سیاست ’سیوا‘ نہیں، ’میوہ‘ ہے!

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

راجیہ سبھا کے انتخابات میں ریاستوں کے ایم ایل اے ہی ووٹرس ہوتے ہیں۔ عام انتخابات میں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے سبھی پارٹیاں طرح طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں لیکن ایم ایل اے کے ساتھ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ ان کی اپنی سیاسی پارٹی ان کو پھسلنے سے روکنے کے لیے ایک سے ایک عجیب طریقے اپناتی ہے۔ اس وقت کانگریس، شیوسینا، بی جے پی اور پوار-کانگریس نے اپنے اپنے ایم ایل ایز کا اغوا کرلیا ہے اور انہیں دلہنوں کی طرح چھپا کر رکھ دیا ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے ایم ایل اے سے ڈری رہتی ہیں۔ انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ اگر ان کے تھوڑے سے ایم ایل اے بھی اپوزیشن کے امیدوار کی طرف منتقل ہوگئے تو ان کا امیدوار ہار جائے گا۔ کئی امیدوار تو صرف دو-چار ووٹوں کے فرق سے ہی ہارتے اور جیتتے ہیں۔ ایم ایل اے کو اپنی طرف کرنے کے لیے نوٹوں کے بنڈل، وزیر کے عہدہ کا لالچ، حریف پارٹی سے اونچا عہدہ دینے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ اگر راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیے یہ ووٹنگ مکمل طور پر anti-defection law کے تحت ہوجائے، تو ایسے اراکین اسمبلی کو ہواس باختہ کردے گی۔ غیرپارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینے والے رکن اسمبلی کی رکنیت تو چھین لی جائے گی ہی ، اس کی بدنامی بھی ہوگی۔ ایسا کوئی التزام ابھی تک نہیں ہوا ہے، اسی لیے سبھی پارٹیاں اپنے ایم ایل اے کو اپنی ریاستوں کے باہر کسی ہوٹل یا ریسورٹ میں قیام کرواتی ہیں۔ ان ایم ایل اے کے اردگرد سخت سیکورٹی ہوتی ہے۔ ان کا ادھر اُدھر آنا جانا اور باہر کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے اور بات چیت کرنے سے منع کیا گیا ہوتا ہے۔ان کے موبائل فون بھی رکھوا لیے جاتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے، کھیل کود اور تفریح کا مکمل انتظام رہتا ہے۔ ان پر لاکھوں روپے روزانہ خرچ ہوتے ہیں۔ کوئی ان پارٹیوں سے پوچھے کہ جتنے دن یہ ایم ایل اے آپ کی قید میں رہتے ہیں، یہ ایم ایل اے ہونے کی کون سی ذمہ داری ادا کرتے ہیں؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ تقریباً سبھی پارٹیاں، آج کل یہی ’احتیاط‘ کیوں برتتی ہیں؟ اس کا بنیادی مفہوم کیا ہے؟ اس کا ایک ہی مطلب ہے، وہ یہ کہ آج کی سیاست خدمت کے لیے نہیں ہے، وہ ’میوہ‘(پھل) کے لیے ہے۔ جدھر میوہ ملے، ہمارے لیڈر ادھر ہی جانے کے لیے تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ موجودہ سیاست میں نہ اصول و ضوابط کی کوئی اہمیت ہے، نہ پالیسی کی، نہ نظریہ کی! سیاست میں جھوٹ-سچ، الزام تراشی، بے تحاشہ آمدنی، بے حساب اخراجات، چاپلوسی اور سخت تنقید، یہ سب کچھ اس طرح چلتا ہے، جیسے کہ وہ کوئی طوائف ہو۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے راجا بھرتری ہری نے ’نیتی شتک‘ میں یہ جو شلوک لکھا تھا، وہ آج بھی سچ سچ معلوم ہوتا ہے۔ سیاست میں سرگرم کئی لوگ آج بھی اس سے مستثنیٰ ہیں لیکن ذرا معلوم کیجیے کہ کیا وہ کبھی عروج تک پہنچ سکے ہیں؟ جو لوگ اپنی چالوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدمت ہی ان کا مذہب ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم بیٹھ کر نہاتے ہیں یا کھڑے ہوکر نہاتے ہیں؟ بی جے پی میں رہیں یا کانگریس میں جائیں، ایک ہی بات ہے۔ ہمیں تو عوام کی خدمت کرنی ہے۔ ایسے لوگ میوے کو چبائے بغیر ہی نگل لیتے ہیں۔
(مصنف ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS