سیاسی زبان اور سیاست دانوں کی زبان : سرحدیں کیوں بار بار ٹوٹتی ہیں !

0

ایک مدّت کے بعد لالو یادو واردِ عظیم آباد کیا ہوئے،ان کی دیسی زبان سے ہندستانی سیاست میں بھونچال آ گیا
صفدرا مام قادری

تنازعات اور سیاست کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ اگر دونوں کو علاحدہ کر دیا جائے تو آسانی سے کسی کا وجود قایم نہیں رہ سکتا۔پُرانی سیاست کی بات الگ ہے مگر آج سیاست دانوں کا وجود انھیں جھمیلوں پر اکثر و بیشتر قایم نظر آتا ہے۔جیل جانے سے لے کر مالی خرد برد، دستاویزات میں ہیرا پھیری اور انکم ٹیکس کا ریڈ؛ ہر کام میں سیاست دان اپنی شہرت اور حسبِ ضرورت ووٹ کے حصول کی جگت بھیڑا لیتے ہیں ۔یہ قوم تو مرنے مارنے سے لے کر دوا علاج کے کاموں میں بھی اپنی عزت ،شہرت اور بالآخر ووٹ حاصل کرنے کا راستہ تلاش کر لیتی ہیں۔ابھی ۶۱ جنوری کو کورونا کے لیے پہلی ویکسن کا اعلان اور پھرسو کروڑ کے نشانے کا جشن ،سب سیاسی کھیل اور فائدے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔فسادات میں لہو لہان ہونے،کورونا میں بغیر علاج اور بغیر آکسیجن کے سڑکوں پر بے یا ر و مدد گار مرنے کا بھی اس ملک میں جشن قایم ہوا تھا۔ اس لیے اتنے برس بعد اگر لالو یادو پے بہ پے ضمانت اور صحت کی مشکلات سے مقابلہ کرتے ہوئے جب گھر آئیں گے تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ کوئی ہنگامہ اور جشن نہ ہو اور پھر اس کے بطن سے کوئی تنازعہ نہ کھڑا ہو جائے!
دو روز قبل لالو یادو جب پٹنہ ائیرپورٹ سے باہر نکلے تو حسبِ موقع صحافیوں نے ان کا استقبال ہزار سوالوں کے بوچھار سے کیا۔یہ روایت بھی ہے کہ فوجی کا استقبال بندوق اور گولی بارود سے ہوتا ہے۔اس لیے لالو یادو جیسے منجھے ہوئے سیاست دان کا استقبال لفظوں کی جنگ کے بیچ ہونا ہی چاہیے تھا۔وہ راشٹریہ جنتا دل کے قومی صدر ہیں اور پارٹی سپریمو کا درجہ رکھتے ہیں، اس لیے صحافیوں نے ذیلی انتخاب میں کانگریس کے ساتھ تال میل کیوں نہ بٹھایا گیا، اس پر بنیادی سوال پوچھا ۔لالو یادو اگر چہ سگریٹ نوشی کرتے ہوئے کبھی پائے نہیں گئے بلکہ ایک زمانے میں اس کا دیشی روپ کھینی کے عوامی طور پہ کھانے والے نظر آتے تھے مگر صحافیوں کے اس بنیادی سوال کو سگریٹ کے دھواں کی طرح انھوں نے اُڑاتے ہوئے اپنی طرف سے سوال پوچھ دیا کہ کس کا ایلائنس اور کس سے ایلائنس ؟ مقصد واضح تھا کہ ذیلی انتخاب میں ان کی پارٹی کانگریس کو سیٹیں نہیں دینے والی تھی، اور اس کے لیے ان کے نقطہ ¿ نظر سے کسی ایلائنس کا کوئی معنیٰ نہیں ہو سکتا تھا۔
سوال کے جواب میں سوال قایم کر دینا اور حریف کو اور اس موضوع کو غارت کر دینا لالو یادو کی سیاست کا مرغوب اور آزمایا ہوا نسخہ رہا ہے۔مگر تربیت یافتہ صحافیوں کو اتنی مدّت کے بعد لالو یادو میسّر آئے تھے ،،وہ اتنی مختصر سی بات پر انھیں وہ چھوڑنے والے نہیں تھے۔انھوں نے بتایا کہ کانگریس سے راشٹریہ جنتا دل کا ایلائنس ٹوٹ رہا ہے۔لالو یادو نے پھر پوچھ دیا کہ یہ کون کہہ رہا ہے؟ کسی صحافی نے کانگریس کے سکریٹری اور صوبہ ¿ بہار کے ذمّہ دار بھکت چرن داس کا نام لیا ۔لالو یادو نے چھوٹتے ہی نیم ہوش مندی اور نیم گمشدگی میں تُک بندی کی پُرانی لت اور متشابہ الصوت الفاظ کے کھیل تماشے کا استعمال کرتے ہوئے پھر باتوں کو ہوا میں اُڑانے کا ایک انداز پیش کیا ۔پہلے” بھک چونھر یادو“ کہا پھر اپنے دیسی پن حسِّ مزاح اور لطف اندوزی کی منتہا پر پہنچتے ہوئے نیم مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ” ای بھک چنھرے ہے۔“ حالاں کہ عام زبان میں بھی اپنے مافی الضمیر کو واضح کرنے کے لیے انھوں نے چند اور جملے پیش کیے۔ کہا کہ کانگریس کو مقابلہ ہارنے کے ہم سیٹ ابھی کیوں دیںگے۔واضح رہے کہ ضمنی انتخاب میں صرف دو سیٹوں کے لیے مقابلہ آرائی ہے ۔گذشتہ انتخاب میں راشٹریہ جنتا دل ہی نہیں ،تمام سیاسی مشاہدین نے یہ مانا کہ پچھلے انتخاب میں کانگریس کی موجودہ اور حقیقی حیثیت سے بڑھ کر ۰۷ سیٹیں دی گئی تھیں جن میں ۸۴ سیٹوں پر کانگریس ہار گئی جس کی وجہ سے محض چند سیٹوں کی وجہ سے سیکولر محاذ کی حکومت قایم نہ ہو سکی ۔ایسی حالت میں لالو یادو کا بیان بے حد واضح تھا مگر تنازعہ اصل موضوع سے الگ پہلے کے ارد گرد پیدا ہو گیا جو اَب آسانی سے ختم ہونے کا نہیں۔
ایک زمانے میںالسٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا کے ایڈیٹر پرتیش نندی کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ جس کا انٹرویو لیں گے، اس کے سلسلے سے کوئی نہ کوئی تنازعہ ضرور قائم ہوگا ۔بہت بار تو سیاست دانوں کو استعفیٰ بھی دینا پڑا۔دیوی لال ہندستان کے نائب وزیرِ اعظم تھے۔ ان سے پرتیش نندی نے ایک سوال پوچھا اور دیوی لال نے اس کا جواب دے دیا ۔انٹرویو شایع ہوا اور وزیرِ اعظم اتنے ناراض ہوئے کہ انھوں نے نائب وزیرِ اعظم کو برخاست کر دیا۔دیوی لال کہتے رہے کہ مجھے اس کی انگریزی کچھ سمجھ میں نہیں آئی اور میرے منھ سے کچھ دوسرا جواب نکل گیا۔معاملہ یہ تھا کہ دیو ی لال جتنی انگریزی سمجھتے تھے، اس سے زیادہ ہندی یا ہریانوی پرتیش نندی بھی نہیں جانتے تھے۔پانچ پانچ بادشاہوں کے درباری امیر خسرو کو جب پریشانی ہو گئی تو دوسروں کا کیا کہا جائے: زبانِ یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ غالب بھی درباری زحمتوں کا شکار ہوئے اور ہمیشہ رحمتوں کی چاہ میں بھٹکتے رہے ۔انھوں نے اپنا مسئلہ کچھ اس طرح سے بادشاہ کے سامنے پیش کیا:
مقطعے میں آ پڑی تھی سخن گسترانہ بات
منظور اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے
لالو یادو عوامی تحریکات اور اَن پڑھ اور پسماندہ طبقوں کی لڑائی لڑتے ہوئے میدانِ سیاست میں اُبھرے ۔ان کی پشت پر روایت کے طور پر رام منوہر لوہیا، جے پرکاش نارائن اور کرپوری ٹھاکر کی سیاسی قیادت رہی ہے۔کھیت اور کھلیان ، گائے بھینس چرانا اور ننگی آنکھوں سے اپنی اور اپنے ہم وطنوں کی غربت ،مفلوک الحالی اور پسماندگی دیکھنے کا انھیں موقع ملا۔بھوجپوری زبان کے علاقے میں وہ پیدا ہوئے اور اسی زبان کے بولنے والوں کے پیچ وہ آگے بڑھے۔ان کی اہلیہ اور بال بچوں کے درمیان جن لوگوں نے گفتگو کرتے انھیںدیکھا ہے، وہ بھوجپوری زبان میں ہی بولتے چالتے رہے ہیں۔پُرانے سیاست دانوں میں سابق وزیرِ اعظم چندرشیکھر ،اپنے سیاسی دوستوں میں سب سے پُرانے ساتھی شیوا نند تیواری سے وہ اب بھی اسی بھوجپوری زبان میں گفتگو کرتے ہیں ۔۷۷۹۱ میں جب وہ پہلی بار پارلیمنٹ کا رکن بنے اور تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے اپنے حریف کو شکستِ فاش دی، اس وقت بھی وہ عوامی جلسوں میں دھواں دھار بھوجپوری زبان میں محوِ کلام ہوتے تھے۔اب ۵۴ برسوں کے دوران ، ان کی سیاست اور عروج و زوال کا تجزیہ کیجیے تو یہ بات ایک کھُلی ہوئی حقیقت کے ساتھ سامنے آئے گی کہ وہ ابتدائی دور میں ہی اس بات کو سمجھ گئے تھے کہ کمزور لوگوں کی سیاست اور قیادت کے لیے اس طبقے کی زبان ، اس کے محاورات اور ضرب الامثال بھی عوامی طور پر انھیں پیش کرنا پڑیں گے۔
بھوجپوری زبان سے آشنائی نے انھیں عوامی زبان اور عوامی جذبات کا ایک محلول تیّار کرنے کا موقع عنایت کیا۔ وہ جے پرکاش نرائن کے شاگرد تو تھے مگر سیاسی مزاج میں رام منوہر لوہیا کا رکھڑا پن بھی انھوں نے اپنی جان سے عزیز رکھا تھا۔طنز و ظرافت اور مستند زبانوں کے الفاظ میں چھیڑ چھاڑ اور اشرافیہ زبان کے مقابلے ایک ہنستی، مسکراتی اور لڑکھڑاتی ہوئی زبانی کی تلاش میں انھیں کامیابی ملی ۔اب وہ آزادی سے ہم معنیٰ الفاظ تلاش کر سکتے تھے،گڑھ بھی سکتے تھے۔وہ تک بندی پیدا کر سکتے تھے اور تک بندی سے بڑھ کر با مقصد عوامی تجربات کی بنیاد پر کوئی کھیل کر سکتے تھے۔قواعد کی کتابوں میں ہم نے ہم صوت اور مشابہ الصوت الفاظ کی ایک مستند فہرست ملاحظہ کی ہے۔لالو یادو نے اس میں جب ضرورت محسوس ہوئی ، اپنا دیسی علم اور عوامی ذوق کو اُنڈیل کر ایک الگ خیال اور بیانیہ تیار کر دیا۔ یہ ان کی طویل سیاسی زندگی اور حیرت انگیز مقبولیت کی کلید ہے۔
لوگ جانتے ہیں کہ لالو یادو نے لاٹھی کی ریلی کر دی، لاٹھی میں تیل پلانے کو سیاسی معنوں میں استعمال کر لیا۔ اب تک دنیا ریلی جانتی تھی، انگریزی کا لفظ سیاست کی وجہ عوام میں مقبول ہو گیا تھا مگر لالو یادو نے کہا کہ ہم رَیلا نکالیں گے۔علمِ زبان کے ماہرین کے سامنے یہ سوال تھا کہ اب ریلی اور رَیلا میں کیا فرق ہوگا؟ریلی تو اپنی حقیقی آواز اور اسی تلفظ اور املا کے ساتھ مستعمل لفظ ہے مگر چوں کہ لالو کو اس کا بڑھ کر جواب دینا تھا،اس نے اس کی تذکیر پیدا کی اور رَیلا گڑھا ۔یہ عوامی زبان میں روانی، جوش اور بھیڑ کے لیے مستعمل لفظ تھا مگر ریلی کی تانیثی شکل کے مقابلے میں رَیلا کو تذکیری حیثیت دے کر اپنی زبان دانی کے بل بوتے پرانھوں نے ایک مکمل سیاسی کھیل دیا تھا۔
ابھی وہ عمر اور صحت کے ساتھ مقدّمہ در مقدّمہ کی فضیحت میں الجھ کر ایک طرح کی پسپا سیاسی زندگی میں شکست خوردہ نظرآتے ہیں ۔غالب کے آخری دور میں جب ان سے ان کا کوئی شاگرد تازہ کلام طلب کرتا تو وہ اپنے بارے میں کہتے تھے کہ میں بوڑھے پہلوان کی طرح صرف پینچ بتا سکتا ہوں ۔کم و بیش لالو یادو کی بھی اب وہی حیثیت ہے مگر لالو نے جب بھکت چرن داس کو اپنی سیاسی زبان دانی میں پھنساتے ہوئے” بھک چونھر“ کہا تو سب کے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ یہ شخص اپنی زنبیل میں سارے سیاسی پینچ محفوظ رکھتا ہے اور اسے درکنار کرکے سماج الگ نہیں ہو سکتا۔یہ عجب اتّفاق ہے کہ کانگریس نے اسے ہتکِ عزت سمجھا۔ میرا کمار جیسی سمجھی لیڈر نے دلت کی تذلیل قرار دیا ۔افسوس آج ہندستانی سیاست نفع نقصان کے کھیل میں کچھ اس طرح پورے طور پر مبتلا ہوگئی ہے کہ اسے کسی سیاسی گفتگو میں نہ لطفِ زبان کو تلاش کرنے کا موقع ملتا ہے اور نہ طنز و ظرافت کے لیے کسی دشمن کو داد دینے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ہم ارود شاعری کے تربیت یافتہ ہیں ۔ابولکلام آزاد نے غبار خاطر کے ایک خط میں نے لکھا :ہائے کمبخت تونے پی ہی نہیں۔ ایک شاعر نے کہا : ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا۔ ایک شاعر نے کہا: ظالم شراب ہے، ارے ظالم شراب ہے۔مرزا مظہر جانِ جاناں نے کہا:
خدا کے واسطے اس کے نہ ٹوکو
یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے
اردو میں کافر کہہ کر محبوب کو جو عزت دی گئی ہے اور جنابِ شیخ کو جو بار بار ذلت اور رسوائی میسّر آتی ہے، اگر ہمارے اسلاف نے زباں فہمی اور زباں شناسی کا ایک خوش گوار اورلچیلاماحول نہ قایم کیا ہوتا تو ہم سب لالو یادو کے لفظوں میں بھک چونھر داس ہی ہو گئے ہوتے۔دھتّ تیری کے ۔یہی دھت بھوجپوری میں بھک ہو گیا ہے۔کبھی حیرت میں ،کھی لاچاری میں اور کبھی ناراضگی میں بولتے ہیں۔جب نظر آنے والی چیز کسی کو نہ دکھائی دے تو بھوجپوری بولنے والا اور کیا بولے گا۔ملے جلے جذبے کے ساتھ بھک چونھر ہی بولے گا ۔جب آنکھیں چندھیا جائیں گی تو کسی کو نظر کہاں آئے گا۔اسی چندھیانے سے چنھر بنا ۔حقیقت دکھائی نہیں دے رہی ہے تو لالو یادو کو دیسی زبان اور محاورے پر قدرت ہے، اس نے کچھ تُک بندی کی،کچھ مشابہ الصوت کو آزمایا اور اپنے سیاسی عندیے کو ظریفانہ لبادے میں پیش کر کے اپنے حریف کو کہہ سنایا۔بھیک چونھر۔ ہندستانی سیاست میں اس بوڑھے شیر کو اس کی سیاسی زبان دانی کی کو ن دا ددے گا؟ آج رام منوہر لوہیا ہوتے تو لالو یادو کو سر پر بٹھا لیتے۔ وہ بھلے جرمنی کے پی ایچ۔ ڈی تھے مگر دیسی زبان کے استعمال کے طرف دار تھے۔
[مقالہ نگار کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ میں اردو کے استاد ہیں]
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here