پی ایف آئی – ہندوستان کی اخوان المسلمین

0

کشش وارثی
اخوان المسلمین ایک انتہا پسند، سخت گیر نظریات والی جماعت ہے جس کا اپنا مضبوط اقتصادی ڈھانچہ ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی موجودگی ہے۔ اخوان المسلمین جس مربوط انداز سے کام کرتی ہے جو اس کی حالات کے مطابق روپ ڈھانے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ اپنے اقتصادی نظام کی وجہ سے یہ تنظیم برقرار اور قائم ہے۔ اس کے اقتصادی نظام اور ڈھانچہ پر رازداری کا دبیز پر پردا پڑا ہوا ہے۔ اس تحریک کو اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا اگر اس کے پاس کوئی اقتصادی ڈھانچہ نہ ہو۔ اخوان المسلمین اقتصادی آپریشن میں غیر منصوبہ بند طریقے سے کام نہیں کررہی ہے، بلکہ اس کا نظام کافی مضبوط مربوط اور اس کا سپریم ورک زمینی سطح پر نہیں ہے اور قانونی طور پر درست ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخوان المسلمین اپنی آئیڈیالوجی کو معیشت کے ذریعہ پھیلانے میں کامیاب رہی ہے۔
مصر سے شروع ہونے والی تحریک کے بنیاد گزاروں نے ایک مضبوط عالمی، اقتصادی نظام قائم کرنے میں بہت محنت کی۔ ابتدا میں اس تنظیم نے ممبران سے ممبر شپ عطیہ لیا اور اسلا م کے اصولوں پر حاصل ہونے والے زکوٰۃ سے اقتصادی نظام کو مضبوط بنایا۔
جیسے جیسے یہ نظام بڑا ہوا، اور پھیلا، اسی طرح’ دعوہ‘ کے انتظامی ڈھانچے بھی بنا یا اور اس نظام نے بھی اخوان المسلمین کو اقتصادی اساس فراہم کی۔ اس کے علاوہ ہر تعمیر ہونے والی مسجد زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے کا مرکز بنی اور اس سے تنظیم مضبوط ہوئی۔ ہر اسلامک سینٹر رقم جمع کرنے کا مرکز بن گیا اور تاجروں نے اس زکوٰۃ کے نظام میں رقم جمع کرانی شروع کردی۔
1950کی دہائی میں پولیس اور سیکورٹی کی کارروائی کے باوجود اخوان المسلمین نے عرب ممالک میں اپنی جڑوں کو پھیلایا ۔ خاص طور پر خلیجی ملکوں میں اس نے اپنی گرفت مضبوط بنائی۔ اخوان المسلمین نے ساتھ ساتھ یوروپی ممالک میں اپنے باقاعدہ ادارے قائم کردیے جو کہ حالات پر گہری نظر رکھتے تھے اور ابتدائی طور پر تجارتی جماعتوں اورکمیٹیوں کے ساتھ تامل میل بنا یا۔ جیسا کہ پورے براعظم میں پھیلنے سے پہلے میونخ کی مسجد میں یہ نظام بنا۔ بعدازاں بہت دیر میں جا کر یہ گروپ عوامی زندگی میں نظرآیا۔ یہ صورت حال یوروپ میں بطور خاص دیکھی گئی۔ 1990کی دہائی کے ابتدائی ایام میں اس گروپ کی ممبر شپ پھیلی تو اس کے مقاصد ثقافتی اور سماجی ذمہ داری سے بھی آگے بڑھے۔ اخوان المسلمین کے ممبران صرف تجارتی مفادات کو لے کر آگے بڑھے۔ جس کو ہم حلال تجارت کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی سطح پر سرگرم گروپ بہت زیادہ پھیل گئے۔
اخوان المسلمین کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یوروپ میں یہ تشدد اور دہشت گردانہ وارداتوں کو مالی مدد پہنچانے میں اس نے اہم رول ادا کیا ۔ اس کی وجہ تھی کہ مسلم فرقہ میں اپنا مقام بنایا۔ اولاً تنظیم نے انسانی فلاح وبہبود کے کام کیے۔ ہمدردی حاصل کیے اپنے کام کو دکھا کر رقومات جمع کیں اور پھر اس رقم سے انہوںنے یوروپ میں دہشت گردی کو فروغ دیا۔
آسٹریا نے اخوان المسلمین کو ملک سے نکال دیا ہے۔ جرمنی بھی اسی راہ پر ہے۔ فرانس میں بھی اخوان المسلمین کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ سخت گیر نظریاتی کو فروغ دے رہے ہیں۔ فرانس کے سیاست داں نپتھابی عولی نے اسلامک ریلیف آرگنائزیشنوں کو ٹارگیٹ کیا ہے ان کاکہنا ہے کہ یہ تنظیمیں دہشت گردوں کو رقوم پہنچا رہی ہیں اور فلسطین میں حماس جیسی تنظیموں سے ان کو حمایت مل رہی ہے۔ ان کے افسران یہودیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر پیغامات نشر کررہے ہیں۔ اسی طرح کے حالات پیدا ہونے کی وجہ سے اخوان المسلمین سماج میں مسلمانوں کے گھلنے ملنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ یہ مسئلہ اس قدر سنگین اس لیے ہوگیا ہے کہ اخوان المسلمین اپنے وسائل کو سخت گیر بنیاد نظریات کو فروغ دینے کے لیے استعمال کررہی ہے اور اب یوروپی ممالک کو دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔
سرزمین ہندوستان میں پیدا ہونے والی تنظیمیں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)اسی حکمت عملی پر عمل کررہی ہے اور وہی راستہ اختیار کررہی ہے جو اخوان المسلمین نے اختیار کیا ہے۔ پی ایف آئی نے اپنے آپ کو سماجی خدمات کے جامہ میں چھپا رکھا ہوا ہے مگر اس کی اصل منشا کہیں اور پوشیدہ ہے۔ پی ایف آئی کا اصل چہرہ لگاتار پرتشدد سرگرمیوں میں نظر آتا ہے۔
اخوان المسلمین کے اقتصادی تعاون کے وسائل سعودی عرب اور اس کے حلیفوں اوریوروپی ملکوں سے بھی ملتے ہیں۔ یہ وسائل آن لائن لین دین سے ملتے ہیں۔ ان ممالک نے زکوٰۃ کی تقسیم کے معاملہ پر کچھ پابندیاں عائد کی ہیں اور خاص طور پر آن لائن لین دین پر قدغن لگائی ہے کیونکہ الزام ہے کہ اخوان المسلمین کو جو عطیات ملتے رہے ہیں وہ اسی طرح سے ملے ہیں۔ پی ایف آئی کو ہم درست طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اخوان المسلمین کا ہندوستانی روپ ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہندوستان میں اس طرح کے طریقے استعمال کریں جو مصر اور فرانس میں استعمال ہورہے ہیں۔
(مصنف صوفی اسلامک بورڈ کے قومی ترجمان ہیں )