جعلی تعلیمی ادارے :طلبا کامقتل

0

محمد فاروق اعظمی

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پلاننگ مینجمنٹ، قطب انکلیو، نئی دہلی، الٰہ آباد نیشنل یونیورسٹی آف الیکٹرو کمپلیکس ہومیوپیتھی، کمرشیل یونیورسٹی، یونائیٹڈ نیشنس یونیورسٹی، نئی دہلی، اے ڈی آر سینٹرک جیوریڈیشیل یونیورسٹی، انڈین انسٹی ٹیوشن آف سائنس اینڈ انجینئرنگ، نئی دہلی، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹیو میڈیسن کولکاتا اور انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹیو میڈیسن اینڈ ریسرچ، کولکاتا، نارتھ اڑیسہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر اینڈ ٹیکنالوجی وغیرہ ایسے بھاری بھرکم نام ہیں جن سے وابستہ ہونے کیلئے طلبا سر دھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔ہائر سیکنڈری یعنی 12ویں جماعت پاس ہونے کے بعد طلبا جب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ کی جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو ایسے ادارے ان کیلئے ایک نعمت غیر مترقبہ محسوس ہوتے ہیں اور ان میں داخلہ پاجانا انہیں معراج محسوس ہوتا ہے۔ اپنے شناسائوں کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ وہ فلاں ادارہ میں زیر تعلیم ہیں۔ ان اداروں میں داخلہ پانا ان کیلئے بڑا مشکل ثابت ہوا، بھاری بھرکم فیس اور ڈونیشن کے ساتھ ساتھ ان میں داخلہ کی اہلیت اورشرائط بہت سخت تھی جن پر پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ لیکن یہ خوفناک حقیقت سامنے آنے کے بعد کہ یہ تمام تعلیمی ادارے جعلی ہیں، ان طلبا اوران کے سرپرستوں کی راتوں کی نیند اڑجاتی ہے۔
رواں مہینہ کے اوائل میں حکومت نے جعلی تعلیمی اداروں کی فہرست جاری کی ہے۔اس فہرست میں مذکورہ بالاتمام بھاری بھرم نام رکھنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔ حکومت کی فہرست کے مطابق دو درجن سے زیادہ تعلیمی ادارے جو ڈگری جاری کرتے ہیں، جعلی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 8جعلی یونیورسیٹیاں اتر پردیش میں ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبرپر قومی دارالحکومت دہلی ہے جہاں کے7تعلیمی اداروں کو جعلی پایاگیا ہے۔مغربی بنگال میں دو، اڑیسہ میں دو، آندھراپردیش، مہاراشٹرا،کرناٹک، کیرالہ اور پدوچیری میں ایک ایک تعلیمی ادارے جعلی پائے گئے ہیں۔یو جی سی اور مرکزی وزارت تعلیم نے تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے یہاں چلنے والے ان تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کریں۔ اس سے قبل بھی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی )اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی اے )ایسے سیکڑوں تعلیمی اداروں اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کی فہرست جاری کرچکا ہے جوتعلیم دینے کے نام پر جعل ساز ی کرتے ہیں اور طلبا کا مستقبل برباد کررہے ہیں۔یو جی سی اور اے آئی سی ٹی اے کم و بیش ہر سال ایسے جعلی اداروں کی فہرست جاری کرتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طلبا ان یونیورسٹیوں کے جال میں نہ پھنسیں۔ لیکن یہ ادارے بند نہیں ہورہے ہیں بلکہ ہر سال ان کی تعداد میں اضافہ ہی دیکھاجارہاہے۔سوال یہ ہے کہ جب کوئی تعلیمی یاتکنیکی ادارہ حکومت کی منظوری اور متعلقہ نگراں اداروں کی شرائط پوری کیے بغیر کھل ہی نہیں سکتا ہے تو پھر ہر سال ایسے اداروں کی تعداد کیوں بڑھ رہی ہے؟یہ جعلی تعلیمی ادارے کیسے پھل پھول رہے ہیں؟ ان کی پشت پناہی کون کررہاہے؟تعلیم جیسے شعبہ میں ایسی خوفناک دھوکہ دہی اور جعل سازی کیسے ہورہی ہے ؟
اس کی تحقیقات ہونی ضروری ہے۔ایک دو نہیں بلکہ درجنوں یونیورسیٹیاںاور سیکڑوں تکنیکی ادارے تعلیم کے نام پر بچوںکو جعلی ڈگریاں تھمارہے ہیں، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ ہزاروں لاکھوں بچوں کے مستقبل سے صریحاًکھلواڑہے اور یہ کسی مافیاکی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ حکومت صرف ایسے اداروں کی فہرست جاری کرکے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتی ہے۔تعلیم کے شعبہ میں منافع کمانے کیلئے لاکھوں طلبا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ جعل سازوں اور دھوکہ بازوں سے طلبا کو بچانے کا مکمل سامان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پتا بھی لگایاجانا چاہیے کہ حکومت کی اجازت اور شرائط کی تکمیل کے بغیر یہ ادارے کیسے وجود میں آگئے ہیں اوران کی سرپرستی اور پشت پناہی کون کررہا ہے؟

ہندوستان کو اس پر فخر ہے کہ وہ نوجوانوں کا ملک ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان ہندوستان میں ہی ہیں۔2011کی مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں15سے24سال کے نوجوان20فیصد تھے جو 2021میں بڑھ کر 40فیصد کے قریب پہنچ گئے ہیں یعنی130کروڑ کی آبادی میں 60 کروڑ نوجوان بستے ہیں آنے والی ربع صدی یعنی اگلے 2045 تک یہ صورتحال ایسی ہی رہنی ہے۔ان نوجوانوں کو روزگاردینے کیلئے اچھے تعلیمی اور تکنیکی اداروں کی ضرورت ہے جہاں سے وہ علم و ہنر سیکھ کر عملی دنیا کے لائق بن سکیں اورا نہیں روزگار مل سکے۔لیکن یہ ضرورت پوری نہیں ہو پارہی ہے۔حکومت آبادی کے تناسب میں تعلیمی اور تکنیکی ادارے قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہے، پرائیویٹ اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دے کرا پنی ذمہ داری سے فرارہورہی ہے اور اس کا فائدہ جعل ساز اٹھارہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے نام پر کھلی لوٹ کا کاروبار زوروں پر ہے۔
ہر سال جیسے ہی نیا تعلیمی سیشن شروع ہوتا ہے، طرح طرح کے نت نئے تعلیمی اداروں، کالجوں اور یونیورسیٹیوں کی باڑھ سی آجاتی ہے۔ پوراملک ان اداروںکے اشتہارات کی ہورڈنگ اور بینر سے بھر جاتا ہے، اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر بھی خوشنما اور دیدہ زیب اشتہارات چلنے لگتے ہیں۔یہ اشتہارات بلند بانگ اور گمراہ کن دعوئوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ شاندار عمارت کے پس منظر میں بی بی اے، ایم بی اے، ایم سی، بی ٹیک، ایم ٹیک جیسے کورسز کے اعلانات ہوتے ہیں۔یہ کورسز یو جی سی، اے آئی سی ٹی اے اور دیگر نگراں اداروں سے منظور بھی ہیں یا نہیں یہ نہیں لکھا ہوتا ہے۔داخلہ کے خواہش مند طلبا اورا ن کے سرپرست شاندار عمارت اور کیمپس دیکھ کر مچل اٹھتے ہیں۔داخلہ کیلئے گھر باراور زمین جائیدادتک بیچ دینی پڑتی ہے۔جب تعلیم شروع ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں تو فیکلٹی ہی نہیں ہے۔لیباریٹری کا کمرہ تو ہے لیکن اس میں ساز و سامان کا فقدان ہے۔ ایک باران اداروں میں داخلہ لے لینے کے بعد ان سے نکلنا بھی آسان نہیں ہوتا ہے، ایک طرف داخلہ کیلئے اداکی گئی بھاری بھرکم فیس پیر کی زنجیر بن جاتی ہے تو دوسری طرف تعلیمی سال کے ضائع ہوجانے کا خدشہ رہتا ہے۔ان مجبوریوں کا فائدہ یہ جعلی تعلیمی ادارے اٹھاتے ہیں اور طلبا کا استحصال کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا مستقبل بھی برباد کرڈالتے ہیں۔اکثر یہ بھی دیکھاگیا ہے کہ ایسے زیادہ تر تعلیمی ادارے وزرا، ارکان قانون سازیہ، سبکدوش پروفیسروں، محکمہ تعلیم کے افسران ا ور ان کے رشتہ داروں کی ملکیت ہیں یا ان کی ملی بھگت سے چلائے جاتے ہیں، ان میں سے کچھ کو تو شرائط کی تکمیل کے بغیر ہی سرکاری اجازت بھی مل جاتی ہے۔
یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ حکومت صرف ایسے اداروں کی فہرست جاری کرکے اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتی ہے۔تعلیم کے شعبہ میں منافع کمانے کیلئے لاکھوں طلبا کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہیے۔ جعل سازوں اور دھوکہ بازوں سے طلبا کو بچانے کا مکمل سامان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پتا بھی لگایاجانا چاہیے کہ حکومت کی اجازت اور شرائط کی تکمیل کے بغیر یہ ادارے کیسے وجود میں آگئے ہیں اوران کی سرپرستی اور پشت پناہی کون کررہا ہے؟
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here