ٹیپو سلطان پر کرناٹک میں پھر گرم ہوئی سیاست

0

نئی دہلی(ایجنسیاں)کرناٹک میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہوں گے اور بی جے پی ایک بار پھر دوبارہ اقتدار کی کوشش کرنے کے ارادے سے انتخابی مہم چلائے گی۔ فی الحال ہماچل میں کل اور گجرات میں یکم دسمبر اور5دسمبرکو اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ان دنوں چھوٹے بڑے واقعات حالات پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ ایسا ہی کچھ مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی کے ایک قدم سے ہوا۔ جس پر اب بی جے پی نے ہندو کارڈ کھیلا ہے۔ اسد الدین اویسی کے کرناٹک کے ہبلی عیدگاہ میدان میں ٹیپو جینتی منانے کے ایک دن بعد، بی جے پی نے سخت حملہ کیا ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ ٹیپو سلطان کوئی ایسے مجاہد آزادی نہیں تھے کہ ان کا یوم پیدائش منایاجائے لیکن اویسی سے اس سے زیادہ کچھ بھی امید نہیں کی جا سکتی جن کے سیاسی آباو¿ اجداد رضاکار تھے۔ جنہوں نے حیدرآباد میں ہندوو¿ں کا قتل عام کیا۔
ٹیپو جینتی منانے کا اعلان سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اس وقت کیا تھا جب کانگریس اقتدار میں تھی۔ تاریخ 10 نومبر مقرر کی گئی۔ حالانکہ ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش یکم دسمبر کو ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے ٹیپو جینتی کی تقریبات کو منسوخ کر دیا۔حالانکہ، بلدیاتی ادارے نے عیدگاہ گراو¿نڈ میں ہونے والی تقریبات کے لیے ایم آئی ایم کو منظوری دے دی۔ اب تنازع کو ہوا دیتے ہوئے، بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے جمعہ کو کہا کہ ٹیپو سلطان ایک ظالم حکمراں تھا جس کی وراثت ایک دھبہ ہے۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ٹیپو جینتی منانا مسلمانوں سمیت تمام ہندوستانیوں کے جذبات کی توہین ہے۔