایک طرف ہندوستان نے اربوں روپے کا سرمایہ افغانستان میں لگا رکھا ہے اور شاندار کاموں کی وجہ سے بھی افغان اس کا احترام کرتے ہیں اور دوسری طرف پاکستان اور چین کے ساتھ طالبان کا مثلث بن گیا ہے تو ہندوستان کو کیا کرنا چاہیے، کیا طالبان کے قابض رہنے تک افغانستان سے سفارتی تعلقات توڑ لینا چاہیے یا اپنے سفارتخانے کو اسی طرح چلنے دینا چاہیے جیسے اب تک چلتا رہا ہے، یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب تلاش کرنا ناممکن نہیں تو زیادہ آسان بھی نہیں ہے لیکن مثبت بات یہ ہے کہ حکومت ہند نے افغانستان کے بحران پر گفت و شنید کے لیے 26 اگست کو صبح 11 بجے کل جماعتی میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بیان خود وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی طرف سے آیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے وزارت خارجہ سے کہا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو افغانستان کے بارے میں معلومات فراہم کرائے۔
26 اگست کو ہی یہ پتہ چل سکے گا کہ افغانستان کے بحران کے بارے میں اپوزیشن لیڈروں کا کیا سوچنا ہے اور ان کی سوچ سے حکومت کتنا اتفاق کرتی ہے، فی الوقت اس سلسلے میں آرا بٹی ہوئی ہیں۔ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ طالبان پاکستان کے حامی ہیں، اس لیے ان سے گفت و شنید نہیں کی جانی چاہیے اور کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ 20 سال کی جنگ، افغانستان اور دنیا کی تبدیلیوں نے طالبان کو بدلنے پر مجبور کر دیا ہے، اس لیے ان سے گفتگو کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی جانی چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو، ان سے رشتہ استوار کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے تاکہ افغانستان میں پچھلے 20 برس کی سرمایہ کاری ضائع نہ ہو۔ اس سلسلے میں اٹل حکومت میں وزیر خارجہ رہے یشونت سنہا کا کہنا ہے کہ ’ ہندوستان کو طالبان کے ساتھ کھلے دماغ سے نمٹنا چاہیے۔ ‘ ان کے مطابق، کابل میں ہندوستان کا سفارتخانہ کھلنا چاہیے اور ہندوستانی سفیر کو وہاں بھیجا جانا چاہیے۔ یشونت سنہا کی یہ منطق قابل غور ہے کہ افغان ہندوستان سے بہت پیار کرتے ہیں جبکہ پاکستان ان میں اتنا مقبول نہیں ہے۔ یہ بات واقعی ہندوستان کے لیے اہم ہے۔اس سلسلے میں کچھ اور بھی توجہ طلب باتیں ہیں۔ مثلاً:پاکستان اور چین نے ہی نہیں بلکہ روس، ایران اور ترکی نے بھی طالبان کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ روس سے ہندوستان کے دوستانہ تعلقات کے بارے میں دنیا جانتی ہے تو ایسا نہیں ہے کہ طالبان اس بات سے بے خبر ہوں گے۔ اسی طرح ایران سے بھی ہندوستان کے تاریخی رشتے رہے ہیں۔ ان دونوں ملکوں سے چین اور پاکستان کبھی تعلقات خراب کرنا نہیں چاہیں گے، ایسی صورت میں حالات بالکل ہی ہندوستان کے لیے ناموافق نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ حامد کرزئی کھل کر ہندوستان کی حمایت کرتے رہے ہیں، عبداللہ عبداللہ کا جھکاؤ بھی ہندوستان کی طرف رہا ہے، اس لیے ہندوستان کے لیے زیادہ پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ غالباً یہی وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے طالبان نے ابھی تک ہند مخالف کوئی تشویشناک بیان نہیں دیا ہے، ان کی طرف سے یہ بات کہی گئی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کا استعمال وہ دیگر ملکوں کے خلاف نہیں کرنے دیں گے۔ اپنی بات پر وہ کس حد تک عمل کریں گے، یہ وقت بتائے گا مگر فی الوقت طالبان کے لیے ہندوستان کا بظاہر کوئی واضح مؤقف اختیار کرنا ٹھیک نہیں۔ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ داخلی سطح پر افغانستان کے بحران پر سیاست نہ ہو اور کوشش یہ بھی ہونی چاہیے اور سرکار یہ کوشش کر بھی رہی ہے، کہ فیصلے وطن عزیز ہندوستان کے مفاد کے مدنظر لیے جائیں، امریکہ یا مغربی ممالک کے زیر اثر نہیں!
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here