بے فیض کوشش

0

افراط زر جسے آسان لفظوں میں مہنگائی کہا جاتا ہے، پر قابو پانے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی ہے۔ ملک مہنگائی کے بوجھ سے کراہ رہاہے۔ملک کی اکثریت بے روزگاری کاجاں گسل عذاب جھیل رہی ہے۔ بین الاقوامی ایجنسیاں ہندوستان کی معاشی سست روی کاانتباہ جاری کررہی ہیں لیکن وزیراعظم نریندرمودی کا دعویٰ ہے کہ ملک کی معیشت میں8برسوں کے دوران 8گنا اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کا دعویٰ معیشت کے ایک حصہ ’بایو اکنامی‘ کے حوالے سے تھا۔بایو اکنامی، معاشی سرگرمیوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو قابل تجدید حیاتیاتی وسائل پیدا کرتی ہے اور انہیں خوراک اور دیگر حیاتیاتی مصنوعات میں تبدیل کرتی ہے۔ اس قسم کی معیشت میں فضلہ کی مصنوعات کو خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی فضلات کے استعمال سے ملک کی معیشت میں بے پناہ ترقی ہوئی ہے۔ ہندوستان کی یہ معیشت 10ارب ڈالر سے بڑھ کر80ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے بس کچھ ہی دنوں کا انتظار ہے کہ ہندوستان اس شعبہ میں ٹاپ10ممالک کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمین پر اس کے اثرات کہیں نظرنہیں آرہے ہیں۔ صرف یہی معیشت نہیں بلکہ معیشت کے دیگر تمام شعبۂ جات بھی عوام کیلئے بے فیض ثابت ہورہے ہیں۔مہنگائی دیو ہیکل شکل اختیار کرچکی ہے۔ خردہ مہنگائی اپریل میں لگاتار ساتویں مہینے بڑھ کر 7.79 فیصد پر8سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تھوک سامانوں کی مہنگائی 13 ماہ سے دوہرے ہندسوں میں ہے اور اپریل میں یہ 15.08 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھو گئی۔اب اس مہنگائی کو قابو کرنے کیلئے ریپوریٹ میں اضافہ کا کند ہتھیار لیے ریزروبینک آف انڈیا(آر بی آئی)میدان عمل میںکود پڑا ہے۔اس سے قبل بھی درجنوں باریہ ترکیب آزمائی جاچکی ہے لیکن ’مرض بڑھتاگیا جوں جوںدوا کی‘ کے مصداق بڑھتی مہنگائی کیلئے ریپوریٹ میں اضافہ کی ترکیب ہمیشہ ہی بے اثر ثابت ہوئی ہے۔ ابھی گزشتہ مہینہ ہی ریپوریٹ میں0.40فیصد کا اضافہ کیاگیا تھا، اس کے نتائج حوصلہ بخش نہیں آئے۔اس کے باوجود آر بی آئی اس ماہ بھی یہی ترکیب آزمارہا ہے۔اس مہینے 0.50 فیصد بڑھائے جانے کے بعد ریپو ریٹ کی نئی شرح 4.90 فیصد ہو گئی ہے۔ریپو ریٹ میں اضافے کا سیدھا مطلب ہے کہ بینکوں کو ریزرو بینک سے مہنگی شرح پر قرض ملے گا جس کی وجہ سے بینک یہ اضافہ اپنے صارفین کو منتقل کر دیں گے،اس کا منفی اثر عوام پرپڑے گا۔قرض کی شرح مہنگی ہوجائے گی، چیزوں کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔اب تک یہی مشاہدہ میں آیا ہے کہ حکومت کی مختلف اسکیموں سے صرف سرمایہ داروں کی تجوریاں ہی بھری ہیں۔عوام کی حالت زارمیں کوئی بہتری نہیںآئی ہے۔تعلیم، علاج اور دوسری بنیادی ضروریات زندگی غریب عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں، ایسے میں ریپوریٹ کا اضافہ اس دوری میں اضافہ کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ روزگار خیز اسکیمیں وضع کی جائیں،بے روزگاری دور کرنے کی راہ ڈھونڈی جائے اور عوام کے ہاتھوں میں پیسے پہنچائے جائیں تاکہ ان کی قوت خرید میں اضافہ ہو، لیکن اس سمت حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔
نریندر مودی نے 2014 میں عوام کے ذہنوں میں بے روزگاری، مہنگائی اور بدعنوانی جیسے سنگین مسائل کا خوف بھر کر اقتدار حاصل کیا تھا۔بی جے پی اس وقت کی یو پی اے حکومت کی مبینہ ناکامیوں کا وہ ڈھنڈورہ پیٹ رہی تھی کہ جیسے ملک مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہو۔اس کے مقابلے میں ’ اچھے دنوں ‘ کی نوید سنائی گئی اور بی جے پی کے اس گمراہ کن نعرے کے فریب میں آکرعوام نے اسے اقتدار سونپ دیا۔پانچ سال لوگوں نے اچھے دنوں کی امید میں گزار دیے۔ دھیرے دھیرے اچھے دنوں کے نعرہ کاکھوکھلا پن سامنے آیا۔دوسری بار 2019کے انتخاب سے پہلے عوام کوایک بار پھر گمراہ کیاگیا ،پلوامہ اور بالا کوٹ کو انتخابی ہتھیار بناکر عوام کے ذہن میں ’ محفوظ ہاتھوں‘ کا تصور ابھاراگیا اور عوام نے اپنی ضرورتوں پر قوم کو ترجیح دی کہ ملک محفوظ ہاتھوں میں ہوناچاہیے۔ لیکن اس باربھی عوام کو دھوکہ کا ہی سامنا ہے۔
موجودہ مہنگائی اور افراط زر سے نمٹنے میں ریپوریٹ میں اضافہ کایہ کند ہتھیار کتنا کارگر ہوگا یہ تو آنے والے چند دنوں میں پتہ چل ہی جائے گالیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک طرف چین ہماری زمینوںپر بڑھاچلاآرہاہے تو دوسری طرف بے روزگاری، مہنگائی اور تباہ کن معاشی سست روی کا طوفان بلاخیز ہے جس نے حکومت کی ناکامی کو مزید عیاں کردیا ہے۔ملک کی ضرورت کے مطابق معیشت کو ہموار کرنے اور عوام کی حالت زار کو سمجھنے کیلئے جس حساسیت اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے،اس کا اس وقت مودی حکومت میں فقدان ہے۔بہترتویہ ہوگا کہ بایواکنامی میں 8 گنا اضافہ کا ڈھول پیٹنے اورریپوریٹ میںاضافہ کی بے فیض کوشش کے بجائے حکومت اس اضافہ کا فائدہ عوام تک پہنچانے اورا نہیں مہنگائی اور بے روزگاری کی اذیت سے نکالنے کی ٹھوس کارروائی کرے۔
[email protected]